
ماسکو/کیف: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعرات کو شائع ہونے والے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ روس جلد یا بدیر یوکرین کے ڈونباس خطے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے گا۔ انہوں نے یوکرینی افواج کو اس خطے سے فوری انخلا کا مطالبہ بھی کیا ہے، جسے یوکرین نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
پوٹن کا دعویٰ—”یا یوکرین نکل جائے، یا ہم طاقت سے آزاد کرائیں گے”
صدر پوٹن نے نئی دہلی کے دورے سے قبل انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا:
"یا تو ہم ان علاقوں کو ہتھیاروں کی قوت کے ذریعے آزاد کرا لیں گے، یا یوکرین کی فورسز ان علاقوں کو چھوڑ دیں۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب روس مسلسل یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ ڈونٹسک اور لوہانسک جیسے بڑے علاقوں پر مشتمل ڈونباس خطہ روس کے تاریخی اثر و رسوخ کا حصہ ہے اور اس پر کنٹرول روس کی "قومی سلامتی” کے لیے ضروری ہے۔
یوکرین کا ردعمل—”یہ علاقہ روس کو تحفے میں نہیں دیں گے”
یوکرین نے روسی صدر کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ
"ہم وہ علاقہ روس کے حوالے نہیں کریں گے جسے ماسکو میدانِ جنگ میں بھی نہیں جیت سکا۔”
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ڈونباس سمیت تمام مقبوضہ علاقے یوکرین کا حصہ ہیں اور روس کے کسی بھی یکطرفہ دعوے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
روس کا موجودہ کنٹرول—19.2 فیصد یوکرینی علاقہ
عالمی تخمینوں کے مطابق روس اس وقت یوکرین کی سرزمین کے 19.2 فیصد حصے پر قابض ہے، جس میں مشرقی اور جنوبی یوکرین کے کئی اہم علاقے شامل ہیں۔ روس مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ ان علاقوں پر اپنا انتظامی و عسکری کنٹرول مکمل طور پر مضبوط کر سکے۔
امریکہ اور روس کے درمیان امن مذاکرات—ڈونباس اہم نکتہ
امریکہ کے ساتھ جاری غیر رسمی مذاکرات کے دوران روس بارہا یہ مطالبہ دہرا چکا ہے کہ
امریکہ ڈونباس پر روس کے کنٹرول کو کم از کم غیر رسمی طور پر تسلیم کرے، اور
مستقبل کے کسی ممکنہ امن فارمولے میں "زمینی حقائق” کو بنیاد بنایا جائے۔
واشنگٹن نے تاحال اس مطالبے کو قبول نہیں کیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث دونوں بڑی طاقتیں کم از کم مذاکراتی رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ڈونباس خطے کی اسٹریٹجک اہمیت
ڈونباس خطہ نہ صرف معدنی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ مشرقی یورپ میں ایک اہم اسٹریٹجک مقام بھی رکھتا ہے۔
ڈونٹسک اور لوہانسک صنعتی علاقوں کے طور پر مشہور ہیں۔
2014 کے بعد روس نواز گروپوں نے یہاں علیحدگی کی تحریک چلائی، جس کے باعث اس خطے میں جنگ پہلی بار بھڑکی۔
تجزیہ کاروں کی رائے
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ پوٹن کا تازہ بیان ان کے اس عزم کی علامت ہے کہ روس کسی طرح بھی ڈونباس پر اپنی گرفت چھوڑنے کو تیار نہیں۔
یوکرین کے دیرپا انکار کے بعد ماہرین کا اندازہ ہے کہ آنے والے موسمِ سرما میں محاذ پر مزید شدت آ سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب روس اپنی فوجی حکمت عملی کو مضبوط کر رہا ہے اور یوکرین مغربی دنیا کی نئی امداد کا انتظار کر رہا ہے۔
نئی دہلی کا دورہ—ایک اہم سیاسی پس منظر
صدر پوٹن نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب وہ بھارت کے دورے پر جا رہے ہیں۔ یہ دورہ نہ صرف دفاعی اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے اہم ہے، بلکہ عالمی طاقتوں کا دھیان بھی اس جانب ہے کہ ایشیا میں روس کن ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات مضبوط کر رہا ہے۔



