
سوڈان کی خانہ جنگی: معدنی دولت، علاقائی رقابت اور پراکسی جنگ کا نیا مرکز
سوڈانی فوج کو مصر، سعودی عرب، ایران اور ترکی کی حمایت حاصل ہے، جبکہ آر ایس ایف کو متحدہ عرب امارات کے تعاون کا فائدہ حاصل ہے
خرطوم/نیروبی —
سوڈان میں اپریل 2023 سے جاری خانہ جنگی نہ صرف ملکی فوج اور نیم فوجی فورس ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان طاقت کی رسہ کشی ہے بلکہ اس کے پیچھے خطے کی بڑی طاقتوں کے اس ملک کی معدنیات، سونے کے ذخائر اور جغرافیائی اہمیت پر گہری نظریں بھی کارفرما ہیں۔ تنازعے کے آغاز سے اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک اور ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں، جسے اقوام متحدہ دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار کرتی ہے۔
تنازع کی شدت اور الفاشر پر قبضہ
جنگ اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی جب اکتوبر کے اختتام پر آر ایس ایف نے دارفور کے اہم شہر الفاشر پر قبضہ کر لیا۔ اس پیش رفت نے نہ صرف جنگ کا پلڑا جھکا دیا بلکہ خطے میں غیر ملکی مداخلت کے خدشات کو بھی بڑھا دیا۔
علاقائی ماہرین کے مطابق سوڈانی فوج کو مصر، سعودی عرب، ایران اور ترکی کی حمایت حاصل ہے، جبکہ آر ایس ایف کو متحدہ عرب امارات کے تعاون کا فائدہ حاصل ہے۔ تمام فریقین کھلے عام مدد کے الزامات سے انکار کرتے ہیں، مگر شواہد اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اس سے مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔
زرعی زمین، بندرگاہیں اور قدرتی وسائل— سوڈان کی اصل کشش
زرخیز زمینیں اور خلیجی ممالک کی بھوک
صحرا سے گھرے خلیجی ممالک کے لیے سوڈان کی زرخیز زرعی زمینیں طویل عرصے سے پرکشش رہی ہیں۔ جنگ سے پہلے یو اے ای اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا تھا جبکہ اماراتی کمپنیاں ہزاروں ہیکٹر اراضی کی مالک تھیں۔
2019 میں عمر البشیر کی حکومت کے خاتمے سے پہلے سعودی عرب اور قطر بھی بڑے زرعی منصوبوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔
بحیرہ احمر: عالمی تجارت کی شاہراہ
سوڈان کی ساحلی پٹی بحیرہ احمر سے گزرتی ہے جو بحر ہند اور میڈیٹیرینین کے درمیان عالمی تجارت کی ایک اہم راہداری ہے۔ اٹلانٹک کونسل کے مطابق دنیا کی 10 سے 12 فیصد بحری تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے، جسے خطرے میں ڈالنے کا مطلب عالمی سطح پر معاشی ہلچل ہے۔
روس، ترکی اور یو اے ای کی جانب سے گزشتہ برسوں میں سوڈانی بندرگاہوں یا نیول بیس کے معاہدوں کے حصول کی کوششیں اسی جغرافیائی اہمیت کا مظہر ہیں، اگرچہ یہ مذاکرات اکثر تعطل کا شکار رہے۔
یو اے ای اور آر ایس ایف: الزامات اور شواہد
جنگ کے فوراً بعد سوڈانی حکومت نے یو اے ای سے تعلقات منقطع کر کے الزام عائد کیا کہ ابوظہبی آر ایس ایف کو اسلحہ اور کرائے کے جنگجو فراہم کر رہا ہے۔
مئی 2024 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بموں کے ملبے کی تصاویر کی بنیاد پر کہا کہ آر ایس ایف کے پاس موجود ہتھیاروں کی نوعیت یو اے ای کی جانب سے فراہم کردہ چینی اسلحے سے مطابقت رکھتی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق چاڈ کے شہر ام جرس کا ہوائی اڈہ طویل عرصے تک یو اے ای کارگو طیاروں کی آمد و رفت کا مرکزی مرکز رہا۔
