
پاکستانی طلباء کی قازقستان میں سائنسی میدان میں تاریخی کامیابی، عالمی سطح پر ملک کا نام روشن
مقابلہ قازقستان کے شہر الماتی میں منعقد ہوا، جہاں دنیا بھر سے آئے نوجوان محققین نے سائنسی جدت، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا
الماتی، قازقستان: پاکستانی طلباء نے قازقستان میں ہونے والے بین الاقوامی سائنسی مقابلے "انٹرنیشنل ینگ نیچرلِسٹ ٹورنامنٹ” (IYNT) میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کر دیا۔ 35 ممالک کے درمیان ہونے والے اس سائنسی ایجادات اور تحقیقاتی مقابلے میں پاکستان کی دو ٹیموں نے سلور اور برانز میڈل اپنے نام کیے، جو پاکستانی تعلیمی و تحقیقی شعبے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔
مقابلہ قازقستان کے شہر الماتی میں منعقد ہوا، جہاں دنیا بھر سے آئے نوجوان محققین نے سائنسی جدت، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی دونوں ٹیمیں – ٹیم پاکستان وائٹ اور ٹیم پاکستان گرین – نے اپنی ذہانت، تیاری اور سائنسی فہم سے سب کو حیران کر دیا۔
سلور اور برانز میڈلز کا حصول
ٹیم پاکستان وائٹ نے مقابلے کے فائنل تک رسائی حاصل کرتے ہوئے سلور میڈل جیتا جبکہ پاکستان گرین نے شاندار کارکردگی سے برانز میڈل حاصل کیا۔ اس بین الاقوامی سائنسی جنگ میں، جس میں 35 ممالک کی ٹیمیں شریک تھیں، پاکستانی ٹیموں کی یہ پوزیشن نمایاں کامیابی کی مظہر ہے۔
ٹیم پاکستان وائٹ کی قیادت اشعر حسن نے کی، جس میں امین عدنان، حاجرہ ورک، علیشہ شہزاد، ماہین شہزاد اور لاجے حفصہ شامل تھیں۔ دوسری جانب، ٹیم پاکستان گرین کی قیادت آمنہ عابد نے سنبھالی، جس کی ٹیم میں اریبہ توقیر، تسمیہ عابد، دعا عادل، نور فاطمہ اور امان حسن شامل تھے۔
پاکستان ینگ انویٹیو مائنڈ سوسائٹی (PYIMS) کا کردار
ان طلباء کی شرکت پاکستان ینگ انویٹیو مائنڈز سوسائٹی (PYIMS) کے زیرِ اہتمام ممکن ہوئی، جو کہ پاکستانی طلباء کو سائنسی تعلیم میں آگے بڑھنے، تحقیق میں دلچسپی لینے، اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز تک رسائی دینے کے لیے سرگرم ہے۔
طلباء کی رہنمائی میں ماہرین تعلیم افراح علی اور نہات علی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ٹیموں کا انتخاب قومی سطح پر ہونے والے نیشنل راؤنڈ کی بنیاد پر کیا گیا، جس کے بعد انہیں بین الاقوامی مقابلے کے لیے منتخب کیا گیا۔
مقابلے کا طریقہ کار اور اہمیت
انٹرنیشنل ینگ نیچرل سائنٹسٹ ٹورنامنٹ میں ٹیمیں ایک منفرد سائنسی انداز "Science Fight” میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں، جس میں ہر ٹیم کو تین مختلف کردار ادا کرنے ہوتے ہیں: رپورٹر، اپوزیشن، اور ریویوئر۔
رپورٹر ٹیم آٹھ منٹ میں اپنی تحقیق پیش کرتی ہے۔
اپوزیشن ٹیم سوالات اور تنقید کے ذریعے چیلنج کرتی ہے۔
ریویوئر ٹیم بحث کا تجزیہ کرتی ہے۔
ہر راؤنڈ تقریباً 50 منٹ پر مشتمل ہوتا ہے، جس کے بعد ججز کی طرف سے اسکور دیا جاتا ہے۔ ابتدائی چار سائنس فائٹس کے بعد، 9 بہترین ٹیمیں سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کرتی ہیں۔ سیمی فائنلز ناک آؤٹ فارمیٹ پر مبنی ہوتے ہیں اور صرف فاتح ٹیمیں ہی فائنل تک رسائی حاصل کرتی ہیں۔
اب تک دنیا بھر سے 21 ممالک کی 179 ٹیمیں اس بین الاقوامی سائنسی ٹورنامنٹ میں حصہ لے چکی ہیں۔
طلباء کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد
پاکستانی طلباء کی اس نمایاں کامیابی کو سراہتے ہوئے ڈپٹی کمشنر وہاڑی، عمرانہ توقیر کی جانب سے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں جیتنے والی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ تقریب میں طلباء نے اپنی تیاری، مقابلے کے تجربات، سیکھنے کے مراحل اور ٹیم ورک سے متعلق خیالات کا اظہار کیا۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ان نوجوانوں کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت کا نتیجہ ہے بلکہ یہ پورے پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ذہین طلباء ہی مستقبل میں پاکستان کو سائنسی، تعلیمی اور تحقیقی میدان میں دنیا کے ہم پلہ بنائیں گے۔
پاکستانی طلباء کی یہ تاریخی کامیابی نہ صرف سائنسی تعلیم کی افادیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اگر نوجوانوں کو صحیح رہنمائی، مواقع اور پلیٹ فارم مہیا کیے جائیں تو وہ کسی بھی عالمی میدان میں ملک و قوم کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ یہ کامیابی مستقبل کے نوجوان سائنسدانوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔



