
پنجاب میں سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی: 12 مشتبہ دہشت گرد گرفتار، بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے لیے کام کرنے کا الزام
سیکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ افراد سے مختلف اشیاء بشمول تصاویر، ویڈیوز، دھماکا خیز مواد اور ہتھیار برآمد کیے
ڈاکٹر اصغر واہلہ-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے پیر کے روز ایک اہم اعلان کیا، جس میں کہا گیا کہ اس نے لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے دوران 12 مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے، جو مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’ریسرچ اینالیسیس ونگ‘ (را) کے لیے کام کر رہے تھے۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ گرفتاریاں حساس اداروں کی معاونت سے کی گئیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ افراد سے مختلف اشیاء بشمول تصاویر، ویڈیوز، دھماکا خیز مواد اور ہتھیار برآمد کیے، جو ان تینوں شہروں میں ممکنہ طور پر دہشت گردی کی کارروائیوں کو ناکام بنانے کا سبب بنے۔
گرفتار افراد اور برآمد مواد:
ترجمان نے بتایا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد ہونے والے مواد میں حساس مقامات کی تصاویر، ایک مذہبی مدرسے کی ویڈیوز اور دیگر معلومات شامل تھیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ یہ گروہ صوبہ پنجاب میں مذہبی منافرت اور خوف پھیلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان افراد کا مقصد عبادت گاہوں اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنانا تھا۔
لاہور میں گرفتار ہونے والے مشتبہ افراد کی شناخت سکھدیپ سنگھ، اعظم، فیضان، نبیل، ابرار، عثمان اور سرفراز کے طور پر کی گئی۔ فیصل آباد میں ایک مشتبہ شخص دانش، جبکہ بہاولپور سے رجب، ہاشم، ثاقب اور عارف کو گرفتار کیا گیا۔ ان تمام افراد پر الزام ہے کہ وہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے کام کرتے تھے اور انہیں مالی مدد فراہم کی جا رہی تھی۔
فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے دہشت گردی کی منصوبہ بندی:
سی ٹی ڈی کے مطابق، یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب محکمہ نے ایک فیس بک اکاؤنٹ کی تحقیقات شروع کی، جو مبینہ طور پر بھارت سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ اس اکاؤنٹ کے ذریعے دہشت گردوں کو بھارت کی جانب سے ہدایات اور مالی معاونت فراہم کی جاتی تھی، جس سے ان کے منصوبوں کی شدت کا پتا چلتا ہے۔
برآمد شدہ سامان:
سی ٹی ڈی نے بتایا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے کئی خطرناک مواد برآمد ہوا، جن میں 7 خود ساختہ دھماکا خیز آلات، 2 ڈیٹونیٹرز، 102 فٹ کی سیفٹی فیوز وائر، دھماکا خیز مواد، ہتھیار، موبائل فونز اور نقد رقم شامل ہیں۔ ان چیزوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
سی ٹی ڈی کی کارروائیوں کا تسلسل:
سی ٹی ڈی کی یہ کامیاب کارروائی اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان بھر میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے محکمہ باقاعدگی سے فعال ہے۔ سیکیورٹی ادارے دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس حاصل کرتے ہیں اور ان کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سی ٹی ڈی نے بتایا کہ ان گرفتار شدگان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
اس سے قبل، اگست 2023 میں سی ٹی ڈی سندھ نے ضلع بدین میں ایک شخص کے قتل کے بعد تحقیقات کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ اس کیس میں چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جو مبینہ طور پر ’را‘ کی مالی معاونت حاصل کر رہے تھے۔ اسی طرح، جون 2023 میں کراچی کے علاقے قائدآباد میں سی ٹی ڈی نے ایک کارروائی کے دوران 4 مشتبہ بھارتی ایجنٹس کو گرفتار کیا تھا۔
پاکستان میں بھارتی ایجنسی ’را‘ کی مداخلت:
پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ملوث ہونے کے الزامات نئی بات نہیں ہیں۔ متعدد مرتبہ پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی معاونت کر رہا ہے، خاص طور پر بلوچستان اور دیگر صوبوں میں۔ سی ٹی ڈی کی حالیہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں اور ان کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں۔
اختتام:
پاکستان کے سیکیورٹی ادارے اب تک دہشت گردی کی روک تھام کے لیے متعدد کامیاب کارروائیاں کر چکے ہیں اور اس وقت بھی دہشت گردوں کے مختلف گروپوں کو فعال ہونے سے روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ سی ٹی ڈی کی حالیہ کارروائیاں اس بات کا غماز ہیں کہ سیکیورٹی اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان کی قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ کامیاب کارروائیاں نہ صرف سیکیورٹی اداروں کے عزم کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ ان کی محنت اور قربانیوں کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں اکیلا نہیں ہے، اور عالمی سطح پر اس کی مدد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر جنگ لڑی جا سکے۔



