پاکستاناہم خبریں

عراق کی پاکستانی لڑاکا اور تربیتی طیاروں میں گہری دلچسپی، دفاعی تعاون کے نئے امکانات روشن

پاکستان نے بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرانے پر متعدد ممالک کے دفاعی وفود نے پاکستان کے ساتھ تعاون میں اضافہ کیا اور پی اے ایف کے آپریشنل تجربے، تربیتی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے سیکھنے میں دلچسپی ظاہر کی

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز ، عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ

پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق عراق نے پاکستان کے تیار کردہ جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان ایئر فورس کے سربراہ، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، نے اپنے سرکاری دورۂ عراق کے دوران عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اسٹاف پائلٹ مہند غالب محمد رادی الاسدی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات عراقی فضائیہ کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں پاکستانی ایئر چیف کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام، اعتماد اور مضبوط دفاعی تعلقات کی علامت ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملاقات کے دوران دو طرفہ فوجی تعاون کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذاکرات میں مشترکہ تربیتی پروگرامز، صلاحیت سازی، تکنیکی تعاون اور عملی سطح پر اشتراک کو وسعت دینے پر خصوصی زور دیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر قریبی دفاعی روابط وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

عراقی فضائیہ کے سربراہ نے پاکستان ایئر فورس کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تجربے اور تکنیکی ترقی کو سراہا۔ انہوں نے پی اے ایف کی عالمی معیار کی تربیت سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کی اور جے ایف-17 تھنڈر ملٹی رول لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ سپر مشاق تربیتی طیاروں کو اپنی فضائیہ کی ضروریات کے لیے موزوں قرار دیا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق عراق کی جانب سے پاکستانی طیاروں میں دلچسپی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ برسوں میں پاکستان کی دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں توجہ حاصل ہوئی ہے۔ خصوصاً گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ فوجی کشیدگی کے بعد پاکستان کے دفاعی شعبے میں بین الاقوامی دلچسپی اور سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا گیا۔

اسلام آباد نے اس کشیدگی کے دوران فضائی محاذ پر کامیابی کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان نے بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے، جن میں فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ بھارتی حکام نے نقصانات کا اعتراف تو کیا، تاہم طیاروں کی تعداد کے بارے میں وضاحت نہیں کی۔ اس واقعے کے بعد کئی ممالک نے پاکستان ایئر فورس کی ملٹی ڈومین فضائی جنگی صلاحیتوں کا بغور جائزہ لینا شروع کیا۔

اسی تناظر میں متعدد ممالک کے دفاعی وفود نے پاکستان کے ساتھ تعاون میں اضافہ کیا اور پی اے ایف کے آپریشنل تجربے، تربیتی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے سیکھنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ مبصرین کے مطابق اس کشیدگی نے یہ بھی اجاگر کیا کہ جدید چینی فوجی ٹیکنالوجی بعض مواقع پر مغربی ساختہ ہتھیاروں کے مقابلے میں مؤثر کارکردگی دکھا سکتی ہے۔

پاکستان، چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے جے ایف-17 تھنڈر کو کم لاگت مگر مؤثر ملٹی رول لڑاکا طیارے کے طور پر عالمی منڈی میں پیش کر رہا ہے۔ اسلام آباد خود کو ایک ایسے دفاعی سپلائر کے طور پر متعارف کروا رہا ہے جو مغربی سپلائی چین سے ہٹ کر طیارے، پائلٹ تربیت، تکنیکی معاونت اور دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک پرکشش آپشن بن رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز نے حال ہی میں رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان سوڈان کو اسلحہ اور جنگی طیارے فراہم کرنے کے لیے تقریباً 1.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے آخری مراحل میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ سوڈانی فوج کے لیے ایک بڑی تقویت ثابت ہو سکتا ہے، جو اس وقت نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ اس رپورٹ میں سابق اعلیٰ فضائیہ اہلکار اور متعدد ذرائع کا حوالہ دیا گیا تھا۔

اس سے قبل، گزشتہ ماہ روئٹرز نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ پاکستان نے لیبیا کی نیشنل آرمی کو چار ارب ڈالر سے زائد مالیت کا فوجی ساز و سامان فروخت کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کی دفاعی تاریخ کی سب سے بڑی اسلحہ برآمدی ڈیلز میں شمار کیا جا رہا ہے، جس میں 16 جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور بنیادی پائلٹ تربیت کے لیے 12 سپر مشاق تربیتی طیارے شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عراق کے ساتھ ممکنہ دفاعی معاہدے طے پا جاتے ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان کی دفاعی برآمدات میں مزید اضافہ کریں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو بھی مضبوط بنائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button