اہم خبریںپاکستان

دوست ممالک کے وفود کا نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے تحت نیول ہیڈکوارٹرز کا دورہ ، پاک بحریہ کے آپریشنل کردار، خطے کی سیکیورٹی اور میری ٹائم حکمتِ عملی پر بریفنگ

پاکستان بحرِ ہند کے خطے میں ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے بین الاقوامی میری ٹائم فورمز اور ہم خیال ممالک کے ساتھ قریبی تعاون رکھتا ہے

وائس آف جرمنی اردو نیوز ویب ڈیسک

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) میں نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس میں شریک مختلف دوست ممالک کے عسکری اور سول وفود نے بدھ کے روز نیول ہیڈکوارٹرز کا اہم دورہ کیا، جہاں انہیں پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں، خطے کی میری ٹائم سیکیورٹی، جدید نیول حکمتِ عملی اور ملکی سمندری حدود کے تحفظ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وفود میں متعدد دوست ممالک کے سینئر افسران، دفاعی ماہرین اور متعلقہ حکومتی نمائندے شامل تھے، جو خطے میں بدلتی اسٹریٹجک صورتحال اور پاکستان کی بحرِ ہند میں اسٹریٹجک پوزیشن کے بارے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔


ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان سے ملاقات — باہمی تعاون، خطے کی سلامتی اور مشترکہ عالمی چیلنجز پر گفتگو

نیول ہیڈکوارٹرز آمد پر وفود کا استقبال ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (آپریشنز) ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان نے کیا۔ بعد ازاں انہوں نے مہمان افسروں اور شرکائے کورس سے ملاقات کی۔

اس موقع پر:

  • پاک بحریہ کے آپریشنل اسٹرکچر

  • خطے کی سیکیورٹی ڈائنامکس

  • میری ٹائم ٹریڈ روٹس کے تحفظ

  • دہشتگردی اور بحری قزاقی کے خلاف اقدامات

  • پاک بحریہ کی عالمی امن مشنز میں شمولیت

پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان نے کہا کہ پاکستان بحرِ ہند کے خطے میں ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے بین الاقوامی میری ٹائم فورمز اور ہم خیال ممالک کے ساتھ قریبی تعاون رکھتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ:

"پاکستان کی قومی سلامتی کا جغرافیہ صرف زمینی سرحدوں تک محدود نہیں، بلکہ ہماری معاشی سلامتی بڑی حد تک سمندروں سے منسلک ہے۔ پاک بحریہ کسی بھی خطرے کے مقابلے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں اپنا فعال کردار ادا کرتی رہے گی۔”


شرکاء کو پاک بحریہ کی جدید صلاحیتوں، ٹیکنالوجی اور مستقبل کے منصوبوں پر بریفنگ

شرکائے کورس کو پاک بحریہ کی:

  • جدید جنگی صلاحیتوں

  • فلیٹ کی توسیع

  • نگرانی اور انٹیلیجنس سسٹمز

  • سمندری حدود کے تحفظ کی حکمتِ عملی

  • CPEC اور پاکستانی ساحلی پٹی کے تحفظ

  • جیو اسٹریٹیجک چیلنجز

کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن بھی دی گئی۔

مزید بتایا گیا کہ:

  • پاک بحریہ عالمی امن آپریشنز میں فعال کردار ادا کر رہی ہے،

  • بین الاقوامی مشترکہ مشقوں کا معمول برقرار ہے،

  • اور دوست ممالک کے ساتھ تربیت و تعاون کے پروگراموں کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔


مہمان وفود کا پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف

دوست ممالک کے وفود نے:

  • پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ قابلیت

  • خطے میں امن اور سمندری سلامتی کے فروغ

  • عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت کردار

کو سراہا اور کہا کہ ایسے دورے دفاعی تعاون اور باہمی سمجھ بوجھ کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

شرکاء نے خصوصی طور پر اس بات کا اعتراف کیا کہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے میری ٹائم چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کی بحری صلاحیتیں اور خطے میں اس کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔


دورے کا مقصد — علاقائی و عالمی تعاون کو مزید مستحکم کرنا

اس دورے کا بنیادی مقصد تھا کہ:

  • شرکاء کو پاکستان کی میری ٹائم اسٹریٹیجی کا براہ راست مشاہدہ کرایا جائے،

  • خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال ہو،

  • اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مواقع تلاش کیے جائیں۔

یہ دورہ پاکستان اور دوست ممالک کے درمیان دفاعی روابط کو وسعت دینے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button