مشرق وسطیٰاہم خبریں

ایرانی صدر کی سکیورٹی فورسز کو تحمل پسندی کی تلقین

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پہلے ہی ''فسادیوں‘‘ کے خلاف سختی برتنے کا کہہ چکے ہیں، تاہم انہوں نے بھی تاجروں کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیا۔

افسر اعوان ڈی پی اے کے ساتھ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ ملک گیر مظاہروں سے نمٹنے کے دوران اس وقت تک تحمل کا مظاہرہ کریں جب تک کہ قومی سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پہلے ہی ”فسادیوں‘‘ کے خلاف سختی برتنے کا کہہ چکے ہیں، تاہم انہوں نے بھی تاجروں کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیا۔

ایران میں احتجاجی مظاہرے کےد وران ایک ویگن میں آگ لگی ہوئی ہے۔
ایران میں تازہ احتجاج ایرانی کرنسی کی قدر گرنے کے بعد شروع ہوا، جس نے تہران کے مشتعل تاجروں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا۔ یہ مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے ایرانی حکومت کے خلاف سیاسی احتجاج میں بدل گئے۔تصویر: UGC

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق بدھ کو احتجاج کے دسویں دن تک 2,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا تھا۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے نیٹ ورک ‘ہرانا‘ (HRANA) نے آج بدھ کو رپورٹ دی کہ مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے اب تک حکام کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 34 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

گروپ کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 285 مقامات پر احتجاجی واقعات پیش آئے ہیں۔ ایران کے عدالتی پورٹل ‘میزان‘ کے مطابق ایرانی عدلیہ نے بدھ کے روز کہا کہ وہ مظاہروں کی لہر کے جواب میں مقدمات کی سماعت تیز رفتاری سے کرے گی۔

ایرانی شہر ابدنان میں احتجاجی مظاہرین سڑکوں پر۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق بدھ کو احتجاج کے دسویں دن تک 2,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا تھا۔تصویر: UGC

ایران میں تازہ احتجاج ایرانی کرنسی کی قدر گرنے کے بعد شروع ہوا، جس نے تہران کے مشتعل تاجروں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا۔ یہ مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے ایرانی حکومت کے خلاف سیاسی احتجاج میں بدل گئے، جنہیں حکام طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سب سے بڑے مظاہرے مغربی صوبوں میں ہوئے ہیں۔ حال ہی میں زیادہ تر شدید جھڑپیں دیہی علاقوں میں دیکھی گئی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button