اہم خبریںپاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی فورم سے خطاب: جدید ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی، موسمیاتی انصاف اور عالمی امن کے فروغ پر زور

پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان دیرینہ دوستی کو مضبوط بنانے میں دونوں رہنماؤں کا اہم کردار ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز وزیراعظم آفس کے ساتھ

اشک آباد / اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی خصوصاً ڈیجیٹل سہولیات تک منصفانہ اور بلا امتیاز رسائی دنیا بھر کی اقوام کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ یہی معاشی ترقی، غربت کے خاتمے اور پائیدار مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پاکستان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم نے یہ بات جمعہ کے روز اشک آباد میں منعقدہ بین الاقوامی سال برائے امن و اعتماد، عالمی دن برائے غیر جانبداری اور ترکمانستان کی مستقل غیر جانبداری کے 30 سال مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اشک آباد میں خطاب: ترکمانستان کی مہمان نوازی اور دوستی کو سراہا

اپنے خطاب کے آغاز میں شہباز شریف نے ترکمانستان کی مہمان نوازی، سفید سنگ مرمر کے خوبصورت شہر اشک آباد، اور ترکمان عوام کی گرمجوشی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ترکمانستان کا یہ ان کا پہلا دورہ ضرور ہے، لیکن وہ خود کو یہاں اجنبی محسوس نہیں کرتے۔

انہوں نے ترکمانستان کے سابق قومی رہنما قربان گلی بردی محمدوف اور موجودہ صدر سردار بردی محمدوف کو ’’بھائی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان دیرینہ دوستی کو مضبوط بنانے میں دونوں رہنماؤں کا اہم کردار ہے۔

موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات — دنیا کے بڑے چیلنجز

وزیراعظم نے کہا کہ آج دنیا کو سب سے بڑے خطرات میں موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات شامل ہیں۔ ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تباہ کاریوں کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر سیلاب، جانی نقصان اور مالی تباہی کا سامنا کیا، اور اب عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’’ہم نے گرین انرجی، ماحول دوست منصوبوں اور پائیدار ترقی کے لیے عالمی سطح پر قابلِ تقلید اقدامات کیے ہیں۔‘‘

جدید ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی ناگزیر

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے تمام افراد اور ممالک کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک برابر اور غیر امتیازی رسائی ملنا ضروری ہے، کیونکہ یہی جدید ترقی، فلاح و بہبود اور معاشی خودمختاری کا راستہ ہے۔
انہوں نے پاکستان میں مالیاتی شمولیت، خواتین کی معاشی شرکت اور کمزور طبقات کے لیے اقدامات کا حوالہ دیا۔

عالمی امن — پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہے اور پاکستان ہمیشہ عالمی امن و سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے رواں سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں اور عالمی تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

افغانستان: دہشت گردی کے خطرے پر تشویش

وزیراعظم نے خبردار کیا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے خدشات دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ طالبان حکومت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے اور اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے پر آمادہ کرے۔

مشرق وسطیٰ: فلسطین اور غزہ کے لیے پاکستان کی کوششیں

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان، قطر، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کی جنگ بندی کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ منظور ہوا، جسے بعد ازاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی توثیق کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور بے گناہ جانوں کے تحفظ، مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

کشمیر کا مسئلہ: پاکستان اصولی موقف برقرار رکھے گا

وزیراعظم نے واضح کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام اور بہادر کشمیریوں کے بنیادی حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا رہے گا، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا جائز حق ہے۔

2030 کا ایجنڈا — عالمی ترقی کے لیے اہم

انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے 2030 کا عالمی ایجنڈا پوری دنیا کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے، جس پر عمل درآمد سے ایک زیادہ پرامن اور خوشحال مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button