کالمزعلی عباس کاظمی

تبدیلی کہاں ہے؟…….علی عباس کاظمی

ریاست کی بنیاد آئین پر ہوتی ہے، کسی فرد کی مقبولیت، کسی جماعت کی عددی برتری یا کسی ادارے کی طاقت پر نہیں

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پاکستان میں حکومتیں بدلتی ہیں، اقتدار کے ایوانوں میں نئی صف بندیاں ہوتی ہیں، سیاسی جماعتیں نئے وعدوں کے ساتھ میدان میں اترتی ہیں اور مستقبل کے روشن خواب دکھائے جاتے ہیں، مگر عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی کی رفتار اتنی سست کیوں ہے؟ اگر قومی ترقی کے دعووں کے باوجود شہری کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں تو ہمیں ترقی کے اپنے تصور پر نظرثانی کرنا ہوگی۔پاکستان کا بنیادی مسئلہ محض یہ نہیں کہ یہاں حکومتیں اپنی مدت پوری نہیں کرتیں یا سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات رہتے ہیں۔ اصل خرابی اس طرزِ حکمرانی میں ہے جس میں اقتدار کی تبدیلی کو نظام کی تبدیلی سمجھ لیا جاتا ہے۔ چہرے بدل جاتے ہیں، لیکن فیصلے کرنے کا انداز، وسائل تقسیم کرنے کے اصول اور عوام سے برتاؤ کا طریقہ اکثر وہی رہتا ہے۔ ہر نئی حکومت اپنے پیش رو کو ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے، مگر جب اسے خود فیصلے کرنے کا اختیار ملتا ہے تو وہی پرانے معاشی دباؤ، وہی انتظامی کمزوریاں اور وہی غیر مساوی ترجیحات سامنے آ جاتی ہیں۔ عوام کو ہر بار ایک نئی امید فروخت کی جاتی ہے، لیکن کوئی یہ وضاحت نہیں کرتا کہ گزشتہ وعدے کیوں پورے نہ ہوئے اور اس مرتبہ ناکامی کی صورت میں جواب دہ کون ہوگا۔
ریاست کی بنیاد آئین پر ہوتی ہے، کسی فرد کی مقبولیت، کسی جماعت کی عددی برتری یا کسی ادارے کی طاقت پر نہیں۔ آئین صرف اقتدار حاصل کرنے اور اسے چلانے کے قواعد کا مجموعہ نہیں، بلکہ شہری اور ریاست کے درمیان ایک بنیادی معاہدہ بھی ہے۔ اس معاہدے کا تقاضا ہے کہ اختیارات اپنی مقررہ حدود میں استعمال ہوں، بنیادی حقوق محفوظ رہیں اور عوام کی رائے کو فیصلہ سازی میں حقیقی اہمیت حاصل ہو۔ اگر قانون کا اطلاق کمزور پر سخت اور طاقتور پر نرم ہو، اگر شہری اپنے حق کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہے اور بااثر شخص چند رابطوں سے کام نکلوا لے تو آئین کی موجودگی کے باوجود انصاف کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔ جب انتخابات کے نتائج پر سنجیدہ اعتراضات اٹھیں تو ان کا جواب سیاسی بیانات سے نہیں، شفاف تحقیقات اور قابلِ اعتماد قانونی طریقۂ کار سے دیا جانا چاہیے۔ عوام کو یہ یقین ہونا ضروری ہے کہ ان کا ووٹ محض ایک پرچی نہیں بلکہ قومی فیصلے میں ان کی شرکت کا معتبر ذریعہ ہے۔ اگر شہری کو یہ احساس ہونے لگے کہ اس کی رائے کا نتیجہ پہلے ہی کہیں اور طے ہو جاتا ہے تو جمہوری اداروں سے اس کا تعلق کمزور ہونے لگتا ہے۔ اس بے اعتمادی کا نقصان کسی ایک جماعت کو نہیں، پورے ملک کو پہنچتا ہے۔ ووٹ کی حرمت محفوظ نہ ہو تو سیاسی استحکام بھی محض ایک عارضی انتظام بن کر رہ جاتا ہے۔
