اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس، اہم فیصلے اور اقدامات

اجلاس میں شریک حکام نے سیکورٹی ایس او پیز اور دیگر اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی، جن پر فوری عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

انصار ذاہد.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

صوبائی وزیر صحت و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی زیر صدارت محکمہ داخلہ میں تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر میں تعلیمی اداروں کی حفاظت کو مزید یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کی تفصیلات

اجلاس میں سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، سیکرٹری محکمہ سکول ایجوکیشن خالد نذیر وٹو، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن فرید احمد، اور سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ، سپیشل سیکرٹری آپریشنز محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نبیلہ عرفان، سپیشل سیکرٹری داخلہ فضل الرحمان، سپیشل سیکرٹری انڈسٹریز، ایڈیشنل سیکرٹری عائشہ ممتاز، ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سیکیورٹی، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی اور ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ

اجلاس کے دوران، تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شریک حکام نے سیکورٹی ایس او پیز اور دیگر اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی، جن پر فوری عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

صوبائی وزیر صحت و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق کا اظہار خیال

خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس کے دوران تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کی صورتحال کے حوالے سے اہم فیصلے کیے اور کہا کہ:

  • سکول سیفٹی مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید بہتر بنائے جا سکیں۔

  • صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں کا سیکیورٹی آڈٹ بھی کروایا جا رہا ہے تاکہ کمزوریوں کا پتا چلایا جا سکے اور ان کو دور کیا جا سکے۔

  • سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو تعلیمی اداروں میں باؤنڈری والز، گارڈز کی تربیت، اور تکنیکی آلات سمیت دیگر ایس او پیز پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • پینک بٹنز کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں فوراً کارروائی کی جا سکے۔

  • تعلیمی اداروں میں طلباء کو پرامن تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اظہار خیال

رانا سکندر حیات نے اجلاس کے دوران کہا:

  • پنجاب کے تمام تعلیمی اداروں کی میپنگ مکمل کی جا چکی ہے اور اس کے ذریعے ہر ادارے کی سیکیورٹی کی حالت کا جائزہ لیا گیا ہے۔

  • تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے تمام تعلیمی اداروں کو سیکیورٹی آڈٹ کے حوالے سے ہدایتیں جاری کی جا چکی ہیں۔

  • ہر تعلیمی ادارے میں ایمرجنسی نمبرز اور فوکل پرسنز کی نشاندہی کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر مدد حاصل کی جا سکے۔

سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کا اظہار خیال

ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اجلاس کے دوران کہا:

  • صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں موک ایکسرسائزز کروائی جا رہی ہیں تاکہ ایمرجنسی کی صورتحال میں اداروں کی تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • قانون نافذ کرنے والے ادارے اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کے تعاون سے سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ تعلیمی اداروں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا سکے۔

اقدامات اور فیصلے

اجلاس کے دوران تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے جو اہم فیصلے کیے گئے وہ درج ذیل ہیں:

  • تعلیمی اداروں میں پینک بٹنز کی تنصیب۔

  • سیکیورٹی آڈٹ اور ایمرجنسی نمبرز کی شناخت۔

  • باؤنڈری والز کی تعمیر اور گارڈز کی تربیت۔

  • موک ایکسرسائزز اور سیکیورٹی ایس او پیز پر عمل درآمد۔

  • صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں سیکورٹی انتظامات کی مسلسل نگرانی اور بہتری۔

خلاصہ

صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ حکام نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں پرامن تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے ذریعے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ طلباء اور اساتذہ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button