
ڈی پی اے، اے ایف پی
پرتشدد مظاہرے کیوں ہوئے؟
میلان میں گزشتہ ہفتے کے آخر میں مہنگائی اور حکومت کی بعض مجوزہ قانون سازی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق ابتدا میں مظاہرے پرامن تھے، تاہم بعد ازاں بعض گروہوں نے پرتشدد کارروائیاں شروع کر دیں۔

شہر کے مرکزی علاقے پیاتزا دل دومو اور اس کے اطراف میں سیاہ لباس اور نقاب پہنے نوجوانوں نے دکانوں کے شیشے توڑے، متعدد کاروباری مراکز اور سپر مارکیٹوں کو نشانہ بنایا اور لوٹ مار کی۔
اطالوی حکام کے مطابق دو روزہ ہنگاموں کے دوران 270 سے زائد افراد کو عارضی طور پر حراست میں لیا گیا، جن میں اکثریت کم عمر افراد کی تھی۔ پانچ نوجوانوں کو باقاعدہ تحویل میں بھی لیا گیا ہے۔
درجنوں اہلکار زخمی
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہنگاموں کے دوران کم از کم 14 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ مظاہرین میں زخمی ہونے والوں کی تعداد واضح نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مالی نقصان لاکھوں یورو تک پہنچ سکتا ہے۔
ان واقعات کے بعد میلان میں کئی لگژری برانڈز کی دکانیں عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں، جبکہ بعض کاروباری مراکز نے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔
مزید سخت اقدامات پر غور
اطالوی حکومت صرف فوجی تعیناتی تک محدود نہیں رہنا چاہتی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت عوامی اجتماعات پر پابندیوں، کم عمر افراد کی حراست سے متعلق قوانین میں نرمی اور ہنگاموں میں ملوث نابالغوں کے والدین کے لیے سخت سزاؤں جیسے اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔

نائب وزیر اعظم ماتیو سالوینی نے واقعات کو "شرمناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جلد امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کا اعلان کرے گی۔
وزیر دفاع گوئیڈو کروسیٹو کا کہنا ہے کہ حکومت فوج کو عارضی طور پر پولیس جیسے اختیارات دینے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ اہلکار مؤثر انداز میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر سکیں۔
انتخابات سے قبل میلونی پر دباؤ
اٹلی میں مہنگائی کی شرح اس وقت 4.2 فیصد ہے اور ملک بھر میں ہائی اسکول اور یونیورسٹی کے طلبہ، کسان اور ٹرک ڈرائیور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم جیورجیا میلونی گزشتہ چار برس سے دائیں بازو کے اتحاد کی قیادت کر رہی ہیں، تاہم اگلے سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل انہیں سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق معیشت، سکیورٹی اور امیگریشن آئندہ انتخابات کے اہم موضوعات ہوں گے، جبکہ میلان کے حالیہ ہنگاموں نے ان مباحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔



