
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کےساتھ
چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن اس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی عزم پر کسی کو بھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قوم کی یکجہتی کی بدولت پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بھارت اور افغانستان کے طالبان حکام کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب انتہائی تیز اور شدید ہو گا۔
طالبان کو پیغام:
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغانستان کے طالبان حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے بارے میں طالبان حکومت کو ایک واضح پیغام دیا گیا ہے: "فتنہ الخوارج یا پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گا اور کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔
بھارت کو سخت خبردار کیا:
بھارت کو خبردار کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ "انڈیا کسی خود فریبی یا گمان کا شکار نہ ہو، اگلی بار پاکستان کا جواب اس سے بھی برق رفتار اور شدید ہوگا۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی دفاعی تیاریوں میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دے گا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔ یہ پیغام بھارت کے لیے واضح تھا کہ پاکستان کی فوج اور قوم کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
نئے ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹر کا قیام:
جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں تینوں مسلح افواج کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملٹی ڈومین آپریشنز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تاریخی تبدیلیاں کی ہیں۔ نئے قائم کردہ ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ہیڈکوارٹر کا قیام ایک ضروری قدم ہے جو دفاعی صلاحیتوں کو ہم آہنگ کرنے اور خطرات کے پیچیدہ منظرنامے کا مؤثر جواب دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
فیلڈ مارشل نے مزید کہا کہ "ملٹی ڈومین آپریشنز میں تمام افواج کی ہم آہنگی کی ضرورت ہے، اور اس ہیڈکوارٹر کا مقصد تینوں افواج کے آپریشنز کو مربوط اور ہم آہنگ کرنا ہے تاکہ ہم بدلتے ہوئے خطرات کا بھرپور جواب دے سکیں۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ "ہر سروس اپنی آپریشنل تیاریوں کے لیے اپنی انفرادیت برقرار رکھے گی، لیکن ڈیفنس فورسز کا ہیڈ کوارٹر انٹر سروس آپریشنز کی ہم آہنگی اور مربوط کاری کے لیے کام کرے گا۔” اس سے مراد تھا کہ تینوں افواج کی خود مختاری کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان مکمل ہم آہنگی بھی برقرار رکھی جائے گی تاکہ ایک جامع دفاعی حکمت عملی پر عمل کیا جا سکے۔
پاکستان کا ناقابل تسخیر نظریہ:
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ "پاکستان کا تصور ناقابل تسخیر ہے، اور اس کی حفاظت ایمان سے سرشار جانبازوں اور متحد قوم کے پختہ عزم نے کر رکھی ہے۔” انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور اس کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ امن و استحکام کا حصول مقدم رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو بھی پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت یا قومی عزم کو آزمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاکستان کی دفاعی تیاریوں پر زور:
سی ڈی ایف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی دفاعی تیاریوں کو بڑھاتے ہوئے، تینوں افواج کو جدید جنگی ضروریات کے مطابق تربیت دی جائے گی اور ان کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو بدلتے ہوئے خطرات، جیسے سائبر حملے، انفارمیشن وار، اور جدید ٹیکنالوجیز کا سامنا ہے، اور ان سب کا مؤثر جواب دینے کے لیے ایک جدید دفاعی نظام کی ضرورت ہے۔
شہداء کو خراج عقیدت:
اپنے خطاب کے دوران، فیلڈ مارشل نے پاکستان کے شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کیا، جن کی قربانیوں کی بدولت ملک کی سرحدیں محفوظ ہیں اور پاکستان کی مسلح افواج اپنے عزم، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی طاقت اور عزم کا نشان رہیں گی۔”
پاکستان کے مستقبل کے دفاعی چیلنجز:
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کو درپیش دفاعی چیلنجز میں کئی تبدیلیاں آئیں گی، اور ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کی مسلح افواج ہر سطح پر تیاری کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی فوج جدید ٹیکنالوجیز اور جدید حربوں کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اپنے دفاع کو مستحکم کرے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنے دفاعی اتحادیوں کے ساتھ تعاون بڑھائے گی۔
اختتام:
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ خطاب پاکستان کی مسلح افواج کے لیے ایک مضبوط پیغام تھا، جس میں دشمنوں کو واضح طور پر بتا دیا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔ بھارت اور طالبان کے حوالے سے کیے گئے ان کے واضح پیغامات سے یہ واضح ہے کہ پاکستان کسی بھی قسم کی مداخلت یا جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا، اور اپنی مسلح افواج کی ہم آہنگی اور جدید دفاعی حکمت عملی کے ذریعے دشمن کا مؤثر جواب دے گا۔





