پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا 2025 کی تعلیمی اصلاحات پر اظہار خیال، 2026 میں مزید بہتری لانے کا عزم

حکومت نے دو ملین کی "گھوسٹ انرولمنٹ" ختم کی جس سے تعلیمی نظام کی حقیقت کو بہتر طور پر سامنے لایا گیا اور حقیقی طلباء کو تعلیمی اداروں میں شامل کیا گیا۔

قاسم بخاری-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے سال 2025 کی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال کی طرح 2025ء بھی پاکستان میں تعلیم کی بہتری کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے اس سال کی مختلف کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ سال مزید اصلاحات اور اقدامات کی توقع ہے جن سے پاکستان کے تعلیمی نظام میں مزید بہتری آئے گی۔

تعلیمی شعبے میں اصلاحات اور بہتری
رانا سکندر حیات نے کہا کہ 2025ء میں تعلیمی شعبے نے نمایاں پیش رفت کی اور اس سال مختلف اصلاحات، شفاف گورننس اور بڑے منصوبوں کے ذریعے پاکستان کے تعلیمی منظر نامے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے دو ملین کی "گھوسٹ انرولمنٹ” ختم کی جس سے تعلیمی نظام کی حقیقت کو بہتر طور پر سامنے لایا گیا اور حقیقی طلباء کو تعلیمی اداروں میں شامل کیا گیا۔

اساتذہ کی کمی پر قابو پانے کے اقدامات
وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ اساتذہ کی کمی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے 26 ہزار اساتذہ کی ریشنلائزیشن کی گئی، جس سے اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملی۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلی بار کریکولم ریفارمز پر تاریخی کام کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں تدریسی معیار کی بہتری لائی جائے۔ انہوں نے اساتذہ کی ٹریننگ کی اہمیت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ اس سال 1 لاکھ اساتذہ کو تربیت فراہم کی گئی۔

امتحانی اصلاحات اور ای مارکنگ
رانا سکندر حیات نے امتحانی نظام میں اصلاحات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سال تعلیمی بورڈز کو ای مارکنگ پر منتقل کیا گیا جس سے امتحانی عمل میں شفافیت آئی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی بورڈز میں ای مارکنگ کے نظام کا آغاز ایک بڑی کامیابی ہے اور اس سے نتائج کی تصدیق کا عمل بھی آسان ہو گیا ہے۔

ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن اور نیوٹریشن پروگرام
وزیر تعلیم نے ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن (ECE) پر خصوصی توجہ دینے کی بات کی اور کہا کہ اس سال 10 ہزار سکولوں میں ای سی ای رومز بنائے گئے ہیں، جن سے چھوٹے بچوں کی ابتدائی تعلیم میں بہتری آئی ہے۔ اسی طرح نیوٹریشن پروگرام کا دائرہ بتدریج وسیع کیا گیا ہے اور اس وقت روزانہ 11 لاکھ طلبہ و طالبات کو نیوٹریشن پروگرام سے مستفید کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت 11 لاکھ نیوٹریشن بیگ روزانہ ری سائیکل ہو رہے ہیں، جس سے سکولوں میں فرنیچر کی کمی پوری کرنے کے لیے 1.5 لاکھ سکول بینچ بنائے جا رہے ہیں۔

خواتین اساتذہ کے لیے سکیمز اور ڈویلپمنٹ بجٹ
وزیر تعلیم نے خواتین اساتذہ کے لیے خصوصی اسکیمز متعارف کرائیں اور سکوٹیز سکیم لانے کا اعلان کیا جس میں خواتین کو سمال انسٹالمنٹ پر سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے ریکارڈ اقدامات کیے گئے اور اس مقصد کے لیے ڈویلپمنٹ بجٹ کو بڑھا کر تاریخ میں پہلی بار 110 ارب روپے تک پہنچایا گیا۔

سکولوں کی اپ گریڈیشن اور ٹیچر سرٹیفیکیشن
2025ء میں 268 سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا اور اساتذہ کی ہراسمنٹ کے 37 کیسز پر فیصلے ہوئے۔ اس کے علاوہ پہلی بار "ٹیچر تکریم ایوارڈز” لانچ کیے گئے جس کا مقصد اساتذہ کی محنت اور ان کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ رانا سکندر حیات نے یہ بھی بتایا کہ 10 اضلاع میں "سنٹر آف ایکسیلنس” اور 300 سکول آف ایکسیلنس بنانے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جس میں سے پہلا سکول آف ایکسیلنس لانچ ہو چکا ہے۔

ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ
وزیر تعلیم نے ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں اور کہا کہ تمام ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں سٹیم کلبز بنائے جا چکے ہیں، جبکہ 50 فیصد ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں سٹیم لیبز کی تعمیر کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میٹرک ان ٹیکنالوجی کے تحت گریڈ 9 میں 51 ہزار بچے ٹیکنالوجی پڑھ رہے ہیں۔ سکولوں میں گوگل کلاؤڈ آئی ڈی کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا جا رہا ہے اور کروم بکس کی فراہمی کی طرف بھی قدم بڑھایا گیا ہے۔

سکالرشپ پروگرام اور سولرائزیشن
رانا سکندر حیات نے کہا کہ ہزاروں طلباء سکالرشپ پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں اور 50 فیصد سکولز اور کالجز کو سولرائز کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس کے علاوہ ٹیچر سرٹیفیکیشن پروگرام بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ اساتذہ کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد
وزیر تعلیم نے کہا کہ سکول آؤٹ سورسنگ کے بعد 250 فیصد انرولمنٹ میں اضافہ ہوا ہے اور سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بڑھا ہے۔ اس میں انہوں نے خود اپنے بیٹے کو سرکاری سکول میں داخل کروا کر ایک مثال قائم کی ہے، جس سے عوام کو یقین دہانی ہوئی کہ سرکاری سکول بھی اب بہتر معیار کی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔

آئندہ کا لائحہ عمل
وزیر تعلیم نے کہا کہ 2025ء میں کیے گئے اقدامات صرف ابتدائی قدم ہیں اور 2026ء میں تعلیمی شعبے میں مزید بہتری لانے کے لیے نئے منصوبے اور اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال بھی تعلیم کے میدان میں ریکارڈ کام کیا جائے گا اور حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تعلیمی شعبہ مزید مستحکم اور جدید ہو۔

نتیجہ
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ "ہمارے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے۔ ہمارا کام دکھائی دیتا ہے۔ ہم صرف کرنے کا کہتے نہیں، بلکہ کر کے دکھاتے ہیں۔” ان کا عزم ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں شامل ہوگا اور آئندہ سال مزید اصلاحات کے ذریعے تعلیم کے شعبے میں مزید بہتری لائی جائے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button