اسی طرح مشرقی لیبیا، جو جنگجو کمانڈر خلیفہ حفتر کے زیرِ اثر ہے، آر ایس ایف کے لیے اسلحے اور ایندھن کی نئی راہداری بن چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جون سے 200 سے زائد فوجی کارگو طیارے بن غازی اور کُفرا میں اتر چکے ہیں۔
امریکی واچ ڈاگ تنظیم دی سینٹری کا کہنا ہے کہ حفتر کی آر ایس ایف سے قربت “یو اے ای کی گہری وفاداری” کا نتیجہ ہے۔
سونے کی جنگ: خانہ جنگی کی اصل بنیاد؟
جنوبی سوڈان کی 2011 میں علیحدگی کے بعد سونا سوڈان کی معیشت کی شہ رگ بن گیا۔ جنگ سے پہلے ملک سالانہ 80 ٹن سے زائد سونا پیدا کرتا تھا اور 2021 میں اس کی برآمدات 2.85 ارب ڈالر تک جا پہنچی تھیں۔
جنگ کے دوران سرکاری کھدائی کمزور ہوئی اور غیر قانونی کان کنی کے نیٹ ورک مضبوط ہو گئے۔ برطانوی تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس کے مطابق فوج اور آر ایس ایف کے درمیان سونے کی کانوں اور تجارت پر کنٹرول کی جنگ ہی اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں دھڑوں کے سونے—چاہے وہ مصر کے راستے فوج کا ہو یا لیبیا کے راستے آر ایس ایف کا—کی آخری منزل دبئی ہی بنتی ہے۔
سوئس این جی او سوئس ایڈ نے یو اے ای کو “مشکوک سونے کا عالمی مرکز” قرار دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں سوڈان سے یو اے ای کی سونے کی درآمدات میں 70 فیصد اضافہ ہوا۔
ماہرین کے مطابق یہی سونا جنگجوؤں کی وفاداریاں خریدنے، اسلحہ حاصل کرنے اور جنگ جاری رکھنے کے لیے ضروری ڈالرز فراہم کرتا ہے۔
ڈرونز، کرائے کے جنگجو اور علاقائی پراکسی وار
سوڈانی فوج کو ایران اور ترکی کی جانب سے جدید ڈرونز کی فراہمی کے اشارے ملے ہیں، جنہوں نے مارچ 2024 میں خرطوم کے کچھ حصے واپس لینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
مقابلے میں آر ایس ایف نے اپنے فضائی دفاع کو مضبوط کیا ہے اور مبینہ طور پر یو اے ای سے چینی ساختہ ڈرونز حاصل کیے ہیں—یہ الزام ابوظہبی مسترد کرتا ہے۔
فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے محقق تھیئری ورکولاں کے مطابق آر ایس ایف نے تنازع کے آغاز سے ہی بڑے پیمانے پر غیر ملکی کرائے کے جنگجو بھرتی کیے، جن میں روسی، شامی، کولمبینی اور ساحل کے دیگر افریقی ممالک کے افراد شامل ہیں۔
انسانی المیہ: دنیا کا نظرانداز کیا گیا بحران
جارحیت، غیر ملکی مداخلت اور معاشی مفادات کے اس گورکھ دھندے میں سب سے زیادہ قیمت عام سوڈانی لوگ ادا کر رہے ہیں۔
ملک کے اسپتال تباہ، امدادی راہیں مسدود اور غذائی قلت شدید تر ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق سوڈان کے کچھ علاقوں میں قحط کا خطرہ سر پر کھڑا ہے، مگر عالمی سطح پر اس بحران کو وہ توجہ نہیں مل رہی جو یوکرین یا غزہ جیسے تنازعات کو حاصل ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک خطے کی بڑی طاقتیں سوڈان کو معاشی، عسکری اور جغرافیائی اثر و رسوخ کی جنگ کا میدان بنائے رکھیں گی، تب تک اس خانہ جنگی کے اختتام کے امکانات کم ہیں۔
سوڈان کی بے پناہ معدنی دولت—خصوصاً سونا—اور بحیرہ احمر کی اسٹریٹجک اہمیت اس تنازعے کو ایک طویل اور پیچیدہ علاقائی پراکسی جنگ میں بدل چکی ہے۔







