اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

امریکی ڈاک کے 5 ملین سے زائد جعلی شپنگ لیبل فروخت کرنے کا الزام، خانیوال کا رہائشی گرفتار

امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ نقصان پہنچانے کا دعویٰ، مبینہ فراڈ میں 16 بینک اکاؤنٹس استعمال ہونے کا انکشاف

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

قیصر مغل-ادارت

لاہور: (وائس آف جرمنی اردو نیوز، پاکستان) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور زون نے امریکہ میں مبینہ طور پر جعلی پوسٹل شپنگ لیبل فروخت کرکے بڑے پیمانے پر مالی فراڈ کرنے کے الزام میں پنجاب کے ضلع خانیوال سے تعلق رکھنے والے فہیم اکرم کو گرفتار کر لیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے ایک جعلی ویب سائٹ کے ذریعے تین سال سے زائد عرصے کے دوران 50 لاکھ سے زیادہ غیر قانونی امریکی ڈاک لیبل فروخت کیے، جس کے نتیجے میں امریکی پوسٹل سروس کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔

پاکستانی حکام کے مطابق ملزم کو منگل کی صبح کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے پریس کانفرنس میں گرفتاری اور تحقیقات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل شواہد، بینک اکاؤنٹس اور مختلف مقامات پر کی جانے والی کارروائیوں کی مدد سے مبینہ ملزم تک پہنچا گیا۔

حکام کے مطابق یہ معاملہ صرف جعلی لیبلوں کی فروخت تک محدود نہیں بلکہ اس میں ویب سائٹ کے ذریعے ہونے والے مالی لین دین، ممکنہ طور پر ملوث دیگر افراد اور مبینہ طور پر حاصل ہونے والی رقم کی منتقلی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تین سال سے زائد عرصے تک ویب سائٹ چلانے کا الزام

این سی سی آئی اے حکام کے مطابق فہیم اکرم پر الزام ہے کہ اس نے اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک labelsbank.com کے نام سے ایک ویب سائٹ چلائی۔ امریکی حکام کے مطابق اس ویب سائٹ کے ذریعے ایسے پوسٹل شپنگ لیبل فروخت کیے جاتے تھے جو امریکی پوسٹل سروس (یو ایس پی ایس) کی جانب سے قانونی طور پر جاری نہیں کیے گئے تھے۔

شپنگ لیبل پارسل اور ڈاک کے پیکٹ بھیجنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان لیبلوں پر عام طور پر ڈاک کی ترسیل سے متعلق معلومات اور متعلقہ پوسٹل سروس کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ مذکورہ ویب سائٹ پر فروخت کیے جانے والے لیبل قانونی طور پر جاری کردہ ڈاکی لیبل نہیں تھے، تاہم انہیں پارسلوں کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔

تحقیقات کے مطابق ویب سائٹ پر فی لیبل عموماً دو امریکی ڈالر وصول کیے جاتے تھے۔ امریکی حکام کے دعوے کے مطابق پانچ ہزار سے زائد صارفین نے اس ویب سائٹ کے ذریعے مجموعی طور پر 50 لاکھ سے زیادہ لیبل خریدے۔

اگر فی لیبل دو ڈالر کی قیمت کو مجموعی طور پر پانچ ملین لیبلوں پر لاگو کیا جائے تو فروخت کی مالیت تقریباً ایک کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ تاہم امریکی پوسٹل سروس کو ہونے والا مبینہ نقصان اس رقم سے کہیں زیادہ، یعنی 126 ملین ڈالر سے تجاوز کرنے کا بتایا گیا ہے۔ اس فرق کی مکمل وضاحت دستیاب معلومات میں موجود نہیں، اس لیے نقصان کے تعین کے لیے امریکی حکام کے فراہم کردہ اعداد و شمار اور کیس کی تفصیلات اہم ہوں گی۔

امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ نقصان پہنچانے کا دعویٰ

امریکی حکام کے مطابق جعلی لیبلوں کے استعمال کے باعث امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 35 سے 36 ارب روپے بنتی ہے، تاہم حتمی مالیت کا انحصار متعلقہ وقت کی شرحِ تبادلہ پر ہوگا۔

امریکی پوسٹل سروس ملک کے اندر اور بیرونِ ملک ڈاک اور پارسلوں کی ترسیل کے وسیع نظام کا حصہ ہے۔ ڈاک کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے لیبلوں کی قانونی حیثیت اور ان کے عوض مقررہ ادائیگی نظام کے مالیاتی ڈھانچے کے لیے اہم ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص غیر قانونی یا جعلی لیبل فروخت کرکے انہیں اصل ڈاکی سروس کے لیے قابلِ قبول ظاہر کرے تو اس سے ڈاک کے نظام کو مالی نقصان پہنچنے کے ساتھ ترسیل اور ادائیگیوں کے طریقۂ کار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

