پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

ایسوسی ایشن آف پاکستانی گریجویٹس فرام رشیا اینڈ سی آئی ایس (اے پی جی آر) نے صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ حملے کی شدید مذمت کی

عالمی سطح پر سربراہانِ مملکت اور ان کی رہائش گاہوں کو خصوصی تحفظ حاصل ہے اور ان پر حملے کو کسی صورت میں قابلِ قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔

عامر سہیل-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

لاہور: ایسوسی ایشن آف پاکستانی گریجویٹس فرام رشیا اینڈ سی آئی ایس (اے پی جی آر) نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ پر یوکرائن حکومت کی جانب سے مبینہ حملے کی اطلاعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن اور صدر پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ واقعہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور اس طرح کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین، سفارتی آداب اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

تشویش کا اظہار
اے پی جی آر کی قیادت نے اس واقعے کو بین الاقوامی تعلقات میں کشیدگی بڑھانے والا سنگین عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی خودمختار ملک کے سربراہِ مملکت کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانا عالمی ضابطۂ اخلاق کے منافی ہے اور اس سے بین الاقوامی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی سطح پر سربراہانِ مملکت اور ان کی رہائش گاہوں کو خصوصی تحفظ حاصل ہے اور ان پر حملے کو کسی صورت میں قابلِ قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔

ڈاکٹر شاہد حسن کا بیان
چیئرمین اے پی جی آر ڈاکٹر شاہد حسن نے اپنے بیان میں کہا کہ "اس مبینہ حملے نے عالمی سطح پر عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔” انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس معاملے پر خاموش رہنے کی بجائے ایک واضح اور مضبوط مؤقف اپنانا چاہیے۔ ڈاکٹر شاہد حسن نے خبردار کیا کہ اگر ایسے اقدامات کو روکا نہ گیا تو مستقبل میں عالمی تنازعات اور کشیدگیاں مزید بڑھ سکتی ہیں، جن کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

سفارتی حل کی اہمیت
ڈاکٹر شاہد حسن نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی مسائل کا حل طاقت یا عسکری کارروائیوں سے نہیں، بلکہ بات چیت، مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے نکلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں کئی بار تشدد اور اشتعال انگیزی کے راستے پر چل کر مسائل حل کرنے کی کوششیں کی گئی، لیکن نتیجہ ہمیشہ مزید تناؤ اور بحران کی صورت میں نکلا۔

پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی کا بیان
اے پی جی آر کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے اس واقعے پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ "روس اور یوکرائن کے درمیان جاری تنازع پہلے ہی عالمی سطح پر سنگین مسائل کا سبب بن چکا ہے، اور ایسے میں کسی سربراہِ مملکت کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانا بین الاقوامی تعلقات کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا سکتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ اس قسم کی کارروائیاں عالمی سلامتی کے نظام کو کمزور کرتی ہیں اور دنیا بھر میں عدم اعتماد کے جذبات کو بڑھاتی ہیں۔

عالمی اداروں کی مداخلت کی ضرورت
پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس واقعے کا فوری اور غیر جانبدارانہ نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کرائیں اور اس کے حقائق دنیا کے سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا تعین کرنا ضروری ہے کہ اس حملے کے پیچھے کون سے عناصر ہیں اور ان کا احتساب کیا جانا چاہیے تاکہ عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو کامیاب بنایا جا سکے۔

تحمل اور بردباری کی اپیل
اے پی جی آر کی قیادت نے تمام فریقین سے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، اور کہا کہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی عالمی سطح پر ایک بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہے جس کے اثرات پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن کی کوششوں کو فروغ دینے کے لیے فریقین کو ذہانت، حکمت اور بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

ایسوسی ایشن کا موقف
اے پی جی آر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ تنظیم ہمیشہ عالمی امن، ریاستی خودمختاری، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور اقوام کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کی حمایت کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی یہ اصول اس کی ترجیح رہیں گے۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات جو عالمی امن، سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔

آگے کا لائحہ عمل
آخر میں اے پی جی آر کے رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی برادری اس نازک صورتحال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تمام اقدامات کو روکا جائے جو عالمی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

اس واقعے کی تحقیقات اور اس کے بعد کے اقدامات پر عالمی برادری کی نظر رکھی جائے گی، کیونکہ اس طرح کے تنازعات کی صورت میں عالمی سطح پر توازن کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button