
جرمنی اس وقت صحت کے شعبے میں شدید افرادی قوت کے بحران سے دوچار ہے جہاں سب سے زیادہ کمی نرسز کی محسوس کی جا رہی ہے۔
جرمن حکام کی جانب سے غیرملکی نرسوں کو ملازمت کی پیشکش کے باوجود اُن پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ محض نرسنگ کی ڈگری یا تجربہ جرمنی میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا بلکہ جرمن زبان میں مہارت اور تعلیمی و پیشہ ورانہ اسناد کی باقاعدہ منظوری بنیادی شرط ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق جرمنی میں نرسز کے لیے زبان کی کم از کم سطح B2 مقرر کی گئی ہے تاکہ وہ مریضوں، ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کر سکیں اور جرمن ہیلتھ کیئر نظام کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
جرمنی میں نرسنگ ایک ریگولیٹڈ پروفیشن ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی غیرملکی نرس کو وہاں کام کرنے کے لیے اپنی ڈگری اور تربیت کو جرمن معیار کے مطابق ثابت کرنا لازم ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ’آنرکنونگ‘ کہلانے والا باضابطہ عمل اختیار کیا جاتا ہے جس کے تحت جرمن ادارے یہ جانچتے ہیں کہ آیا پاکستان سے حاصل کی گئی نرسنگ کی تعلیم اور عملی تربیت جرمنی کے نرسنگ نصاب اور تقاضوں کے مساوی ہے یا نہیں۔
اگر کسی امیدوار کی اسناد مکمل طور پر ہم پلہ قرار نہ پائیں تو جرمن حکام جزوی منظوری دیتے ہیں، جس کے بعد متعلقہ نرس کو اضافی تربیتی کورس، عملی اپٹیشن پروگرام یا نالج ٹیسٹ مکمل کرنا پڑتا ہے تاکہ جرمن معیار کے مطابق مہارت کا فرق پورا کیا جا سکے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کا کہنا ہے کہ پاکستانی نرسز کے لیے جرمنی میں ملازمت کے امکانات موجود ضرور ہیں تاہم اس کے لیے مرحلہ وار اور منظم تیاری ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے امیدوار کو جرمن زبان سیکھ کر B2 لیول حاصل کرنا ہوتا ہے، اس کے بعد اپنی نرسنگ ڈگری، تجربے کے سرٹیفکیٹس اور دیگر دستاویزات کی تصدیق کروا کر جرمنی کے متعلقہ آنرکنونگ ادارے کو درخواست دینا پڑتی ہے۔
حکام کے مطابق جرمن حکومت نے غیرملکی نرسز کی رہنمائی کے لیے ایک آن لائن نظام متعارف کرا رکھا ہے، جہاں امیدوار اپنے پیشے کے مطابق یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ انہیں کس ادارے سے رجوع کرنا ہے اور کون سی اضافی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔ اسی نظام کے ذریعے یہ بھی جانچ ممکن ہے کہ آیا کسی نرس کی اسناد مکمل طور پر قابلِ قبول ہیں یا جزوی منظوری کے تحت مزید تربیت درکار ہوگی۔
بیورو آف امیگریشن نے پاکستانی نرسز کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیرقانونی یا غیرمصدقہ ایجنٹس سے گریز کریں اور صرف سرکاری یا مستند پلیٹ فارمز کے ذریعے جرمنی میں روزگار کے مواقع تلاش کریں۔
ماہرین کے مطابق اگر پاکستانی نرسز زبان، آنرکنونگ اور قانونی طریقۂ کار کی شرائط پوری کر لیں تو جرمنی میں انہیں نہ صرف باعزت روزگار مل سکتا ہے بلکہ پیشہ ورانہ ترقی اور بہتر معاشی مستقبل کے امکانات بھی روشن ہو جاتے ہیں۔ جرمنی میں صحت کے شعبے کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر پاکستانی نرسز کے لیے یہ موقع ایک سنجیدہ اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے، جس میں درست معلومات، صبر اور مرحلہ وار تیاری کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔




