
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز، رائوٹرز کے ساتھ
چینی وزارت برائے عوامی تحفظ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وانگ نے کہا، ”مختلف خطرات اور چیلنجز سے مؤثر طریقے سے نمٹنے اور دونوں ممالک کی قومی سلامتی اور سماجی استحکام کے مشترکہ تحفظ‘‘ کے لیے کوششیں کی جانا چاہییں۔
پاکستان میں عسکریت پسندوں نے بیجنگ کے تعاون سے چلنے والے اربوں ڈالر کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کو بارہا نشانہ بنایا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ حملے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کا ایک ذریعہ بن چکے ہیں۔

پاکستان کا چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے اسلام آباد میں خصوصی یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس ملاقات کے موقع پر اسلام آباد میں چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی پروٹیکشن یونٹ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے چینی شہریوں کی حفاظت کو پاکستان کی اولین ترجیح قرار دیا۔
پاکستانی خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق محسن نقوی نے یہ اعلان چین کی وزارتِ عوامی تحفظ (منسٹری آف پبلک سکیورٹی) کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران کیا، جہاں چینی وزیر داخلہ وانگ ژیاؤ ہونگ نے ان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ساڑھے تین گھنٹے طویل ملاقات ہوئی، جس میں پاک چین تعلقات، انسدادِ دہشت گردی میں تعاون، پولیس ٹریننگ کے تبادلوں اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ داخلی سلامتی سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس ہر تین ماہ بعد ہوگا، جبکہ دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ سالانہ ملاقاتیں کریں گے۔ انہوں نے دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔



