
جواد احمد- اے ایف پی کے ساتھ
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں یورپی سیاسی نظام کو سنگین خطرات لاحق ہیں، تاہم انہوں نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کیا کہ یورپ تہذیبی طور پر زوال یا مٹنے کے عمل سے گزر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی تہذیب ایک مضبوط تاریخی، ثقافتی اور فکری بنیاد رکھتی ہے اور اسے محض سیاسی یا وقتی بحرانوں کی بنیاد پر ختم ہوتا ہوا قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز نو فروری کو پیرس میں فرانس کے بیرونِ ملک تعینات سفیروں کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اپنے خطاب میں ژاں نوئل بارو نے عالمی سیاست میں تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات، یورپی یونین کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز، اور یورپ و امریکہ کے تعلقات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا،
“یورپی تہذیب کوئی ایسی شے نہیں جو ہوا میں تحلیل ہو جائے۔ نہیں، یہ ختم نہیں ہو رہی۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارا یورپی سیاسی نظام آج خطرے میں ہے، اس کے باوجود کہ اس نظام نے غیر یقینی عالمی حالات کے دوران بھی غیر معمولی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یورپ سائنس، ٹیکنالوجی، ثقافت اور مالیاتی شعبوں میں بے پناہ وسائل اور صلاحیتوں کا حامل ہے، لیکن اس کے باوجود سیاسی سطح پر عدم استحکام، داخلی اختلافات اور عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی رقابت یورپی اتحاد کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن چکی ہے۔
امریکی پالیسی پر تنقید
ژاں نوئل بارو کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں انتظامیہ نے گزشتہ ماہ دسمبر میں ایک نئی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی جاری کی تھی۔ اس امریکی دستاویز میں یورپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تارکین وطن کی آمد کے باعث یورپ اپنے “تہذیبی طور پر مٹ جانے کے عمل” سے گزر رہا ہے۔ اس اسٹریٹیجی میں یورپ کی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی حمایت اور ان میں “مزاحمت کے فروغ” کی بات بھی کی گئی تھی۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے اس امریکی مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا،
“یورپ تہذیبی طور پر مٹنے کے دہانے پر نہیں ہے۔ جو آوازیں یہ دعویٰ کر رہی ہیں، بہتر ہو گا کہ وہ دوسروں کے زوال کی بات کرنے کے بجائے اپنے مستقبل پر غور کریں۔”
یورپ اور امریکہ کے تعلقات
یورپ اور امریکہ کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ژاں نوئل بارو نے واضح کیا کہ اگرچہ امریکہ یورپ کا ایک اہم اتحادی ہے، لیکن یورپ کو مکمل خودمختاری کے ساتھ فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا،
“یہ یورپ کا حق ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی کسی بھی تجویز کو قبول کرنے سے انکار کر سکے۔ امریکہ ہمارا اتحادی ضرور ہے، مگر ہم ہمیشہ ہر معاملے میں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔”
ان کے مطابق یورپی یونین کو اپنی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی میں خودمختاری برقرار رکھنی چاہیے اور کسی بھی عالمی طاقت کے زیرِ اثر آنے سے گریز کرنا چاہیے۔
یورپی یونین کو درپیش خطرات
فرانسیسی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی یونین کو بیرونی حریفوں اور مخالف قوتوں کی جانب سے منظم خطرات لاحق ہیں، جو یورپی اتحاد، وحدت اور باہمی اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض طاقتیں یورپی ممالک کے اندر اختلافات کو ہوا دے کر اس علاقائی بلاک کو اندر سے توڑنے کے درپے ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے یورپی یونین کو درپیش ایک اور سنگین مسئلے کی نشاندہی کی، جسے انہوں نے “جمہوریت کے حوالے سے تھکن” قرار دیا۔
ان کے الفاظ میں،
“یورپی عوام میں جمہوری عمل کے حوالے سے بڑھتا ہوا اکتاہٹ کا احساس بھی ایک خطرہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔”
مستقبل کے بارے میں انتباہ
ژاں نوئل بارو نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک غیر معمولی اور محتاط انتباہ بھی جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی رہنماؤں کو یہ فرض نہیں کر لینا چاہیے کہ یورپی یونین آئندہ بھی اسی شکل اور استحکام کے ساتھ برقرار رہے گی جیسا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران رہا ہے۔
انہوں نے کہا،
“آج ہمارے پاس اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ہم آئندہ بھی یورپی یونین میں اسی طرح رہیں گے جیسے ہم پچھلے دس برسوں سے رہتے آئے ہیں۔”
ان کے اس بیان کو یورپی سیاست میں بڑھتی ہوئی قوم پرستی، اندرونی اختلافات اور عالمی طاقتوں کے بدلتے توازن کے تناظر میں ایک سنجیدہ انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ کا یہ خطاب نہ صرف یورپی سفارت کاروں کے لیے ایک واضح پالیسی پیغام ہے بلکہ یورپی یونین کے مستقبل پر جاری عالمی بحث میں ایک اہم اضافہ بھی ہے۔



