تازہ ترینیورپ

جرمنی میں بہت بڑی بینک ڈکیتی، ملزم 30 ملین یورو کے برابر نقد رقوم اور زیورات لے اڑے

نامعلوم ڈکیٹ ایک دیوار میں تصویر میں نظر آنے والا بڑا سوراخ کر کے بینک کے لاکر روم تک پہنچے

جواد احمد-جرمنی،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

جرمنی کے مغربی شہر گیلزن کرشن میں بینک ڈکیتی کے ایک بڑے واقعے میں نامعلوم ملزمان ایک بینک کے والٹ روم میں داخل ہو کر تقریباﹰ 30 ملین یورو کے برابر نقد رقوم اور قیمتی زیورات و جواہرات لے اڑے۔

جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے دارالحکومت ڈسلڈورف سے منگل 30 دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق سکیورٹی ذرائع اور تفتیش کاروں نے بتایا کہ اس ڈکیتی میں ملزمان جتنی بڑی مالیت میں زر و جواہر سمیٹ کر غائب ہو گئے، وہ قریب 30 ملین یورو یا 35.2 ملین ڈالر کے برابر بنتے ہیں۔

اس واقعے میں مجرموں نے بینک کے والٹ میں سیف ڈیپازٹ کے لیے استعمال ہونے والے قریب 3,200 لاکر توڑ کر ان میں رکھی گئی نقدی اور زیورات پر ہاتھ صاف کر دیا۔

بہت سے گاہکوں نے اس بینک کے لاکرز میں اپنا سونا اور جواہرات بھی رکھے ہوئے تھے
بہت سے گاہکوں نے اس بینک کے لاکرز میں اپنا سونا اور جواہرات بھی رکھے ہوئے تھےتصویر: Frank Hoermann/SVEN SIMON/picture alliance

جدید جرمنی کی تاریخ میں کسی بینک میں ڈکیتی کا سب سے بڑا واقعہ

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس جرم کی چھان بین کرنے والے تفتیشی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر جدید جرمنی کی تاریخ میں کسی بینک میں ڈکیتی کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

متعلقہ بینک کے ذرائع کے مطابق والٹ روم میں نصب لاکروں کی سہولت استعمال کرنے والے بینک کے گاہکوں میں سے کئی ایک نے ایک سے زیادہ لاکر کرائے پر لے رکھے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جن قریب 3,200 لاکروں کو توڑا گیا، ان میں رکھی گئی قیمتی اشیاء کے مالک اور بینک کے متاثرہ گاہکوں کی تعداد  2,500 سے زائد بنتی ہے۔

گیلزن کرشن میں لوٹا گیا بینک اسی طرز کا ’سپار کاسے‘ تھا، جیسا اس تصویر میں برلن کا ’شپار کاسے‘ یا علاقائی سیونگ بینک نظر آ رہا ہے
گیلزن کرشن میں لوٹا گیا بینک اسی طرز کا ’سپار کاسے‘ تھا، جیسا اس تصویر میں برلن کا ’شپار کاسے‘ یا علاقائی سیونگ بینک نظر آ رہا ہےتصویر: Schoening/picture alliance

دیگر رپورٹوں کے مطابق اس بینک میں ڈکیتی کے واقعے کا سکیورٹی کو علم اس وقت ہوا، جب پیر 29 دسمبر کی صبح وہاں نصب فائر الارم یکدم فعال ہو گیا تھا۔

بینک کے متاثرہ گاہکوں کا احتجاج

اس واقعے کے بعد آج منگل کے روز  گیلزن کرشن میں لوٹے گئے بینک کی برانچ کے سامنے تقریباﹰ 200 ایسے متاثرہ کسٹمر جمع ہو گئے، جو یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ بینک کی طرف سے انہیں ان کی لاکروں سے لوٹ لی گئی املاک کے بارے میں واضح تفصیلات بتائی جائیں۔

اس دوران کئی متاثرہ گاہکوں نے اشتعال میں آ کر زبردستی بینک میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی، جس پر پولیس طلب کرنا پڑ گئی۔ پولیس نے ان متاثرین کو بینک کے دروازے کے سامنے سے ہٹا کر اس برانچ کے بند کر دیے جانے کا اعلان کر دیا۔

گیلزن کرشن میں جس بینک کو لوٹا گیا، وہ جرمنی میں علاقائی بینکوں کے اس سلسلے کا ایک بینک ہے، جو چھوٹے بڑے شہروں میں اکثر کام کرتے ہیں اور جن میں عام شہری اپنی بچتی رقوم جمع کراتے ہیں۔

اسی لیے ان بینکوں کو جرمن زبان میں ’شپارکاسن‘ یا ’سیونگ بینکس‘ کہا جاتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button