سائنس و ٹیکنالوجیتازہ ترین

پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ فریم ورک آخری مراحل میں داخل، جلد حتمی شکل دے دی جائے گی: شزہ فاطمہ خواجہ

حکومت کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کو سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کا اعلان؛ موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق 38 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
قیصر مغل-ادارت

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات کے آغاز اور ان کی فراہمی کے لیے فکسڈ سیٹلائٹ سروس (FSS) فریم ورک کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، جسے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔ حکومت سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو سازگار، شفاف اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ملک کے دور دراز اور کم سہولت یافتہ علاقوں تک جدید ڈیجیٹل رابطوں کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار ڈیجیٹل تبدیلی اور یونیورسل سروس فنڈ (USF) کے حوالے سے منعقدہ ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی (APT) سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اب محض ایک سہولت نہیں رہی بلکہ تعلیم، صحت، معاشی ترقی، قدرتی آفات سے نمٹنے، سرکاری خدمات کی فراہمی اور قومی سلامتی کے لیے بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق حکومت پاکستان ملک میں انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے، موبائل اور براڈ بینڈ خدمات کی رسائی بڑھانے، آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کو وسعت دینے اور نئی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ ان کوششوں کا مقصد شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق کم کرنا اور زیادہ سے زیادہ شہریوں کو ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانا ہے۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے لیے FSS فریم ورک آخری مراحل میں

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں فکسڈ سیٹلائٹ سروس (FSS) فریم ورک کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت مکمل ہونے کے بعد اسے جلد حتمی شکل دینے کا ارادہ ہے، جس کے نتیجے میں سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ خدمات کی فراہمی کے لیے ضابطہ جاتی بنیاد مزید واضح ہو سکے گی۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ بالخصوص ان علاقوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے جہاں روایتی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک، موبائل ٹاورز یا زمینی فائبر کنکشن بچھانا جغرافیائی، تکنیکی یا مالی مشکلات کے باعث آسان نہیں ہوتا۔ پاکستان کے پہاڑی علاقوں، دور افتادہ دیہات اور کم آبادی والے خطوں میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے رابطوں کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

فکسڈ سیٹلائٹ سروس کے لیے واضح فریم ورک کی موجودگی سے متعلقہ کمپنیوں کو لائسنسنگ، ضابطہ جاتی تقاضوں اور خدمات کی فراہمی کے اصولوں کے بارے میں رہنمائی ملنے کی توقع ہے۔ اس سے سرمایہ کاری کے فیصلوں اور نئی خدمات کی منصوبہ بندی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو کاروبار دوست ماحول فراہم کرے گی۔ تاہم، فریم ورک کی حتمی منظوری، لائسنسنگ کی شرائط، خدمات کے آغاز کی تاریخ اور متعلقہ کمپنیوں کے لیے قابلِ اطلاق ضوابط کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس کے عملی دائرۂ کار کی مکمل وضاحت ہو سکے گی۔

موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق نمایاں طور پر کم

وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل شمولیت کے حوالے سے پاکستان کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں مردوں اور خواتین کے درمیان صنفی فرق 38 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا ہے۔

ان کے مطابق جی ایس ایم اے (GSMA) کے حوالے سے گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کم کرنے کے معاملے میں دنیا کی تیز رفتار پیش رفت کرنے والی مثالوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

موبائل انٹرنیٹ تک خواتین کی رسائی میں بہتری ڈیجیٹل شمولیت کے لیے اہم ہے، کیونکہ اس سے تعلیم، آن لائن کاروبار، روزگار، مالیاتی خدمات، صحت سے متعلق معلومات اور سرکاری سہولتوں تک رسائی کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔

پاکستان میں خواتین کو ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی دینے کے لیے صرف نیٹ ورک کی دستیابی کافی نہیں، بلکہ اسمارٹ فون یا دوسرے موزوں آلات کی استطاعت، ڈیجیٹل خواندگی، آن لائن تحفظ اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ خدمات بھی اہم عوامل ہیں۔

وفاقی وزیر کے بیان کے مطابق صنفی فرق میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موبائل انٹرنیٹ کی رسائی میں بہتری آئی ہے۔ مستقبل میں اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوگا کہ خواتین اور دیگر محروم طبقات کو ڈیجیٹل سہولتوں کے استعمال میں درپیش رکاوٹیں بھی کم کی جائیں۔

ڈھائی سال میں تین نئی سب میرین کیبلز پاکستان پہنچ گئیں

شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران پاکستان میں تین نئی سب میرین انٹرنیٹ کیبلز پہنچی ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی انٹرنیٹ رابطوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے متبادل راستوں اور نئے کیبل کنکشنز پر بھی کام جاری ہے۔

سب میرین کیبلز عالمی انٹرنیٹ نظام کا بنیادی حصہ ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے مختلف ممالک اور براعظموں کے درمیان ڈیٹا منتقل کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے بین الاقوامی انٹرنیٹ رابطوں میں اضافے اور متبادل راستوں کی دستیابی سے نیٹ ورک کی استعداد بڑھ

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button