پاکستاناہم خبریں

انفارمیشن سروس اکیڈمی (ISA) کی طرف سے "بھارت کی جارحیت اور پاکستان کا سٹریٹجک ردعمل

پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم رکھنے اور آئندہ کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی فکری مشغولیت ضروری ہے

 سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

انفارمیشن سروس اکیڈمی (ISA) نے اپنے آڈیٹوریم میں "بھارت کی جارحیت اور پاکستان کا سٹریٹجک ردعمل: مستقبل کے عمل کے بارے میں سوچنا” کے عنوان سے ایک اہم اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں اعلیٰ فوجی حکام، سفارت کاروں، اسکالرز اور طلباء نے شرکت کی اور علاقائی سلامتی کے ابھرتے ہوئے حالات اور پاکستان کے اسٹریٹجک نقطہ نظر پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کی اہمیت اور مقصد
اس پروگرام کا مقصد جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کی سٹریٹجک حکمت عملی اور دفاعی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔ اس موقع پر محترمہ عمرانہ وزیر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل ISA نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اس بات پر زور دیا کہ اس وقت میں باخبر اور حقیقت پسندانہ گفتگو کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم رکھنے اور آئندہ کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی فکری مشغولیت ضروری ہے۔

سابق جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا خطاب
اس اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں سابق جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے حالیہ علاقائی پیش رفتوں سے حاصل ہونے والے اسٹریٹجک اسباق پر تفصیل سے بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن کی بنیاد صرف قابل اعتماد سکیورٹی تیاریوں پر رکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بھارت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت کے اسٹریٹجک مفروضے غلط ثابت ہوئے ہیں‘‘ اور بھارت کو "آپریشن سندھ” کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بھارت کو سفارتکاری اور حقیقت پسندی کی جانب راستہ بدلنے کی تجویز دی اور تحمل اور ذمہ داری سے کام لینے کی اہمیت پر زور دیا۔

مقامی اور بین الاقوامی سفارتی امور پر بات چیت
ڈائیلاگ میں سابق کور کمانڈر جنرل (ر) خالد ربانی، سابق خارجہ سیکرٹری جناب جوہر سلیم اور جناب اعزاز احمد، اور سسی یونیورسٹی کی صدر ڈاکٹر ماریہ سلطان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے علاقائی استحکام، فوجی تیاری، فضائی طاقت کی صلاحیتوں، اور سفارتی مصروفیات کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر پیش کیے۔ مقررین نے خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی اور عسکری حرکیات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ فعال سفارتکاری کے ذریعے ہی ملک اپنی سکیورٹی کو مستحکم کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنے دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو بھی مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی پر غور
مقررین نے عالمی سطح پر درپیش سکیورٹی چیلنجز کو بھی اجاگر کیا اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ پاکستان کو ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کس طرح کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جارحیت کے پیش نظر پاکستان کو اپنی فوجی اور دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، تاہم سفارتکاری اور بات چیت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان کو اپنے تمام امکانات کا استعمال کرتے ہوئے ایک جامع اور پائیدار سٹریٹجک ردعمل تیار کرنا ہوگا۔

انٹرایکٹو سوال و جواب سیشن
اس کے بعد ایک انٹرایکٹو سوال و جواب سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء نے اس اہم موضوع پر سوالات کیے۔ طلباء کی جانب سے پوچھے گئے سوالات نے اس بات کو واضح کیا کہ نوجوان نسل اپنے ملک کی سکیورٹی پالیسیوں میں دلچسپی رکھتی ہے اور عالمی منظرنامے پر پاکستان کے کردار کو بہتر طور پر سمجھنا چاہتی ہے۔ پینلسٹس نے طلباء کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے پاکستان کی موجودہ دفاعی پالیسیوں اور اس کے عالمی تعلقات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

اختتامی کلمات اور آئندہ کے اقدامات
اس اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا اختتام محترمہ عمرانہ وزیر کے اختتامی کلمات کے ساتھ ہوا، جنہوں نے اس مکالمے کے اہم نکات کا خلاصہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سٹریٹجک دور اندیشی اور دانشمندانہ فیصلہ سازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے مکالموں کے ذریعے ہم اپنے دفاعی اور سفارتی حکمت عملیوں کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

محترمہ عمرانہ وزیر نے بتایا کہ یہ مکالمہ اس سلسلے کا پہلا تھا اور آئندہ چھ ماہ میں اسی طرح کے دیگر بصیرت افروز مکالمے اور تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے اس تقریب کو کامیاب بنانے میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ آئی ایس اے کے افسران اور عملے کی محنت نے اس ڈائیلاگ کی کامیاب تنظیم میں اہم کردار ادا کیا۔

نتیجہ
اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی اسٹریٹجک ردعمل کی تیاری کے لیے ایک جامع اور مفصل گفتگو کی بنیاد رکھی ہے، جس میں علاقائی سلامتی کے چیلنجز کے بارے میں سچائی پر مبنی مکالمہ ہوا۔ اس تقریب نے نہ صرف اسٹریٹجک سطح پر پاکستان کی پالیسیوں کا تجزیہ کیا بلکہ اس بات پر بھی زور دیا کہ سفارتکاری اور فوجی تیاریوں میں توازن برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کو اپنی سلامتی کو مستحکم کرنے کے لیے حکمت عملیوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مکالمے نے پاکستان کے سفارتی و دفاعی حکمت عملیوں کے حوالے سے آگاہی بڑھائی اور اس بات کی اہمیت کو واضح کیا کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں مسلسل حکمت عملیوں کی تجدید ضروری ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button