تاہم انتخابی شفافیت ہی تمام مسائل کا حل نہیں۔ عوام کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے منتخب نمائندے اقتدار میں پہنچ کر ان کی زندگی میں کیا تبدیلی لاتے ہیں۔ جو جماعت حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے مہنگائی کے خلاف آواز اٹھاتی ہے، اسے حکومت میں آنے کے بعد اپنی معاشی پالیسیوں کا حساب بھی دینا چاہیے۔ جو رہنما عوامی حقوق کی بات کرتا ہے، اس کے فیصلوں میں بھی ان حقوق کی جھلک دکھائی دینی چاہیے۔ سیاسی وابستگی کسی جماعت کو تنقید سے بالاتر نہیں کر سکتی۔ اگر ہم اپنی پسندیدہ قیادت کی ہر غلطی کا دفاع اور مخالف کی ہر بات کی مخالفت کرنے لگیں تو جمہوریت شہری شعور کے بجائے گروہی وفاداریوں کا کھیل بن جاتی ہے۔ قومیں شخصیات کی اندھی حمایت سے نہیں، اصولوں کے یکساں اطلاق سے آگے بڑھتی ہیں۔معاشی بحران کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس کی قیمت اکثر وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کے پاس حالات بدلنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ ٹیکسوں، مہنگی بجلی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات کا دباؤ کم آمدنی والے خاندان کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ دوسری طرف قومی معیشت کی بہتری کے لیے ایسے فیصلے بھی ضروری ہوتے ہیں جن کے اثرات فوری طور پر محسوس نہیں کیے جا سکتے، مگر اصلاحات کا بوجھ مسلسل غریب شہری پر ڈال دینا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ معاشی استحکام صرف سرکاری اعداد و شمار بہتر ہونے کا نام نہیں۔ اگر قومی آمدنی میں اضافہ ہو لیکن مزدور کی قوتِ خرید کم ہوتی جائے، اگر سرمایہ کاری بڑھے مگر روزگار کے معیاری مواقع پیدا نہ ہوں، اور اگر مالیاتی خسارہ کم کرنے کی کوشش میں تعلیم و صحت عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائیں تو اس استحکام کے سماجی فائدے پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
پاکستان کو ایسی معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے جن میں آمدنی کے ذرائع بڑھانے، ٹیکس نظام کو منصفانہ بنانے، غیر ضروری اخراجات کم کرنے، پیداواری شعبوں کو مضبوط کرنے اور روزگار پیدا کرنے کو مرکزی اہمیت حاصل ہو۔ محض قرض لے کر وقتی بحران ٹال دینا مستقل حل نہیں۔ بیرونی مالی مدد کچھ مہلت ضرور دے سکتی ہے، لیکن ملک کو اس قابل بنانا ضروری ہے کہ وہ اپنی آمدنی، پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کر سکے۔ زراعت، صنعت، چھوٹے کاروبار اور ہنرمند نوجوانوں کے لیے قابلِ عمل مواقع پیدا کیے بغیر خوش حالی کا خواب ادھورا رہے گا۔ معاشی پالیسی کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگنا چاہیے کہ ایک عام خاندان کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان فاصلہ کم ہوا یا نہیں۔ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت سے انکار نہیں، لیکن منصوبہ اسی وقت عوامی خدمت بنتا ہے جب اس کا فائدہ شہریوں تک پہنچے۔ کسی علاقے میں نئی سڑک تعمیر کرنا مفید ہو سکتا ہے، اگر وہاں کے بچوں کے لیے معیاری اسکول، مریضوں کے لیے بنیادی علاج اور نوجوانوں کے لیے روزگار موجود نہ ہو تو ترقی کی تصویر نامکمل رہتی ہے۔ اسی طرح مستقبل کے بڑے منصوبوں کا اعلان کرنے سے پہلے موجودہ مسائل کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ ایک غریب خاندان کو کئی برس بعد کی خوش حالی کا وعدہ سنانے سے پہلے یہ بتانا ہوگا کہ وہ آج اپنے بچوں کو مناسب خوراک کیسے فراہم کرے، بجلی کا بل کیسے ادا کرے اور بیماری کی صورت میں علاج کہاں سے کرائے۔ دور اندیشی کا مطلب حال کو نظر انداز کرنا نہیں، بلکہ آج کے فیصلوں سے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔
صحت اور تعلیم کو حکومتی اخراجات کی فہرست میں محض دو شعبے سمجھنا بھی ایک بنیادی غلطی ہے۔ یہ دراصل انسانی صلاحیت، معاشی ترقی اور سماجی انصاف کی بنیادیں ہیں۔ جب ایک خاندان کو علاج کے لیے قرض لینا پڑے یا بچے کو غربت کے باعث تعلیم چھوڑنی پڑے تو نقصان صرف اس فرد کا نہیں ہوتا، ملک اپنی انسانی صلاحیت کا ایک حصہ کھو دیتا ہے۔ حکمران طبقہ اگر اپنے علاج اور بچوں کی تعلیم کے لیے نجی یا بیرونِ ملک سہولتوں پر انحصار کرتا ہے تو اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ عام شہری کے لیے سرکاری نظام قابلِ اعتماد کیوں نہیں بن سکا۔ عوام کا اعتماد تقریروں سے نہیں، اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انہیں اپنے ملک کے اداروں میں عزت، سہولت اور انصاف ملتا ہے۔اسی طرح دہشت گردی، بدامنی اور شہری عدم تحفظ کا مقابلہ بھی صرف طاقت کے استعمال تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کو تشدد کے خلاف مؤثر کارروائی کا حق اور ذمہ داری حاصل ہے، لیکن دیرپا امن کے لیے قانون کی حکمرانی، مقامی آبادی کا اعتماد، انصاف تک رسائی اور محرومیوں کا ازالہ بھی ضروری ہے۔ جن علاقوں کے لوگ مسلسل خوف، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کرتے ہیں، ان کے مسائل کو محض انتظامی رپورٹوں میں درج کر دینا کافی نہیں۔ ان کی آواز سنی جائے، ان کے جائز مطالبات کو اہمیت دی جائے اور ہر شہری کو یہ احساس دلایا جائے کہ ریاست اس کی جان، عزت اور حقوق کی محافظ ہے۔ امن صرف خاموشی کا نام نہیں، بلکہ ایسا ماحول ہے جس میں لوگ خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔
اگر ہم بدعنوانی کو اپنے فائدے کے وقت معمولی سمجھیں، سیاسی مخالف کی حق تلفی پر خاموش رہیں اور اپنے پسندیدہ رہنما سے جواب دہی کا مطالبہ نہ کریں تو پھر اسی طرزِ عمل کے خلاف شکایت کیسے مؤثر ہو سکتی ہے؟ شہری شعور کا مطلب ہر حکومت کی مخالفت کرنا نہیں، بلکہ درست فیصلے کی حمایت اور غلط فیصلے پر بلاامتیاز سوال اٹھانا ہے۔ تاہم شہری ذمہ داری کا حوالہ دے کر ریاستی اداروں اور حکمرانوں کی بنیادی جواب دہی سے توجہ ہٹانا بھی درست نہیں۔ عوام اور ریاست دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، لیکن اختیارات رکھنے والوں پر ذمہ داری بھی زیادہ عائد ہوتی ہے۔پاکستان کو کسی ایک نجات دہندہ، کسی جادوئی معاشی نسخے یا کسی نئے سیاسی پھَکی کی ضرورت نہیں۔ اسے ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں قانون طاقتور کے لیے بھی اتنا ہی مؤثر ہو جتنا کمزور کے لیے، انتخابات عوامی فیصلے کا قابلِ اعتماد ذریعہ ہوں، معاشی اصلاحات کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم ہو اور سرکاری پالیسیوں کا پہلا سوال یہ ہو کہ ان سے عام آدمی کی زندگی میں کیا بہتری آئے گی۔ حکومتوں کی کامیابی کا حساب محض تقاریر، منصوبوں اور سیاسی جلسوں سے نہیں، بلکہ روزگار، تعلیم، علاج، تحفظ اور بنیادی ضروریات تک رسائی سے لیا جانا چاہیے۔اگر ترقی کا فائدہ چند طبقوں تک محدود رہے اور اکثریت اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرتی رہے تو قومی کامیابی کا جشن ادھورا ہے۔ پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اقتدار کی بحث سے زیادہ شہری کی زندگی پر توجہ دی جائے، نعروں سے زیادہ نتائج مانگے جائیں اور وفاداریوں سے زیادہ اصولوں کو اہمیت دی جائے۔ آنے والے کل کی خوش حالی کا فیصلہ بڑے وعدے نہیں کریں گے، بلکہ آج کے وہ فیصلے کریں گے جن میں ایک غریب انسان کی ضرورت کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جائے جتنی ریاست کے طاقتور حلقوں کے مفادات کو حاصل ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button