
صلاح الدین زین اے پی، اے ایف، روئٹرز کے ساتھ
ماکروں، برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حوالے سے ایک اعلامیے پر دستخط بھی کیے، جس کے تحت جنگ بندی کے بعد برطانیہ ، فرانس اور دیگر یورپی اتحادی یوکرینی سرزمین پر فوج تعینات کر سکتے ہیں۔
جرمن فوج کثیرالقومی فورس کا حصہ بن سکتی ہے
جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرس نے عندیہ دیا ہے کہ جرمنی یوکرین میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بننے والی کسی بھی کثیرالقومی فورس میں شامل ہو سکتا ہے اور اس کی افواج ہمسایہ علاقوں میں تعینات ہوں گی۔
پیرس میں یوکرین کے اتحادیوں کے اجلاس کے بعد میرس نے کہا، ’’جرمنی سیاسی، مالی اور فوجی سطح پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس میں جنگ بندی کے بعد نیٹو کے ہمسایہ علاقوں میں یوکرین کے لیے افواج کی تعیناتی بھی شامل ہو سکتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ نگراں فورس پر اتفاق کے بعد جرمن حکومت اور پارلیمنٹ جرمنی کے کردار کی نوعیت اور اس کی حد کا فیصلہ کریں گی، اور فی الحال برلن نے کسی بھی آپشن کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔

زیلنسکی نے اعلامیے کا خیرمقدم کیا
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے پیرس میں اتحادیوں کی جانب سے طے پانے والی سکیورٹی ضمانتوں کو خوش آئند قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’’یہ اہم ہے کہ آج اتحاد کے پاس بامعنی دستاویزات موجود ہیں۔ یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ٹھوس مواد ہے۔‘‘
سوشل میڈیا پر ایک بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ تینوں ممالک( فرانس، برطانیہ اور یوکرین )نے افواج کی تعیناتی، تعداد، مخصوص ہتھیاروں کی اقسام اور مسلح افواج کے ان حصوں پر تفصیل سے کام کیا ہے، جو مؤثر انداز میں کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘
یوکرین میں فوجی مراکز کا قیام
برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی صورت میں برطانیہ اور فرانس یوکرین میں فوجی مراکز قائم کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے یوکرین میں امن معاہدے کی صورت میں افواج کی تعیناتی کے لیے اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں، جو یوکرین کے ساتھ طویل المدتی حمایت کے ہمارے عزم کا ایک اہم حصہ ہے۔‘‘
اسٹارمر نے مزید کہا، ’’جنگ بندی کے بعد برطانیہ اور فرانس پورے یوکرین میں فوجی مراکز قائم کریں گے اور ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کے تحفظ کے لیے محفوظ تنصیبات تعمیر کریں گے تاکہ یوکرین کی دفاعی ضروریات پوری کی جا سکیں۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ امریکہ کی قیادت میں ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کی نگرانی میں حصہ لے گا اور یوکرین کے دفاع کے لیے طویل مدت تک اسلحے کی فراہمی کی حمایت جاری رکھے گا۔



