کالمزناصف اعوان

گزرتے لمحوں کی آنچ !…….ناصف اعوان

اس طرح وہی نظام وہی انداز حکمرانی رہتا ہے جس میں عوام کے بنیادی حقوق کسی کونے کھدرے میں پڑے ہوتے ہیں

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

یہ جو نظام زندگی ہے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا. یہی وجہ ہے کہ اس میں انہیں بہت سی مشکلات پیش آ رہی ہے لہذا لازمی ہے کہ نیا نظام لایا جائے جو سیاسی سماجی اور معاشی ڈھانچے کو درست کرسکے اور پھیلی ہوئی بے چینی‘ غربت افلاس‘ ناانصافی اور بے روزگاری کے اژدھا سے جان چھوٹ سکے مگر ہمارے روایتی حکمران پرانے طرز سیاست معاشرت اور معیشت کو ہی ترجیح دے رہے ہیں جس سے کوئی منصوبہ بھی عوام کو خاطر خواہ سہولتیں فراہم نہیں کر پا رہا اور جب کبھی عوام شدید بے چین ہو جاتے ہیں تو سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہی نظام وہی انداز حکمرانی رہتا ہے جس میں عوام کے بنیادی حقوق کسی کونے کھدرے میں پڑے ہوتے ہیں اور جب وہ اس کے حصول کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کو سخت قوانین کے ذریعے خاموش کر دیا جاتا ہے ۔ بس یہی سلسلہ ہے جو اناسی برس سے جاری و ساری ہے ۔ عوام دھائی دے رہے ہیں مگر اہل اقتدار پُر آسائش زندگی بسر کر رہے ہیں انہیں کسی سے ہمدردی ہے نا ہی کسی کے دُکھوں کا احساس‘ کیونکہ وہ اقتدار ہمیشہ شاباشی راستے سے حاصل کرتے ہیں ۔ ان میں ایک بندہ ایسا بھی ہوتا ہے جو آئی ایم ایف کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے لہذا ایسے منصوبے بنتے ہیں جو غیر پیداواری ہوتے ہیں مگر چونکہ ان کی قسطیں ادا کرنا ہوتی ہیں لہذا غریب عوام پر ٹیکس ٹھونس دئیے جاتے ہیں جبکہ وہ امیروں پر لگائے جانے چاہییں۔ یہ ناانصافی سراسر ہے مگر عوام کر کچھ نہیں سکتے۔ بے بس ہوتے ہیں۔ لب کشائی کرتے ہیں تو زیر عتاب آجاتے ہیں اس کے باوجود احتجاجی شور تھمتا نہیں کہیں نہ کہیں سے بلند ہوتا رہتا ہے اب تو یہ کچھ زیادہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ اس میں ایک سیاسی جماعت جو ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے کے سربراہ کی رہائی کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں مگر وہ موثر ثابت نہیں ہو رہیں کیونکہ وہ نیم دلانہ ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سی بلند آوازوں کو ساری سہولتیں میسر ہیں بھاری بھرکم تنخواہیں بھی لے رہی ہیں دیگر مراعات بھی انہیں حاصل ہیں لہذا انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ کہیں کہ ”آبیل مجھے مار“ لہذا وہ کارروائی کے لئے تھوڑا بہت شور مچا دیتی ہیں مگر ایک طرح سے وہ ٹھیک بھی کر رہی ہیں کہ سیاست میں حکمت عملی سے بھی کام لیا جاتا ہے مگر ان کے سربراہ اس بات کو نہیں مانتے۔ اگر وہ فریق اول کی چند باتوں کو مان لیں تو اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں اس سے ان کی سوچ نہیں بدل جاتی پھر عوام جتنا انہیں اس وقت چاہتے ہیں اس میں معمولی کمی بھی نہیں آئے گی۔
بہرحال یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ جیل میں رہنا چاہتے ہیں یا اس کے باہر مگر ان کے کارکنوں اور ہمدردوں کے لئے نئے نئے مسائل پیدا ہوتے جارہے ہیں کیونکہ حکومت جو قوانین لارہی ہے اس سے وہ یقیناً متاثر ہوں گے بلکہ ہونا شروع ہو چکے ہیں لہذا خان صاحب کو ان کی خاطر کچھ نہ کچھ ضرور سوچنا ہو گا۔
