پاکستانتازہ ترین

بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ کا پاکستان کا دورہ، دفاعی تعاون اور سٹریٹجک شراکت داری میں اضافہ

دونوں ممالک کے درمیان فضائی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز آئی ایس پی آر کے ساتھ

بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے اسلام آباد میں ایئر ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہم قدم ثابت ہوا۔

پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، اس ملاقات میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان آپریشنل تعاون، ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید بڑھانے، تربیت کی فراہمی اور ایرو اسپیس کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ خصوصی طور پر دونوں ممالک کے درمیان فضائی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

پاکستانی ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بنگلہ دیشی فضائیہ کے سربراہ کو پاکستان فضائیہ کی حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان جامع تربیتی فریم ورک کی پیشکش کی۔ اس فریم ورک میں بنیادی سے لے کر جدید پروازوں کے علاوہ خصوصی تربیتی کورسز بھی شامل ہیں۔

اس موقع پر ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بنگلہ دیشی فضائیہ کو سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی تیز رفتار فراہمی کی یقین دہانی کرائی، اس کے ساتھ ہی پاکستان نے مکمل تربیتی اور طویل المدتی تکنیکی معاونت فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ پاکستانی فضائیہ کی یہ پیشکش بنگلہ دیش کی فضائی صلاحیتوں میں اضافے اور اسے جدید فضائی جنگی تکنیکوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگی۔

بنگلہ دیشی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے پاکستان فضائیہ کے جنگی ریکارڈ کی تعریف کی اور اس کی آپریشنل مہارت سے استفادہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی فضائیہ اپنے پرانے طیاروں کی دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت کی ضرورت محسوس کرتی ہے، اور اس ضمن میں پاکستان فضائیہ کی معاونت کی امید کی جاتی ہے۔

اس ملاقات میں ایئر ڈیفنس ریڈار سسٹمز کے انضمام اور جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بنگلہ دیشی فضائیہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ فضائی نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی تجویز دی گئی، جس سے دونوں ممالک کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔

دورے کے دوران بنگلہ دیشی وفد نے پاکستان فضائیہ کے مختلف اہم مراکز کا دورہ بھی کیا، جن میں نیشنل آئی ایس آر اینڈ انٹیگریٹڈ ایئر آپریشنز سینٹر، پی اے ایف سائبر کمانڈ، اور نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک شامل ہیں۔ ان مراکز میں انہیں انٹیلی جنس، سائبر جنگ، خلائی آپریشنز، الیکٹرانک وارفیئر اور بغیر پائلٹ فضائی نظاموں کی صلاحیتوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی تعلقات کا غماز ہے اور دونوں ممالک کے دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور طویل المدتی سٹریٹجک شراکت داری کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔

دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دفاعی تعاون کے فروغ سے نہ صرف دونوں فضائیہ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا، بلکہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات کی مزید استحکام بھی حاصل ہو گا۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے دفاعی تعلقات کا نیا باب

یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کی تاریخ میں کئی پیچیدہ مسائل ہیں، تاہم دفاعی میدان میں اس نوعیت کا تعاون دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی جہتیں لا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فضائی دفاعی صلاحیتوں کے اشتراک سے نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی سطح پر دونوں ممالک کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی تعلقات کی اس مضبوطی سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں بہتری آئے گی، بلکہ اس سے جنوبی ایشیا کے مجموعی سیکیورٹی ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button