مشرق وسطیٰاہم خبریں

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران درجنوں افراد ہلاک

ان احتجاجی مظاہروں کے بعد سے اب تک ایرانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کم از کم 45 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں

اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے کے ساتھ

ایران میں مہنگائی اور خراب معاشی حالات کے خلاف جاری مظاہروں کے اب ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر جانے کی اطلاعات ہیں۔ مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن جاری ہے جبکہ مغربی ممالک نے مظاہرین کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق دسمبر کے اواخر میں شروع ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں کے بعد سے اب تک ایرانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کم از کم 45 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

ویڈیو فوٹیج میں مظاہرین کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے خاتمے اور سابق شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی واپسی کے مطالبے کے نعرے لگاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جنہوں نے اپنے حامیوں سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی ہے۔

ہمیں ان مظاہروں کے بارے میں کیا معلوم ہے؟

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے گزشتہ ماہ دارالحکومت تہران میں ایران کی خراب معیشت اور گرتی ہوئی کرنسی کے خلاف شروع ہوئے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ احتجاجی تحریک اب ملک کی قدامت پسند اسلامی حکومت کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی تحریک میں تبدیل ہو گئی ہے۔

جمعرات کے روز دارالحکومت تہران میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھے گئے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سوشل میڈیا پر تصدیق شدہ ویڈیوز میں مظاہرین کو دارالحکومت کے شمال مغربی علاقے میں واقع آیت اللہ کاشانی بولیوارڈ پر جمع ہوتے دیکھا گیا۔

اس کے علاوہ مغربی ایران کے کرد اکثریتی علاقوں، شمال میں تبریز اور مشرق میں واقع شیعہ مسلمانوں کے مقدس شہر مشہد سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

سن 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل ایران کے آخری شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے بھی ان مظاہروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جو اب اپنے گیارہویں دن میں داخل ہو چکے ہیں۔ کئی مظاہرین کو جلاوطن پہلوی خاندان کے حق میں نعرے لگاتے بھی دیکھا گیا۔

رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’ایران کی عظیم قوم! دنیا کی نظریں آپ پر ہیں۔ سڑکوں پر نکلیں اور متحد ہو کر اپنے مطالبات بلند آواز میں پیش کریں۔‘‘

تہران کے ایک بازار میں ہونے والا مظاہرہ
مغربی ایران کے کرد اکثریتی علاقوں، شمال میں تبریز اور مشرق میں واقع شیعہ مسلمانوں کے مقدس شہر مشہد سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیںتصویر: Kamran/Middle East Images/picture alliance

حکومت کا سخت رد عمل

ایرانی سکیورٹی فورسز کے خلاف مظاہرین پر فائرنگ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی تنظیم نیٹ بلاکس نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی حکام نے مظاہروں کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی سختی کے ساتھ محدود کر دی ہے۔

ایران کے اصلاح پسند صدر مسعود پزشکیا ن نے کہا ہے کہ حکام کو مظاہروں سے نمٹتے وقت ’’انتہائی تحمل‘‘ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے عوام کے مطالبات سننے، بات چیت اور مکالمے پر بھی زور دیا۔

جرمنی اور یورپی یونین کی جانب سے مظاہرین کی حمایت

یورپی رہنماؤں نےجمعرات کو مظاہرین کی حمایت کا اظہار کیا۔ جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے پرامن مظاہرین کے خلاف ’’ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں۔

یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’دنیا ایک بار پھر ایران کے بہادر عوام کو کھڑے ہوتے دیکھ رہی ہے۔ یورپ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘

ٹرمپ کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ اگر ایران نے ’’پرامن مظاہرین کو قتل کرنے کی کوشش کی‘‘ تو امریکہ اس کے خلاف فوجی  کارروائی کر سکتا ہے۔ قدامت پسند ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے ”لوگوں کو قتل کرنا شروع کیا‘‘ تو امریکہ ”بہت سخت حملہ‘‘ کرے گا۔

ٹرمپ نے گزشتہ سال ایرانی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے امریکی افواج کو ایران پر حملے کا حکم دیا تھا۔

’عورت، زندگی، آزادی‘کی تحریک کے بعد بڑے مظاہرے

ایران میں جاری ان مظاہروں کو   2023 ء کے ان حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے ، جو کرد نژاد ایرانی خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد کیا گیا تھا۔

مہسا امینی کو ستمبر 2022 میں ایران کی اخلاقی پولیس نے مبینہ طور پر ’’مناسب طور پر حجاب نہ پہننے‘‘ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں وہ پولیس حراست میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ مظاہرین کا ماننا ہے کہ ان کی موت پولیس تشدد کے باعث ہوئی تھی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button