بات کا رخ ذرا دوسری طرف مڑ گیا اس نظام کو جسے اب تبدیل کر دینا چاہیے نہیں بدلا جا رہا کیونکہ اس کے محافظ اسی میں ہی اپنی بقا سمجھتے ہیں لہذا موجودہ حکمران طبقات عوام میں پائے جانے والے اضطراب کے پیش نظر چاہتے ہیں کہ چہرے تبدیل کر دئیے جائیں جو قدرے نرم مزاج ہوں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے آنے سے عام آدمی کی زندگی پر خوشگوار اثرات مرتب ہو سکیں گے کہ جب لینا قرضہ ہے اور لگانے ٹیکس ہیں تو وہ اُجڑے باغوں میں کیسے بہار لا سکتے ہیں شاید ان کے پاس الہ دین کا چراغ ہو گا کہ جسے رگڑیں گے تو کوئی بڑا سا جن نمودار ہو جائے گا اور وہ پوچھے گا کہ کیا حکم ہے میرے آقا اور اسے حکم ملے گا کہ جتنا قرضہ پاکستان پر چڑھا ہوا ہے اتنا پیسا کہیں سے لے آؤ تاکہ قرضہ اتارا جاسکے۔ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ موجودہ نظام کو گھما پھرا کر لانا مسائل کا حل نہیں اور نہ ہی عوام کے تحفظات و خدشات کو دُور کیا جا سکتا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ جب تک ملک میں جمہوریت اور جمہوری ادارے مستحکم نہیں ہوتے تب تک معیشت مضبوط وتوانا نہیں ہو سکتی لہذا بنیادی مسئلہ کی جانب آیا جائے کہ جس کو حل کیے بغیر نسیم صبح کے لمس سے محظوظ نہیں ہوا جا سکتا۔ ایک اور اہم مسئلہ بھی ہے جس کو ابھی تک نظر انداز کیا جا رہا ہے وہ ہے سیاسی عدم استحکام۔ اگر اسے خوش اسلوبی سے ختم کر لیاجاتا ہے تو ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں واقعتاً دودھ اور شہد کی نہریں بہہ نکلیں گی مگر دانا و بینا اس کو مسلہ نہیں سمجھ رہے لہذا بیرون سے سرمایہ اِدھر کا رخ کرنے سے ہچکچا رہا ہے اور جو موجود ہماری صنعتیں ہیں ان کی بھی سانسیں پھول رہی ہیں بہت سی تو ملک چھوڑ چکی ہیں جنہیں روکنا تھا وہ اقتدار کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں وگرنہ اگر وہ سنجیدہ اور عوام سے مخلص ہوں تو وہ ایران سے بجلی گیس اور تیل کا کوئی معاہدہ کرکے صورت حال کو تھوڑا تبدیل کر سکتے ہیں مگر سیاسی بے چینی کی موجودگی میں مکمل معاشی استحکام ممکن نہیں لہذا ٹھنڈے دل کے ساتھ سیاسی حالات کو دیکھا جائے فریقین ملک کے وسیع تر مفاد میں نرمی و لچک دکھائیں کیونکہ حالت موجود کا زیادہ دیر تک اسی طرح رہنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے جس کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے۔
بہرکیف ابھی تو افواہیں ہیں کہ یہ نظام بھی بدلے گا اور کچھ چہرے بھی اس کےکچھ کچھ آثار بھی دکھائی دے رہے ہیں کہ اندرون خانہ کُھسر پُھسر ہو رہی ہے لہذا ہمیں مایوس نہیں ہونا یہ ہر صورت بدلیں گے کیونکہ تبدیل ہونے کا عمل جاری رہتا ہے رُکتا کبھی نہیں اب تک انسانی تاریخ سے یہ بات واضح ہے لہذا آس کا پلہ ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے کہ اندھیرے ہمیشہ نہیں رہتے۔ اہل وطن نے اب تک بہت سی مشکلات کا سامنا کر لیا ہے لہذا حالات بدلنے کی طرف سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔ نئے سیاسی منظر میں یہ ضرور دیکھا جائے کہ جن اقدامات سے عوام کی آہیں نکل رہی ہیں ان کو تبدیل کیا جائے کیونکہ اِدھر سے اُدھر کرنے کی پالیسی اب کامیاب نہیں ہو سکتی کہ یہ دور بہت مختلف ہے۔ اب لوگ باشعور ہیں اور در پیش صورت حال سے بیزار بھی لہذا وہ اقتدار کی منتقلی سے دلچسپی نہیں رکھتے انہیں آسانیاں سہولتیں اور انصاف چاہیے جو کوئی یہ فراہم کرے گا وہ ان کی آنکھوں کا تارا بن جائے گا اور جو اس کے بر عکس عمل پیرا ہو گا وہ ان کی نظروں میں نہیں ٹھہر سکے گا کیونکہ انہوں نے ایک طویل عرصہ گزارا ہے اپنے حاکموں کو دیکھتے ہوئے کہ وہ انہیں حسیں وادیوں میں لے جانے کی بات کرتے رہے ہیں مگر اس پر عمل کبھی بھی نہیں کر سکے۔ جس سے اجتماعی بے چینی صاف دیکھی جا سکتی ہے لہذا اہل اقتدار اس کو اپنے طرز عمل سے ختم کر سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button