اس کیس میں امریکی حکام کا الزام ہے کہ ویب سائٹ کے ذریعے بڑی تعداد میں ایسے لیبل فروخت کیے گئے جن کے لیے قانونی طور پر مطلوبہ ڈاکی ادائیگی یا اجرا کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا۔ تاہم الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ عدالتی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔

ملزم تک پہنچنے کے لیے آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں

این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر کے مطابق ملزم کا سراغ لگانے کے لیے پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ ان ٹیموں نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 35 مقامات پر چھاپے مارے جبکہ 47 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔

حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران بڑی مقدار میں ڈیجیٹل اور تکنیکی معلومات کا تجزیہ کیا گیا۔ اس عمل میں 122 کال ڈیٹا ریکارڈز، 50 آئی ایم ای آئی ٹریکنگ رپورٹس اور 120 کیمروں کی ویڈیو و آڈیو ریکارڈنگز کا جائزہ لیا گیا۔

کال ڈیٹا ریکارڈز سے رابطوں اور کالوں سے متعلق دستیاب معلومات کی جانچ میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ آئی ایم ای آئی نمبرز موبائل آلات کی شناخت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح کیمروں کی ریکارڈنگز سے مشتبہ افراد کی نقل و حرکت اور مختلف مقامات پر ان کی موجودگی سے متعلق شواہد کی چھان بین کی جا سکتی ہے۔

این سی سی آئی اے حکام کے مطابق ملزم کی تلاش کے لیے دس روز تک لوکیٹر آپریشن بھی جاری رہا۔ اس دوران مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی سے مدد لینے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کرکے ملزم کا سراغ لگایا گیا۔ تاہم تحقیقات میں جمع کیے گئے شواہد کی مکمل نوعیت اور ان کی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی عمل کے دوران کیا جائے گا۔

مالی لین دین کی جانچ، 16 بینک اکاؤنٹس کا انکشاف

اس مبینہ فراڈ کیس میں ایک اہم پہلو 16 بینک اکاؤنٹس کا استعمال ہے۔ این سی سی آئی اے حکام کے مطابق ویب سائٹ سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کے لیے ملزم اور اس کے اہلِ خانہ کے نام پر موجود اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔

حکام کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ان اکاؤنٹس میں سات اکاؤنٹس مبینہ ملزم فہیم اکرم کے اپنے نام پر، پانچ اس کے بھائی کے نام پر، دو اس کی اہلیہ کے نام پر جبکہ ایک ایک اکاؤنٹ اس کی بہن اور خالہ کے نام پر بتایا گیا ہے۔

تفتیشی حکام اب ان اکاؤنٹس کے ذریعے ہونے والے مالی لین دین کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ ویب سائٹ سے مبینہ طور پر حاصل ہونے والی رقوم کہاں سے وصول کی گئیں، انہیں کن اکاؤنٹس میں منتقل کیا گیا اور آیا ان رقوم کو مزید کسی مالیاتی ذریعے کے ذریعے آگے بھیجا گیا۔

اس کے ساتھ یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا مبینہ کاروبار میں دوسرے افراد نے کسی نوعیت کا کردار ادا کیا یا اکاؤنٹس کا استعمال کس مقصد کے لیے ہوا۔ محض کسی شخص کے نام پر اکاؤنٹ ہونے سے اس کی مجرمانہ شمولیت ثابت نہیں ہوتی؛ اس حوالے سے ہر فرد کے کردار کا تعین متعلقہ مالی ریکارڈ، شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر کیا جانا ضروری ہے۔

امریکی حکام نے ویب سائٹ بند کرکے ڈومین ضبط کر لی تھی

امریکی حکام نے تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر جعلی لیبل فروخت کرنے والی ویب سائٹ labelsbank.com کی ڈومین ضبط کرکے اسے بند کر دیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد ویب سائٹ کے ذریعے جاری سرگرمیوں کو روکنا اور کیس سے متعلق ڈیجیٹل شواہد کے تحفظ میں مدد حاصل کرنا بتایا گیا۔

امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس نے بھی اس کیس کی تحقیقات کے دوران ملزم کی گرفتاری اور سزا کا باعث بننے والی معلومات فراہم کرنے والے افراد کے لیے ایک لاکھ امریکی ڈالر تک انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔

یہ اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی حکام اس معاملے کو اپنے ڈاکی نظام کے خلاف ایک اہم مالیاتی اور قانونی خلاف ورزی کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ تاہم انعام کے اعلان اور ویب سائٹ کی بندش سے کسی ملزم کے خلاف الزامات خود بخود ثابت نہیں ہوتے؛ جرم کے ثبوت کے لیے قانونی معیار کے مطابق شواہد درکار ہوتے ہیں۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق متعدد الزامات عائد

امریکی محکمۂ انصاف سے منسوب معلومات کے مطابق فہیم اکرم کے خلاف سازش، جعلی پوسٹل لیبل تیار کرنے اور فروخت کرنے اور الیکٹرانک ذرائع استعمال کرکے فراڈ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ان الزامات کی نوعیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکام اس معاملے کو مبینہ طور پر منظم انداز میں چلائی جانے والی سرگرمی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس میں ویب سائٹ، صارفین سے رقوم وصول کرنے کا طریقہ اور ڈاکی لیبلوں کی فروخت شامل تھی۔

اس نوعیت کے بین الاقوامی سائبر کرائم کیسز میں ویب سائٹ کی ملکیت، سرور اور ڈومین سے متعلق ریکارڈ، صارفین کی ادائیگیوں، بینک اکاؤنٹس، ڈیجیٹل رابطوں اور مبینہ طور پر حاصل ہونے والی رقوم کی نقل و حرکت اہم شواہد ہو سکتے ہیں۔ ان شواہد کی جانچ سے یہ طے کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ مبینہ سرگرمی کس نے چلائی، اس سے کس نوعیت کا مالی فائدہ حاصل کیا گیا اور آیا دیگر افراد بھی اس میں شریک تھے۔

تاہم ملزم کے خلاف امریکی الزامات، پاکستان میں ہونے والی گرفتاری اور آئندہ عدالتی کارروائی کے مختلف مراحل کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ گرفتاری یا الزام عائد ہونا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل، مزید افراد کے کردار کا جائزہ

این سی سی آئی اے نے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ حکام کے مطابق ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص سعید، ڈپٹی ڈائریکٹر حسن، ایس ایچ او نجم باجوہ، سب انسپکٹر نبیل اور سب انسپکٹر تنویر شامل ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے مبینہ مالی فراڈ کے طریقۂ کار، ویب سائٹ سے حاصل ہونے والی رقوم، بینک اکاؤنٹس کے استعمال، ڈیجیٹل رابطوں اور ممکنہ معاونین کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔

تفتیش کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ویب سائٹ چلانے کے لیے استعمال ہونے والے تکنیکی وسائل، صارفین سے ادائیگی وصول کرنے کے طریقوں اور مبینہ طور پر فروخت کیے جانے والے لیبلوں کی تیاری یا فراہمی کے نظام کو سمجھا جائے۔ ان پہلوؤں کی مکمل تفصیلات حکام کی جانب سے حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکیں گی۔

پاکستان کی ساکھ اور بین الاقوامی سائبر کرائم کے چیلنجز

عاطف امیر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی ڈاک کے جعلی لیبل فروخت کرنے کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کے لیے باعثِ تشویش تھا۔ ان کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے بعد تحقیقات کا دائرہ ویب سائٹ کے مالی لین دین، مبینہ طور پر حاصل ہونے والی رقوم اور اس سرگرمی سے منسلک دیگر افراد کے کردار تک پھیلایا جائے گا۔

ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے ساتھ سائبر کرائم کی نوعیت بھی زیادہ پیچیدہ ہو رہی ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف ملکوں میں صارفین کو خدمات فراہم کرنا آسان ہو گیا ہے، لیکن اسی سہولت کو بعض اوقات دھوکا دہی، جعلی مصنوعات یا غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایسے معاملات میں ایک ملک میں موجود شخص، دوسرے ملک کے صارفین، بین الاقوامی ادائیگیوں اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا تعلق سامنے آ سکتا ہے۔ اس لیے تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ، مالیاتی ریکارڈ کی جانچ، ڈیجیٹل شواہد کا تحفظ اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق تعاون اہم ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں سائبر کرائم کی تحقیقات کرنے والے اداروں کے لیے ایسے کیسز اس اعتبار سے بھی اہم ہیں کہ ان میں ملکی قانون کے تحت کارروائی کے ساتھ بیرونِ ملک مبینہ متاثرین اور متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

کیس کا آئندہ مرحلہ کیا ہوگا؟

فہیم اکرم کی گرفتاری کے بعد اس کیس میں کئی اہم سوالات کا جواب تحقیقات اور متعلقہ عدالتی کارروائی کے ذریعے سامنے آنا باقی ہے۔ ان میں ویب سائٹ سے حاصل ہونے والی رقوم کی حتمی مقدار، 16 بینک اکاؤنٹس میں مالی لین دین کی تفصیلات، دیگر افراد کے ممکنہ کردار اور امریکی پوسٹل سروس کو مبینہ نقصان کے تعین کا طریقہ شامل ہیں۔

اسی طرح یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے متعلقہ ادارے شواہد کے تبادلے اور قانونی کارروائی کو کس طریقے سے آگے بڑھاتے ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے عائد کردہ الزامات اور پاکستانی اداروں کی تحقیقات کی روشنی میں کیس کی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

اہم وضاحت: فہیم اکرم کے خلاف بیان کردہ الزامات کو حتمی عدالتی فیصلے تک الزامات ہی سمجھا جانا چاہیے۔ اس مرحلے پر گرفتاری اور تحقیقاتی دعووں کی بنیاد پر کسی فرد کو مجرم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button