
رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز کےساتھ
9 دسمبر، پاکستان کی بحری تاریخ کا ایک سنگ میل ہے، جو پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور کے افسران اور عملے کی بے مثال شجاعت اور قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ 54 سال قبل، 9 دسمبر 1971 کو، ہنگور نے اپنی طاقتور کارروائی سے بھارت کی بحریہ کو زبردست شکست دی تھی، جب اس نے آئی این ایس ککری کو غرق اور آئی این ایس کرپان کو ناکارہ بنا دیا تھا۔ یہ حملہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی جنگی جہاز کے خلاف آبدوز کا پہلا کامیاب معرکہ تھا اور جدید تاریخ میں کسی روایتی آبدوز کا واحد کامیاب حملہ شمار ہوتا ہے۔
پاک بحریہ کی طرف سے ہنگور کی یاد میں ڈوکمنٹری "ہدف” پبلش کی گئی
پاک بحریہ نے 9 دسمبر 1971 کو اپنے تاریخی کامیاب آپریشن "ہنگور” کی یاد میں ایک خصوصی ڈوکمنٹری "ہدف” پبلش کی ہے، جس میں ہنگور آبدوز کی شجاعت اور قربانیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس ڈوکمنٹری کا مقصد نہ صرف ہنگور کے غازیوں کی بہادری اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے، بلکہ اس کے ذریعے آنے والی نسلوں کو پاک بحریہ کی تاریخ کے اس سنہری باب سے آگاہ کرنا بھی ہے۔
"ہدف” ڈوکمنٹری کا مقصد
ڈوکمنٹری "ہدف” میں ہنگور آبدوز کے تاریخی معرکے، اس کے عملے کی شجاعت اور عزم کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس ڈوکمنٹری میں آئی این ایس ککری کو غرق کرنے اور آئی این ایس کرپان کو ناکارہ بنانے کے آپریشن کی تفصیلات شامل ہیں، جو 1971 کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کی سب میرین سروس کے لیے ایک نہایت اہم کامیابی تھی۔
پاک بحریہ کی جانب سے یہ ڈوکمنٹری ایک ایسے وقت میں ریلیز کی گئی ہے جب 9 دسمبر کو ہنگور ڈے کے طور پر منایا جا رہا ہے، جو ہر سال پاک بحریہ کے لیے ایک اہم دن ہوتا ہے۔
چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کا پیغام
پاک بحریہ کے چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے ہنگور ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 9 دسمبر کا دن ہنگور کے عملے کی شجاعت، استقامت اور فرض شناسی کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لمحہ نہ صرف پاکستان کی بحری تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے، بلکہ یہ دشمن کے لیے بھی ایک عبرتناک یاد دہانی ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے اس کی بحریہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتی۔
ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا تھا کہ ہنگور کی فتح ایک تزویراتی کامیابی تھی، جو پاک بحریہ کی بے پناہ حوصلہ اور عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہنگور کا یہ شاندار کارنامہ اللہ کی نصرت کی علامت تھا، جس میں پیشہ ورانہ مہارت، فرض شناسی اور ثابت قدمی کے اعلیٰ ترین معیار دکھائے گئے۔ "ہنگور کے غازی عملے کے جرات مندانہ کردار اور قربانی نے ہماری سب میرین سروس کے لیے ایک قابل فخر تاریخی ورثہ تخلیق کیا، جو ہماری بحری روایات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔”
چین کے ساتھ آبدوزوں کے حصول کا پروگرام
ایڈمرل نوید اشرف نے مزید کہا کہ پاک بحریہ اپنی زیرِ آب جارحانہ صلاحیتوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ چین کے ساتھ جاری آبدوزوں کے حصول کے پروگرام کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد پاک بحریہ کی جارحانہ طاقت کو مزید تقویت دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہنگور کلاس آبدوزوں کی شمولیت پاک بحریہ کو مزید آپریشنل لچک فراہم کرے گی۔
شہداء کی قربانیاں یاد
ایڈمرل نوید اشرف نے پی این ایس/ایم غازی کے شہداء کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ہمیشہ پاک بحریہ کے عزم کا حصہ رہیں گی۔ "ہنگور کے کارنامے کو جشن مناتے ہوئے، ہمیں اپنے شہداء کی قربانیاں نہیں بھولنی چاہئیں جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔”
انہوں نے سب میرین سروس کی مستقبل کی کوششوں کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوتے ہوئے کہا، "اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔”
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پیغام
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی ہنگور ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں اس دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ 9 دسمبر 1971 کو آبدوز ہنگور نے اپنے افسران اور عملے کی قیادت میں پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر ثابت کیا۔ "پاک بحریہ کے افسران نے اپنی جرات، دلیری اور بہادری سے آبی سرحدوں کی حفاظت کو قومی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔”
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کو پاک بحریہ کے افسران اور عملے پر فخر ہے جنہوں نے بزدل دشمن کے چھپے ہوئے وار کو بے باک اور بے مثل کارکردگی سے ناکام بنا کر اپنے ملک کی عزت و تکریم میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ علاقائی اور بین الاقوامی امن اور بقائے باہمی کا خواہاں ہے، لیکن اس کے ساتھ دفاع وطن کو مضبوط، مستحکم اور محفوظ رکھنے کا غیر متزلزل عزم رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا، "9 دسمبر کا دن دشمن کو یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کی آبی سرحدیں آہنی ہاتھوں میں ہیں، اور ہماری بحریہ ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔”
ہنگور کی تاریخی فتح
9 دسمبر 1971 کا دن پاک بحریہ کے لیے ایک شاندار دن تھا جب ہنگور نے بھارتی بحریہ کے جہاز آئی این ایس ککری کو غرق کرکے دشمن کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی بحری حدود پر حملہ کرنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔ یہ حملہ نہ صرف پاکستان کے دفاعی عزم کا مظاہرہ تھا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاک بحریہ کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔
خلاصہ
9 دسمبر کا دن پاکستان کی بحری تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے جس نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی قوت کو ثابت کیا بلکہ عالمی سطح پر ایک طاقتور اور مستحکم پاکستان کی صورت میں اپنا اثر چھوڑا۔ پاک بحریہ کے ہنگور کے غازی عملے کی شجاعت، استقامت اور قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور اس دن کی یاد پاکستان کے بحری دفاع میں اہمیت رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کی بحریہ کی حفاظت کرے اور اسے مزید کامیابیاں حاصل ہوں۔




