
جواد احمد-جرمنی،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
جرمنی کے مغربی شہر گیلزن کرشن میں بینک ڈکیتی کے ایک بڑے واقعے میں نامعلوم ملزمان ایک بینک کے والٹ روم میں داخل ہو کر تقریباﹰ 30 ملین یورو کے برابر نقد رقوم اور قیمتی زیورات و جواہرات لے اڑے۔
جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے دارالحکومت ڈسلڈورف سے منگل 30 دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق سکیورٹی ذرائع اور تفتیش کاروں نے بتایا کہ اس ڈکیتی میں ملزمان جتنی بڑی مالیت میں زر و جواہر سمیٹ کر غائب ہو گئے، وہ قریب 30 ملین یورو یا 35.2 ملین ڈالر کے برابر بنتے ہیں۔
اس واقعے میں مجرموں نے بینک کے والٹ میں سیف ڈیپازٹ کے لیے استعمال ہونے والے قریب 3,200 لاکر توڑ کر ان میں رکھی گئی نقدی اور زیورات پر ہاتھ صاف کر دیا۔

جدید جرمنی کی تاریخ میں کسی بینک میں ڈکیتی کا سب سے بڑا واقعہ
جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس جرم کی چھان بین کرنے والے تفتیشی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر جدید جرمنی کی تاریخ میں کسی بینک میں ڈکیتی کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔
متعلقہ بینک کے ذرائع کے مطابق والٹ روم میں نصب لاکروں کی سہولت استعمال کرنے والے بینک کے گاہکوں میں سے کئی ایک نے ایک سے زیادہ لاکر کرائے پر لے رکھے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جن قریب 3,200 لاکروں کو توڑا گیا، ان میں رکھی گئی قیمتی اشیاء کے مالک اور بینک کے متاثرہ گاہکوں کی تعداد 2,500 سے زائد بنتی ہے۔

دیگر رپورٹوں کے مطابق اس بینک میں ڈکیتی کے واقعے کا سکیورٹی کو علم اس وقت ہوا، جب پیر 29 دسمبر کی صبح وہاں نصب فائر الارم یکدم فعال ہو گیا تھا۔
بینک کے متاثرہ گاہکوں کا احتجاج
اس واقعے کے بعد آج منگل کے روز گیلزن کرشن میں لوٹے گئے بینک کی برانچ کے سامنے تقریباﹰ 200 ایسے متاثرہ کسٹمر جمع ہو گئے، جو یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ بینک کی طرف سے انہیں ان کی لاکروں سے لوٹ لی گئی املاک کے بارے میں واضح تفصیلات بتائی جائیں۔
اس دوران کئی متاثرہ گاہکوں نے اشتعال میں آ کر زبردستی بینک میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی، جس پر پولیس طلب کرنا پڑ گئی۔ پولیس نے ان متاثرین کو بینک کے دروازے کے سامنے سے ہٹا کر اس برانچ کے بند کر دیے جانے کا اعلان کر دیا۔
گیلزن کرشن میں جس بینک کو لوٹا گیا، وہ جرمنی میں علاقائی بینکوں کے اس سلسلے کا ایک بینک ہے، جو چھوٹے بڑے شہروں میں اکثر کام کرتے ہیں اور جن میں عام شہری اپنی بچتی رقوم جمع کراتے ہیں۔
اسی لیے ان بینکوں کو جرمن زبان میں ’شپارکاسن‘ یا ’سیونگ بینکس‘ کہا جاتا ہے۔


