یورپاہم خبریں

امریکہ روس کے درمیان جوہری معاہدہ ختم ہونا انتہائی تشویشاک، گوتیرش

معاہدہ ختم ہونے سے ایسے وقت دونوں ممالک کے جوہری ہتھیاروں پر قانونی پابندیاں ختم ہو گئی ہیں جب دنیا شدید کشیدگی کا شکار ہے

بمقام اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور روس کے مابین نیو سٹارٹ معاہدے کی تجدید نہ ہونا عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ معاہدہ ختم ہونے سے ایسے وقت دونوں ممالک کے جوہری ہتھیاروں پر قانونی پابندیاں ختم ہو گئی ہیں جب دنیا شدید کشیدگی کا شکار ہے۔

media:entermedia_image:f44c067c-301e-4c8a-a188-772748c94b9f

اس معاہدے کی میعاد ختم ہونے پر جاری کردہ بیان میں سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ دنیا ایسے غیرمعلوم اور خطرناک دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں امریکا اور روس کے جوہری ذخائر پر اب کوئی قانونی پابندی باقی نہیں رہی جبکہ دنیا میں زیادہ تر جوہری ہتھیار انہی ممالک کے پاس ہیں۔ اس طرح، نصف صدی سے زیادہ عرصہ بعد یہ پہلا موقع ہے جب دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں میں اضافے کے حوالے سے کسی پابندی کے تابع نہیں رہے۔
Tweet URL

نیو سٹارٹ معاہدے پر 2010 میں دستخط کیے گئے تھے جس کے تحت دونوں ممالک نے طے کیا کہ وہ جنگ کے لیے تیار جوہری ہتھیاروں کی تعداد 1,550 سے نہیں بڑھائیں گے جبکہ اس معاہدے کے تحت بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں اور بھاری بمبار طیاروں کے حوالے سے بھی پابندیاں عائد تھیں۔ اس معاہدے میں اعتماد سازی کے لیے تصدیقی اقدامات بھی شامل تھے جن میں معلومات کا تبادلہ، اطلاعات کی فراہمی اور ہتھیاروں کا موقع پر معائنہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان کا مقصد کسی بداعتمادی اور غلط فہمی سے بچنا تھا۔

جوہری معاہدوں کی اہمیت

انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں پر ضبط سے متعلق دہائیوں پر محیط معاہدے تباہ کن نتائج کو روکنے اور جوہری ذخائر میں کمی لانے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران اور اس کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان جوہری معاہدوں نے تباہی کو روکنے میں مدد دی۔

سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ پابندیوں کا یہ نظام ایسے وقت ختم ہو رہا ہے جب جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں کہیں بڑھ گیا ہے۔

نئے معاہدے کی ضرورت

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال عالمی سلامتی کے بدلتے ہوئے ماحول میں ضبط اسلحہ کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے امریکا اور روس کے صدور کے ان بیانات کا خیرمقدم کیا جن میں جوہری اسلحہ کی نئی دوڑ شروع ہونے کے خطرات کو تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب دنیا روس اور امریکہ کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ اپنے الفاظ کو عملی اقدامات میں ڈھالیں۔ دونوں ممالک کو بلا تاخیر مذاکرات کی جانب واپس آنا اور ایک ایسا نیا معاہدہ طے کرنا ہو گا جو ہتھیاروں کی تعداد کے حوالے سے قابل تصدیق حدود کو بحال کرے، خطرات میں کمی لائے اور عالمگیر سلامتی کو مضبوط بنائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button