پاکستاناہم خبریں

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا 27ویں آئینی ترمیم پر تنقید، پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر حملے کی مذمت

وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے عدالتی آزادی کو ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے مسلح افواج کی قیادت کے اسٹرکچر میں تبدیلی کرنے پر سخت تنقید کی گئی ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل کے حق اور قانون کی حکمرانی پر ایک منظم اور مسلسل حملہ قرار دیا ہے۔ تنظیم نے اس ترمیم کا فوری طور پر ازسرِ نو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں اور وعدوں کے مطابق ہو۔

27ویں آئینی ترمیم: تنقید کی لہر

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پانچ روزہ شدید بحث، اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور آخری لمحات میں کی گئی ترامیم کے بعد منظور کی گئی۔ اس ترمیم پر خاص طور پر وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے عدالتی آزادی کو ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے مسلح افواج کی قیادت کے اسٹرکچر میں تبدیلی کرنے پر سخت تنقید کی گئی ہے۔

ایمنسٹی نے کہا کہ اس ترمیم کا مقصد پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ سماعت کے حق اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے حکومت نے صدرِ مملکت اور بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو احتساب سے تحفظ فراہم کیا ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرت میں غیر جواز اختیار کو فروغ دینے کا باعث بن سکتا ہے۔

عدلیہ کی آزادی پر حملہ

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں قائم ہونے والی وفاقی آئینی عدالت آزادی سے محروم ہو گئی ہے اور ججوں کے تحفظ کو کمزور کر دیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس ترمیم کا مقصد عدلیہ کے غیر جانبدارانہ کردار کو کم کرنا ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی سیاسی یا انتظامی مداخلت کو جواز فراہم کیا جا سکے۔

تنظیم نے یہ بھی کہا کہ یہ ترمیم سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں اور آئینی تشریح کے حوالے سے مزید ابہام پیدا کرے گی، جس کے نتیجے میں ججوں کے فیصلے دباؤ میں آ سکتے ہیں اور عدلیہ کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔

ترمیم کی تیز منظوری اور مشاورت کی کمی

ایمنسٹی نے اس بات پر شدید اعتراض کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کو انتہائی عجلت میں منظور کیا گیا۔ تنظیم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس ترمیم پر رائے دینے کے لیے سول سوسائٹی، اپوزیشن جماعتوں اور قانونی برادری کو مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ اس ترمیم کے مسودے کو 8 نومبر 2025 کو سینیٹ میں پیش کیا گیا، جس کے بعد اس کی منظوری صرف چند گھنٹوں میں حاصل کر لی گئی۔ تنظیم نے کہا کہ اس عمل میں قانون سازوں اور متعلقہ فریقین سے مشاورت کی کمی اس بات کا غماز ہے کہ حکومت نے عدلیہ اور دیگر اہم اداروں کو نظر انداز کیا۔

ججوں کی تقرری اور سیاسی مداخلت کے خدشات

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری کا عمل انتظامیہ کے مکمل کنٹرول میں آ گیا ہے۔ تنظیم نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے طریقہ کار کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے، نئے ججوں اور چیف جسٹس کی تقرری براہ راست صدر نے وزیراعظم کے مشورے پر کی۔ اس کے نتیجے میں ججوں کی تقرری میں سیاسی مداخلت کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

26ویں اور 27ویں ترمیم کے اثرات

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 26ویں آئینی ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2024 میں منظور ہونے والی اس ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل بدل دی گئی تھی، جس میں پارلیمنٹ کے ارکان کو شامل کیا گیا تھا اور عدالتی ارکان کو اقلیت میں کر دیا گیا تھا۔ تنظیم نے کہا کہ یہ اقدام ججوں کی تقرری کے عمل کو سیاسی بنانے کی جانب ایک قدم تھا، جس سے عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری پر سوالات اٹھنے لگے تھے۔

عدلیہ کے تحفظات اور دباؤ کی کہانیاں

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں عدلیہ پر حملوں اور ججوں پر دباؤ کی بڑھتی ہوئی شکایات کا حوالہ دیا۔ تنظیم نے مارچ 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کے کھلے خط کا ذکر کیا، جس میں ججوں نے حکومتی اتحاد اور فوج سے متعلق اہم مقدمات میں مداخلت اور دھمکیوں کا ذکر کیا تھا۔

اس کے علاوہ، ایمنسٹی نے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے ججوں کو بھیجے گئے مشتبہ خطوط اور ان کے خلاف چلائی جانے والی آن لائن کردار کشی کی مہمات کو تشویشناک قرار دیا۔ تنظیم نے کہا کہ یہ حالات عدلیہ کے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ فیصلوں کو متاثر کر رہے ہیں۔

تاحیات استثنیٰ: طاقت کے بے لگام استعمال کا خطرہ

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو دیے گئے تاحیات فوجداری استثنیٰ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ تنظیم کے مطابق اس استثنیٰ سے طاقت کا بے لگام استعمال ممکن ہو سکتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ ایمنسٹی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون میں محدود استثنیٰ کی گنجائش تو ہے، مگر سنگین بین الاقوامی جرائم جیسے جنگی جرائم یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

تشویشات اور مستقبل کے خدشات

ایمنسٹی نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے اثرات پاکستان کے عدلیہ، انسانی حقوق، اور قانون کی حکمرانی پر سنگین اثرات ڈال سکتے ہیں۔ تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ترمیم پر دوبارہ غور کرے اور اس کی تمام شقوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق ڈھالے۔

ایمنسٹی نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ پاکستان میں عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائے تاکہ مستقبل میں سیاسی یا انتظامی مداخلت سے آزاد عدلیہ قائم رہ سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button