کاروباراہم خبریں

بینک آف پنجاب میں کریڈٹ کارڈز کے ذریعے غیر معمولی ٹرانزیکشنز: بینک کا سائبر حملے کے دعووں کی تردید

یہ معاملہ کسی سائبر حملے یا بیرونی مداخلت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ سسٹم میں ایک عارضی تکنیکی خرابی کے باعث بنا

انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

لاہور: بینک آف پنجاب میں حالیہ دنوں میں کریڈٹ کارڈ سسٹم میں غیر معمولی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں جس پر سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ میں بینک پر مبینہ سائبر حملے کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم، بینک کی انتظامیہ نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

کریڈٹ کارڈ سسٹم میں بے ضابطگیاں

تفصیلات کے مطابق، بینک آف پنجاب کے کریڈٹ کارڈ سسٹم میں حالیہ دنوں میں کچھ ٹرانزیکشنز میں بے ضابطگیاں نوٹ کی گئیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے کو ایک سائبر حملے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ بینک کے ترجمان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاملہ کسی سائبر حملے یا بیرونی مداخلت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ سسٹم میں ایک عارضی تکنیکی خرابی کے باعث بعض صارفین غیر مجاز لین دین کرنے کے قابل ہو گئے تھے۔

بینک کا وضاحتی اعلامیہ

بینک آف پنجاب نے اس مسئلے پر باضابطہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک تکنیکی خرابی تھی جس کی وجہ سے کریڈٹ کارڈ سسٹم میں غیر معمولی لین دین ہوئے۔ بینک نے واضح کیا کہ یہ معاملہ کسی سرکاری سکیم یا پروگرام جیسے "آسان کاروبار کارڈ” یا دیگر حکومتی منصوبوں سے منسلک نہیں تھا۔ یہ صرف محدود تعداد میں بینک کے کریڈٹ کارڈ صارفین کو متاثر کرنے والا واقعہ تھا۔ بینک کی انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ جیسے ہی تکنیکی مسئلے کی نشان دہی ہوئی، اسے فوراً دُور کر دیا گیا اور سسٹم میں موجود خلا کو بند کر دیا گیا۔

بینک آف پنجاب کے ترجمان نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ حالیہ سسٹم اپ ڈیٹ (جو 2 جنوری کو ہوا) کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں تھا اور دونوں معاملات کو آپس میں جوڑنا درست نہیں ہے۔ بینک نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ رقوم کی وصولی اور دیگر متعلقہ اقدامات بینک کے طے شدہ طریقِ کار کے مطابق جاری ہیں۔

متاثرہ صارفین کی ادائیگی کا عمل شروع

بینک نے کہا کہ زیادہ تر متاثرہ صارفین سامنے آ چکے ہیں اور اوور لِمٹ استعمال کی گئی رقوم کی ادائیگی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ بینک کے مطابق اس واقعے کا بینک کے معمول کے آپریشنز پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے اور کام جاری ہے۔ بینک کی انتظامیہ نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ سوشل میڈیا پر نقصان کی مجموعی رقم سے متعلق جو اعدادوشمار اور دعوے گردش کر رہے ہیں، وہ قیاس آرائی اور مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔

صارفین کو آگاہی اور احتیاط کی ہدایت

بینک آف پنجاب نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ متاثرہ کریڈٹ کارڈ صارفین سے براہِ راست رابطہ کر لیا گیا ہے اور انہیں اس معاملے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ جن صارفین سے ابھی تک رابطہ نہیں کیا گیا، وہ اس معاملے سے متاثر نہیں ہوئے اور انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مزید برآں، بینک نے اپنے صارفین کو خبردار کیا کہ وہ کسی بھی غیر مجاز کال، پیغام یا پیش کش سے محتاط رہیں۔ بینک نے کہا کہ صارفین صرف بینک کی تصدیق شدہ ہیلپ لائن پر مجاز افسران سے تصدیق کے بعد ہی کسی مالی معاملے پر بات کریں۔

سائبر فراڈ سے آگاہی

بینک آف پنجاب نے اس وضاحتی بیان کو عوامی مفاد میں جاری کیا ہے تاکہ غلط معلومات کی روک تھام کی جا سکے اور صارفین کو سائبر فراڈ سے متعلق آگاہی فراہم کی جا سکے۔ بینک نے اپنے صارفین کو مزید معلومات یا وضاحت کے لیے اپنی ہیلپ لائن پر رابطہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

نتیجہ

بینک آف پنجاب کی جانب سے جاری کردہ وضاحت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بینک کی سسٹم میں موجود خرابی ایک عارضی تکنیکی مسئلہ تھا اور اس کا سائبر حملے یا بیرونی مداخلت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بینک نے اپنے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مسئلے کو فوراً حل کر لیا گیا ہے اور مزید اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

اس بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کو سائبر فراڈ سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے اور ہمیشہ بینک کے تصدیق شدہ ذرائع سے ہی مالی معاملات کی تصدیق کرنی چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button