پاکستاناہم خبریں

’27ویں آئینی ترمیم پر مکمل اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا‘، وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی

وفاقی کابینہ کا اجلاس جس میں 27ویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر بات چیت کی جانی تھی، اس کے ملتوی ہونے کی اہم وجوہات میں ایک طرف وزیراعظم کی دیگر مصروفیات کا ذکر کیا جا رہا ہے

انصار ذاہد-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والا وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ملتوی کر دیا گیا ہے، جس کے باعث 27ویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا معاملہ بھی آئندہ ہفتے تک مؤخر ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان مشاورت کا عمل مزید جاری رہے گا۔

اجلاس ملتوی کرنے کی وجوہات

وفاقی کابینہ کا اجلاس جس میں 27ویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر بات چیت کی جانی تھی، اس کے ملتوی ہونے کی اہم وجوہات میں ایک طرف وزیراعظم کی دیگر مصروفیات کا ذکر کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف آئینی ترمیم پر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مکمل اتفاقِ رائے نہ ہونے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ حکومت نے یہ وضاحت دی ہے کہ بعض نکات پر ابھی تک اتفاقِ رائے قائم نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے اجلاس کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس

یومِ جمعہ کو ہونے والے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس بھی اپنی مقررہ تاریخ پر ہوئے، لیکن ان ایوانوں کے ایجنڈوں میں 27ویں آئینی ترمیم کا معاملہ شامل نہیں تھا۔ ان اجلاسوں میں ترمیم کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی، اور اس بات نے اپوزیشن کی جانب سے مزید تحفظات کو جنم دیا ہے۔

اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات

حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ اس آئینی ترمیم پر مکمل ڈیڈلاک نہیں ہے، تاہم اس میں دو سے تین ایسے نکات ہیں جن پر ابھی تک اتفاق نہیں ہو سکا۔ ان نکات کی تفصیل واضح نہیں کی گئی، لیکن حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ ان اختلافات کو جلد دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ کی وضاحت

پارلیمنٹ ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما سینیٹر افنان اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ 27ویں آئینی ترمیم پر بات چیت ابھی جاری ہے اور بعض نکات پر اتفاقِ رائے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آرٹیکل 243 پر مکمل اتفاق ہو چکا ہے، لیکن دیگر نکات پر بات چیت جاری ہے۔ سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے آرٹیکل 243 سے متعلق ترمیم پر رضامندی ظاہر کی ہے اور نون لیگ کے ساتھ اس بات پر معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کا سخت موقف

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان نے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی 18ویں ترمیم سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر کوئی ایسی آئینی ترمیم پیش کی گئی جو صوبائی خودمختاری کے خلاف ہو، تو اے این پی بھرپور مزاحمت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو حاصل خودمختاری کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان کی جماعت کا اجلاس

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی اپنے موقف کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی جماعت کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے، جو مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوگا۔ اجلاس میں آئینی ترمیم سے متعلق پارٹی کی حکمت عملی اور ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کا موقف

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک مرتبہ پھر 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی سینیٹ میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں ترمیم کے مسودے کو مشکوک اور آئین و قانون کے خلاف قرار دیا گیا۔ پی ٹی آئی نے کہا کہ آئینی ترمیم کے نام پر تمام قانونی تقاضوں کو پامال کیا جا رہا ہے، اور ایسی ترمیم کو کسی صورت منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی پوزیشن

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) جو کہ حکومتی اتحاد کی ایک اہم جماعت ہے، نے اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ وہ 27ویں آئینی ترمیم میں اٹھارویں ترمیم کے کسی حصے کو تبدیل کرنے کی حمایت نہیں کریں گے۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حکومت کے ساتھ کسی اور معاملے پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا، سواۓ آرٹیکل 243 کے جس پر اتفاق ہو چکا ہے۔

آئندہ ہفتے تک پیشی کا امکان

اب تک کی اطلاعات کے مطابق، 27ویں آئینی ترمیم کو آئندہ ہفتے تک پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی اتحادی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے، اور وزارتِ قانون نے بھی ترمیم کے مسودے پر فنی اور قانونی مدد فراہم کی ہے۔ حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ تمام تحفظات دور کر کے آئینی ترمیم کو متفقہ طور پر منظور کرایا جا سکے گا۔

آئینی ترمیم کے اہم نکات

27ویں آئینی ترمیم کا مقصد کچھ اہم آئینی معاملات میں تبدیلیاں لانا ہے جن میں 18ویں ترمیم کے بعض حصوں میں ترمیم بھی شامل ہے۔ اس ترمیم کے تحت آرٹیکل 243 میں بعض اضافے اور تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، جو حکومت کے شراکت داروں کے لیے پیچیدہ ثابت ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، صوبوں کی خودمختاری اور اختیارات کے توازن پر بھی اختلافات ہیں جنہیں حل کرنا حکومت کے لیے چیلنج بن چکا ہے۔

نتیجہ:

آئینی ترمیم کی منظوری کا معاملہ اس وقت پیچیدہ اور متعدد سیاسی و قانونی نکات پر منحصر ہے۔ اس میں حکومت کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے تک اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ 27ویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جا سکے۔ ان تمام تر سیاسی اور آئینی پیچیدگیوں کے باوجود، یہ بات واضح ہے کہ اس ترمیم کے حوالے سے پارلیمنٹ اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button