
بلاول بھٹو زرداری کا الزام: ’’انڈیا پانی کے ذریعے دہشت گردی کر رہا ہے‘‘ – عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ
مودی سرکار نے خود یہ اعلان کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو نہیں مانتے۔ یہ ایک کھلی خلاف ورزی ہے
قصور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا جان بوجھ کر پاکستان کے خلاف "پانی کے ذریعے دہشت گردی” کر رہا ہے، اور پاکستانی عوام کو براہِ راست نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے ان اقدامات کا نوٹس لے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں۔
یہ بات انہوں نے جمعے کے روز قصور میں سیلاب متاثرین سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، مقامی افراد سے مسائل سنے اور میڈیا سے گفتگو میں بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت نے نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی روح کو پامال کیا ہے بلکہ واضح طور پر عالمی قوانین کو توڑ کر پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا راستہ اپنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا:
"مودی سرکار نے خود یہ اعلان کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو نہیں مانتے۔ یہ ایک کھلی خلاف ورزی ہے۔ بھارت ہمارے ساتھ معاہدے کے تحت پانی کا ڈیٹا شیئر نہیں کر رہا۔ ہم بھارت کو مجبور کریں گے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے۔”
انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کو بروقت معلومات نہ دینا، اور بغیر اطلاع کے پانی چھوڑ دینا، نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ایک خطرناک عمل ہے جس سے انسانی جانیں، زراعت، املاک اور مقامی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
سیلاب کی تباہ کاریاں اور "پانی کے ہتھیار” کا استعمال
بلاول بھٹو نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی موجودہ تباہ کاریوں میں بھارت کی جانب سے اچانک پانی چھوڑنے کی پالیسی نے شدت پیدا کی ہے۔
"آخری وقت پر بتایا جاتا ہے کہ پانی چھوڑا جا رہا ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ کتنا پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ یہ سراسر بدنیتی پر مبنی اقدام ہے۔ انڈیا انسانیت کو بھول چکا ہے۔”
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سیلاب سے ہزاروں لوگ متاثر ہو چکے ہیں، ان کے گھر، فصلیں اور روزگار تباہ ہو چکے ہیں، اور اگر وقت پر پانی کا درست ڈیٹا ملتا تو ممکن تھا کہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر کے جان و مال کا تحفظ کیا جا سکتا۔
عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اقوامِ متحدہ، عالمی بینک، اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے باز رکھنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا:
"یہ صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بنتا جا رہا ہے۔ عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ پانی جیسے قیمتی وسائل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے۔”
حکومت سے ہنگامی اقدامات کی اپیل
بلاول بھٹو نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے ان اقدامات کے خلاف سفارتی اور قانونی سطح پر بھرپور آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ خارجہ، آبی وسائل، اور ماحولیات کے محکموں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر جامع پالیسی تشکیل دیں اور ہر سطح پر بھارت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائیں۔
سیلاب متاثرین کے لیے پیپلز پارٹی کا لائحہ عمل
دورے کے دوران بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے مقامی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کریں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پارٹی اپنی سطح پر امدادی کاموں میں حصہ لے گی اور متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
پس منظر: سندھ طاس معاہدہ
1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں پانی کی تقسیم کا ایک بنیادی معاہدہ ہے، جس کے تحت تین مشرقی دریا بھارت کو جبکہ تین مغربی دریا پاکستان کو دیے گئے۔ تاہم حالیہ برسوں میں بھارت پر یہ الزامات عائد ہوتے رہے ہیں کہ وہ مغربی دریاؤں پر ڈیم بنا کر پانی کے بہاؤ کو روک رہا ہے یا بغیر اطلاع چھوڑ رہا ہے، جو معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کے بیانات نے ایک بار پھر اس نازک مسئلے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان، عالمی برادری، اور خود بھارتی حکومت اس معاملے پر کیا ردِعمل ظاہر کرتے ہیں۔ پانی جیسا قیمتی اور انسانی حق، اگر سیاست کی نذر ہو جائے، تو اس کے نتائج نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔



