
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان نیوی (پی این) نے نیشنل ہائیڈروگرافک آفس کے ذریعے چین کے دوسرے انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی (CIO) کے ساتھ مل کر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی کی قیادت میں ایک تاریخی پاک چین مشترکہ سمندری سفر شروع کیا ہے۔ یہ سمندری مشن PNS BEHR Masah، جو ایک جدید تحقیقاتی جہاز ہے، کی مدد سے پاکستان کے پانیوں میں سمندری حرکیات (ocean dynamics) کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
مشترکہ اوشیانوگرافک کروز کا مقصد
یہ کروز، جو پاکستان اور چین کے درمیان سائنسی تعاون کی ایک مثال ہے، سمندری تحقیق اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس کا مقصد پاکستانی پانیوں میں سمندری حرکیات کو بہتر طور پر سمجھنا اور تحقیقاتی نتائج کو حاصل کرنا ہے تاکہ شمالی بحیرہ عرب میں ماحولیاتی تشخیص، بحری منصوبہ بندی اور علاقائی سمندری آگہی میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس مشن کے ذریعے سمندر کی گہرائیوں، جریان، اور دیگر سمندری خصوصیات کو ناپا جائے گا تاکہ سمندری نظام کی بہتر نگرانی اور حفاظت ممکن ہو سکے۔
تحقیقی جہاز PNS BEHR Masah
اس تحقیقی مشن کے لیے پاکستان نیوی کے سروے جہاز PNS BEHR Masah کو تعینات کیا گیا ہے۔ یہ جہاز جدید سائنسی آلات سے لیس ہے، جو سمندری پانیوں کی گہرائی، اس کی گردش، سمندری حیات کے اثرات اور ماحولیاتی معیار پر تحقیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ PNS BEHR Masah نے اس سائنسی مشن کے دوران سمندری مواد کی تشخیص کے لیے مختلف تکنیکی آلات کا استعمال کیا تاکہ ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کا پتہ چلایا جا سکے۔
تحقیقی نتائج اور علاقائی سمندری آگہی
اس کروز کے دوران حاصل ہونے والے سائنسی نتائج سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے سمندری ماحولیاتی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔ ان نتائج کو شمالی بحیرہ عرب کی ماحولیاتی تشخیص میں اہمیت حاصل ہوگی، جہاں ماحولیاتی تبدیلیوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تحقیقی نتائج سے حاصل ہونے والی معلومات بحری منصوبہ بندی میں بھی معاون ثابت ہوں گی، خاص طور پر ساحلی علاقوں میں قدرتی آفات کی پیش گوئی اور ان کے اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے۔
پاکستان اور چین کے درمیان اس مشترکہ اوشیانوگرافک کروز کے دوران جو تحقیقی ڈیٹا جمع کیا جائے گا، اس کا مقصد نہ صرف ماحولیاتی تحقیق کو آگے بڑھانا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سمندری سائنس میں تعاون کو مزید مستحکم کرنا بھی ہے۔
علاقائی سمندری تعاون میں اضافہ
یہ مشترکہ سمندری کروز پاکستان اور چین کے درمیان سمندری سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔ دونوں ممالک کا اس مشن میں تعاون ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر سمندری ماحول کی حفاظت اور آگہی کو بڑھانا، تمام ممالک کا مشترکہ فرض ہے۔ اس کروز کے نتائج سے نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ جنوبی ایشیا اور بحیرہ عرب کے دیگر ممالک بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔
پاکستانی نیوی کی قیادت اور تحقیقی مہارت
پاکستان نیوی کی قیادت نے اس تحقیقی مشن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مشن پاکستان کے سمندری وسائل کی تحقیق اور ان کے تحفظ کی سمت میں ایک اہم قدم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی این کی طرف سے اس کروز کے دوران سمندری تحقیق کی قیادت اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان نیوی نہ صرف ملکی دفاع میں پیش پیش ہے بلکہ سائنسی تحقیق اور ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں بھی اپنی اہمیت بڑھا رہا ہے۔
چین کے انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی کا کردار
چین کے دوسرے انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی کی شمولیت اس کروز میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔ چین نے عالمی سطح پر سمندری تحقیق اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں اہم کارنامے سرانجام دیے ہیں، اور اس کروز میں اس کا حصہ سمندری حرکیات کی بہتر تفہیم میں پاکستان کی مدد کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے ماہرین کے درمیان اس سائنسی مشن کے دوران ہونے والی بات چیت اور تعاون، نہ صرف سائنسی لحاظ سے بلکہ عالمی سمندری تحفظ کے حوالے سے بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
مشترکہ تحقیقاتی منصوبوں کا مستقبل
یہ مشترکہ اوشیانوگرافک کروز صرف ایک آغاز ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان اس نوعیت کے مزید تحقیقی منصوبے مستقبل میں ہونے کا امکان ہے، جو دونوں ممالک کی سمندری سائنس کی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کی پالیسیوں کو مزید مستحکم کریں گے۔ دونوں ممالک کی حکومتی اور تحقیقاتی ادارے سمندری تحقیق کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے ذریعے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
اختتام
پاکستان نیوی اور چین کے دوسرے انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی کے درمیان یہ مشترکہ سمندری سفر نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سائنسی تعلقات کو مستحکم کرے گا بلکہ اس سے شمالی بحیرہ عرب اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سمندری ماحولیاتی تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔ اس کروز کے ذریعے جمع کیے جانے والے سائنسی ڈیٹا سے نہ صرف سمندری منصوبہ بندی میں مدد ملے گی بلکہ علاقائی سمندری آگہی میں اضافہ بھی ہوگا، جو کہ عالمی سطح پر سمندری ماحول کی بہتر حفاظت کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو گا۔


