
“کاروبار بند، پالیسیاں ناکام، تاجر پریشان!” ،آل پاکستان چیمبرز کانفرنس میں میاں انجم نثار کا دوٹوک مؤقف
میاں انجم نثار نے ادارہ جاتی کارروائیوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے بلا جواز نوٹسز، اچانک چھاپے اور غیر ضروری ہراسانی کاروباری طبقے کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے
انصار ذاہد سیال.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
آل پاکستان چیمبرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سابق صدر میاں انجم نثار نے ملک میں بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی پالیسیاں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں تیزی سے سکڑ رہی ہیں اور ملک بھر میں کاروبار بند ہونے کا خطرناک رجحان سامنے آ رہا ہے۔
میاں انجم نثار نے کہا کہ آج پاکستان کی تاجر برادری شدید دباؤ کا شکار ہے۔ کاروبار روز بروز بند ہو رہے ہیں، سرمایہ کاری کا پہیہ تقریباً رک چکا ہے اور بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت، تجارت اور خدمات کے شعبے شدید بحران سے دوچار ہیں، جس کے اثرات نہ صرف تاجروں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے موجودہ معاشی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے حکومتی پالیسیاں اب کاروبار دوست نہیں رہیں۔ غیر یقینی صورتحال، بار بار بدلتے ہوئے قوانین، بھاری ٹیکسز اور پیچیدہ ریگولیٹری نظام نے صنعت اور تجارت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پالیسیوں کا براہِ راست نقصان ملکی معیشت، صنعتی پیداوار اور برآمدات کو ہو رہا ہے، جس سے قومی آمدن میں کمی اور مالی خسارہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
میاں انجم نثار نے ادارہ جاتی کارروائیوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے بلا جواز نوٹسز، اچانک چھاپے اور غیر ضروری ہراسانی کاروباری طبقے کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ ان اقدامات کے باعث تاجروں کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے اور کاروباری ماحول تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاجر قانون کی بالادستی کے حامی ہیں، لیکن اختیارات کے غلط استعمال اور ہراسانی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
سابق صدر ایف پی سی سی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تاجر برادری کو دشمن کے طور پر دیکھنے کے بجائے معیشت کا ستون سمجھا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ پالیسی سازی کے عمل میں تاجروں اور صنعتکاروں کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے، کیونکہ عملی میدان میں موجود مسائل اور ان کے حل سے تاجر برادری ہی بہتر طور پر آگاہ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور تاجر برادری کے درمیان مسلسل اور بامعنی مشاورت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر فوری طور پر اصلاحات نہ کی گئیں، ٹیکس نظام کو سادہ اور شفاف نہ بنایا گیا اور کاروبار دوست ماحول فراہم نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں ملکی معیشت کو سنبھالنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آخر میں میاں انجم نثار نے خبردار کیا کہ پاکستان کی معاشی بقا کا دارومدار مضبوط صنعت، فعال تجارت اور پائیدار سرمایہ کاری پر ہے۔ اگر موجودہ صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو نہ صرف کاروباری طبقہ بلکہ پوری معیشت شدید بحران کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے فوری اور سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ اعتماد کی بحالی، روزگار کے مواقع اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔



