یورپاہم خبریں

وینزویلا پر امریکی حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات – میڈیا رپورٹس

وزیر خارجہ نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کی خودمختاری کے خلاف “کھلی فوجی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے

کاراکاس: میڈیا رپورٹس کے مطابق وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں امریکی حملوں کے نتیجے میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ دعویٰ وینزویلا کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدے دار کے حوالے سے نیو یارک ٹائمز نے کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے ہفتے کے روز کیے گئے۔
وینزویلا کے وزیر خارجہ یوان گل پنٹو (Yvan Gil Pinto) نے 3 جنوری کو جاری ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے کاراکاس میں شہری علاقوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ان حملوں کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور شہری انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

وزیر خارجہ نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کی خودمختاری کے خلاف “کھلی فوجی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے تاکہ سیکیورٹی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کاراکاس کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ متعدد علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا جبکہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق زخمیوں کو بڑی تعداد میں طبی مراکز منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر وینزویلا پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئی۔ امریکی صدر کے بیان کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس دعوے پر آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

وینزویلا کی حکومت نے ان اطلاعات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق بین الاقوامی اداروں اور دوست ممالک سے فوری رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ سفارتی سطح پر امریکی اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ واقعہ لاطینی امریکا میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اس صورتحال پر اقوام متحدہ یا دیگر بین الاقوامی فورمز پر کوئی ہنگامی اجلاس بلایا جاتا ہے یا نہیں۔
فی الحال کاراکاس میں صورتحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے، سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور عوام کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button