
ماہرین کا پاکستان میں آبادی کے تیزی سے اضافے پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات پر زور
"یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ پاکستان کے تقریباً ہر کونے میں کوکاکولا دستیاب ہے مگر مانع حمل ذرائع نہیں، حتیٰ کہ لاہور جیسے بڑے شہروں میں بھی۔"
قاسم بخاری-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
لاہور: ماہرینِ سماجیات، صحتِ عامہ اور آبادیاتی منصوبہ بندی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں آبادی کے بے قابو اضافے پر اگر فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں ملک کو سنگین سماجی، معاشی اور ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بات لاہور ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفس کے زیر اہتمام منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس میں کہی گئی، جو چیف منسٹر پاپولیشن مینجمنٹ اینڈ فیملی پلاننگ پروگرام کے تحت سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) اسکیم کا حصہ ہے۔ اجلاس میں محکمہ آبادی، محکمہ صحت، سول سوسائٹی، میڈیا، مذہبی اسکالرز اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
آبادی میں توازن نہ لایا گیا تو ترقیاتی اہداف خطرے میں پڑ سکتے ہیں
ڈسٹرکٹ پاپولیشن آفیسر لاہور مظہر اقبال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ رفتار سے آبادی میں اضافہ جاری رہا تو 2030ء تک پاکستان کی آبادی 26 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، جو وسائل اور ترقیاتی اہداف پر گہرے اثرات ڈالے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو بلاشبہ ملک کا قیمتی اثاثہ ہے، تاہم اگر اس طبقے کو مناسب رہنمائی، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم نہ کیے گئے تو یہی آبادی مستقبل میں بوجھ بن سکتی ہے۔
مظہر اقبال کا کہنا تھا کہ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کا مقصد آبادی کو روکنا نہیں بلکہ آبادی اور وسائل میں توازن قائم کرنا ہے۔ ان کے مطابق ضلعی انتظامیہ مذہبی اسکالرز، کمیونٹی ورکرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے تعاون سے خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی مہم چلا رہی ہے جو 2027ء تک جاری رہے گی۔
غیر منصوبہ بند حمل ماں اور بچے کی زندگی کے لیے خطرہ
میری اسٹوپس سوسائٹی کے ڈپٹی سینئر مینیجر عامر یوسف نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی نہ صرف آبادی کے توازن بلکہ ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کے لیے بھی نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں ہر 50 منٹ بعد ایک ماں غیر منصوبہ بند حمل کے باعث جان سے جاتی ہے جبکہ 40 فیصد پیدائشیں غیر ارادی ہوتی ہیں، جو صحتِ عامہ کا ایک سنگین بحران ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا،
"یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ پاکستان کے تقریباً ہر کونے میں کوکاکولا دستیاب ہے مگر مانع حمل ذرائع نہیں، حتیٰ کہ لاہور جیسے بڑے شہروں میں بھی۔”
عامر یوسف نے بتایا کہ اگر خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقوں تک رسائی بہتر بنائی جائے تو 72 فیصد ماؤں اور 78 فیصد نوزائیدہ بچوں کی اموات کو روکا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان انسانی ترقی کے اشاریے (HDI) میں 164ویں نمبر پر ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کو اب پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ فوری عمل درآمد پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
ثقافتی لحاظ سے موزوں آگاہی مہمات کی ضرورت
اجلاس میں شریک کلینیکل سائیکالوجسٹز اور کمیونیکیشن ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق پیغامات ثقافتی، مذہبی اور لسانی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے جائیں تاکہ عوام انہیں بہتر طور پر قبول کر سکیں۔
میڈیا کے کردار پر زور
اجلاس کے اختتام پر صحافیوں، کالم نگاروں اور میڈیا نمائندوں نے مکالمے کے دوران اس امر پر اتفاق کیا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے پیغامات کو عوام تک موثر انداز میں پہنچانے کے لیے میڈیا کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے تجویز دی کہ قومی اور مقامی میڈیا میں ایسے پروگرام، فیچر اسٹوریز اور ڈرامے نشر کیے جائیں جو عوام کو تعلیم، صحت اور خاندانی بہبود کے بارے میں مثبت رویوں کی طرف راغب کریں۔
ماہرین کا پیغام
اجلاس کے آخر میں شریک ماہرین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ آبادی کا مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر عوام، حکومت، میڈیا اور مذہبی طبقہ مل کر کام کریں تو پاکستان نہ صرف آبادی کے دباؤ پر قابو پا سکتا ہے بلکہ پائیدار ترقی کی راہ پر بھی گامزن ہو سکتا ہے۔




