پاکستاناہم خبریں

پنجاب میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ میں غیرمعمولی اضافہ

مالی سال 26-2025 میں بجٹ پانچ گنا بڑھا دیا گیا، شفافیت اور ترجیحات پر سوالات اٹھنے لگے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پنجاب حکومت کی مالی دستاویزات کے مطابق مالی سال 26-2025 کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب کے صوابدیدی فنڈ میں غیرمعمولی اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ مد ایک بار پھر سیاسی اور معاشی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق رواں مالی سال میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کے لیے 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ ہیں۔

دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 25-2024 میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کے لیے تین کروڑ روپے رکھے گئے تھے، جبکہ اس سے قبل بھی کئی برسوں تک یہی رقم برقرار رہی۔ تاہم 26-2025 کے بجٹ میں اس مد کو نمایاں طور پر بڑھاتے ہوئے 15 کروڑ روپے کر دیا گیا، جسے حالیہ برسوں میں ایک غیرمعمولی اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ بجٹ میں بھاری رقم مختص کی گئی ہے، تاہم تاحال اس کی پوری رقم جاری نہیں کی گئی۔ رواں مالی سال کے دوران اب تک تقریباً چھ کروڑ روپے کے قریب فنڈ جاری ہوا ہے، جس میں سے تقریباً پانچ کروڑ 85 لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ اس طرح مجموعی الاٹمنٹ کے مقابلے میں فنڈ کے اجرا اور خرچ میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کا رجحان

اگر گزشتہ پانچ برسوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کا استعمال مسلسل یکساں نہیں رہا۔ مالی سال 22-2021 میں اس مد میں تین کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے اور تقریباً پوری رقم خرچ بھی ہو گئی تھی۔
اسی طرح 2022-23 میں اگرچہ الاٹمنٹ برقرار رکھی گئی، تاہم خصوصی ایڈجسٹمنٹ کے بعد صرف دو کروڑ 40 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔

مالی سال 24-2023 اس حوالے سے ایک منفرد مثال رہا، جب بجٹ میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کے لیے ایک کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے تھے، لیکن بعد ازاں یہ رقم واپس لے لی گئی۔ نتیجتاً اس سال نہ کوئی فنڈ جاری ہوا اور نہ ہی اس مد میں کوئی خرچ دکھایا گیا۔
اس کے بعد 25-2024 میں ایک بار پھر تین کروڑ روپے مختص کیے گئے اور تقریباً پوری رقم استعمال کر لی گئی، جبکہ اب 26-2025 میں اس فنڈ میں غیرمعمولی اضافہ سامنے آیا ہے۔

صوابدیدی فنڈ کے استعمال کے قواعد

پنجاب میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کے استعمال کا قانونی فریم ورک سنہ 1988 میں بنائے گئے قواعد کے تحت طے کیا گیا ہے۔ ان قواعد کے مطابق یہ فنڈ صوبے کی نادار بیواؤں، یتیموں، مستحق طلبہ، فنکاروں اور ادبی شخصیات کی مالی معاونت، غریب اور نادار مریضوں کے طبی علاج، نمایاں خدمات کے اعتراف میں انعامات، تعلیمی، ثقافتی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں غیرمعمولی کارکردگی پر اعزازات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

قواعد میں شامل آخری شق کے تحت وزیراعلیٰ کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ کسی ایسے مقصد کے لیے فنڈ استعمال کر سکیں جسے وہ مناسب سمجھیں۔ ماہرین کے مطابق یہی شق اس فنڈ کو وسیع صوابدید فراہم کرتی ہے اور اسی وجہ سے ماضی میں یہ مد شفافیت، نگرانی اور ترجیحات کے حوالے سے تنقید اور سوالات کی زد میں رہی ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرِ معیشت ڈاکٹر قیس اسلم کا کہنا ہے کہ صوبائی سطح پر صوابدیدی فنڈ کی الاٹمنٹ کا طریقہ کار ایک طے شدہ بجٹ عمل کے تحت ہوتا ہے۔
ان کے مطابق،
’محکمہ خزانہ بجٹ میں اس مد کے لیے رقم مختص کرتا ہے، جسے صوبائی کابینہ اور پھر صوبائی اسمبلی کی منظوری حاصل ہوتی ہے۔ تاہم فنڈ کے اجرا اور عملی استعمال کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس رہتا ہے، جس کے باعث بجٹ میں رکھی گئی پوری رقم ہر سال خرچ ہونا لازم نہیں ہوتا۔ پنجاب کے حالیہ اعداد و شمار اس بات کی واضح مثال ہیں کہ بعض برسوں میں یہ فنڈ انتہائی کم استعمال ہوا، جبکہ اب اسی مد میں ایک بڑا اضافہ سامنے آیا ہے۔‘

دیگر صوبوں کا تقابلی جائزہ

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی وزرائے اعلیٰ کے لیے اسی نوعیت کی صوابدیدی مدات موجود ہیں، تاہم ان کی مقدار، نام اور قواعد ہر صوبے میں مختلف ہیں۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ بجٹ بحث کے دوران وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کو بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کیے جانے پر اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔
اسی طرح سندھ میں بھی ماضی میں وزیراعلیٰ کی ہدایات پر خرچ کی جانے والی خصوصی گرانٹس بجٹ دستاویزات کا حصہ رہی ہیں، جن پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

مجموعی تناظر

ماہرین کے مطابق موجودہ معاشی حالات، مہنگائی اور ترقیاتی اخراجات کے دباؤ کے تناظر میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ میں پانچ گنا اضافہ ایک اہم پالیسی فیصلہ ہے، جس پر آئندہ دنوں میں مزید سیاسی اور عوامی بحث متوقع ہے۔ شفافیت، نگرانی اور فنڈ کے مؤثر استعمال کے سوالات ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے اس اضافے کے مقاصد اور عملی نتائج پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button