اہم خبریںپاکستان

67 واں گوادر ڈے — تاریخی الحاق کی یاد میں شاندار اور پروقار تقریبات کا انعقاد

گوادر کی ترقی صرف سرکاری منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ مقامی آبادی کی شمولیت بھی ناگزیر ہے۔

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان,وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

گوادر کے پاکستان سے الحاق کی 67 ویں سالگرہ کے موقع پر بدھ کے روز پورے ضلع میں سرکاری، عسکری اور عوامی سطح پر شاندار اور پروقار تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ 8 دسمبر 1958 کا دن، جب 174 سالہ عمانی حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور گوادر باضابطہ طور پر پاکستان کا حصہ بنا، اہلِ گوادر کے لیے تاریخ کا ایک سنگ میل ہے۔ اس دن کی اہمیت کے پیشِ نظر مختلف اداروں، تعلیمی مراکز اور سماجی تنظیموں کی جانب سے خصوصی پروگرام ترتیب دیے گئے جن میں قومی پرچم کشائی، تقاریر، ملی نغمے، ثقافتی شو اور خصوصی دعاؤں کے سیشن شامل تھے۔

8 دسمبر 1958 کا دن، جب 174 سالہ عمانی حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور گوادر باضابطہ طور پر پاکستان کا حصہ بنا
8 دسمبر 1958 کا دن، جب 174 سالہ عمانی حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور گوادر باضابطہ طور پر پاکستان کا حصہ بنا

دیمی زر فلیگ پوسٹ پر مرکزی تقریب

مرکزی تقریب دیمی زر فلیگ پوسٹ پر منعقد ہوئی جہاں جنرل آفیسر کمانڈنگ 44 ڈویژن میجر جنرل حبیب نواز نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو لہرایا جس کے ساتھ ہی "پاکستان زندہ باد” کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔ تقریب میں پاک فوج، پاک بحریہ، ایف سی، کوسٹ گارڈز اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سمیت بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی، جن میں طلبہ، قبائلی عمائدین اور سماجی رہنما بھی شامل تھے۔

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان

تاریخی پس منظر اور خراجِ عقیدت

شرکاء نے اس تاریخی دن کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں 1958 کے اُس عظیم لمحے کا ذکر کیا جب گوادر پاکستان کے نقشے میں شامل ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح اُس وقت کے لیفٹیننٹ افتخار احمد سروہی—جو بعد میں پاک بحریہ کے چیف آف نیول اسٹاف اور پھر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے منصب پر فائز ہوئے—نے پاک بحریہ کی ایک پلاٹون کے ہمراہ گوادر میں پہلی مرتبہ قومی پرچم لہرایا۔ اس تاریخی اقدام کو پاکستان کی میری ٹائم تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب قرار دیا جاتا ہے، جس نے مستقبل میں گوادر کی بحری اہمیت اور دفاعی کردار کی بنیاد رکھی۔

گوادر کی اسٹریٹجک اور معاشی اہمیت پر گفتگو

تقریب کے مقررین نے گوادر کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت پر بھی جامع روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر مستقبل میں علاقائی تجارت، شپنگ، فشریز اور میری ٹائم سیکٹر کا ایک مضبوط مرکز ثابت ہوگا۔ پاک بحریہ اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے مقررین نے کہا کہ انہوں نے نہ صرف ساحلی علاقے کے تحفظ کو مضبوط بنایا بلکہ مقامی کمیونٹیز کی فلاح و بہبود میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس موقع پر مقامی عمائدین نے بھی اظہارِ خیال کیا اور گوادر کی ترقیاتی سرگرمیوں، معاشی مواقع اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق امیدوں کا اظہار کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ گوادر کی ترقی صرف سرکاری منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ مقامی آبادی کی شمولیت بھی ناگزیر ہے۔

ثقافتی رنگ اور حب الوطنی کا شاندار مظاہرہ

تقریب کے دوران مختلف اسکولوں کے بچوں نے حب الوطنی کے ملی نغمے پیش کیے، خصوصی ٹیبلوز اور پرفارمنسز کے ذریعے گوادر کی ثقافت، تاریخ اور ترقی کے سفر کی عکاسی کی۔ مقامی فنکاروں نے بلوچی لوک موسیقی پیش کر کے تقریب کو خوبصورت رنگوں سے بھر دیا۔ شرکاء نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ گوادر کی ثقافت اور روایات کو قومی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

اختتامی لمحات

تقریب کا اختتام ملک کی سلامتی، گوادر کی ترقی، سرحدوں کے تحفظ اور عوامی خوشحالی کے لیے خصوصی دعا پر ہوا۔ شرکاء نے یقین دلایا کہ گوادر کو خطے کا اقتصادی اور میری ٹائم حب بنانے کے لیے تمام ادارے مل کر اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

اس موقع پر پورا گوادر ایک نئے عزم، اتحاد اور قومیت کے جذبے سے سرشار دکھائی دیا—یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ 8 دسمبر 1958 کا دن آج بھی لوگ دل سے یاد کرتے ہیں اور اسے اپنے مستقبل کی بنیاد سمجھتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button