یورپتازہ ترین

برلن میں بجلی کی طویل بندش: شہریوں اور ماہرین حکومتی انتظامات پر سوال اٹھاتے ہیں

میڈیا رپورٹس کے مطابق برلن کے مضافاتی علاقوں میں تقریباً 45 ہزار گھرانے کئی دنوں تک بجلی سے محروم رہے۔

جواد احمد-جرمنی،وائس آف جرمنی کے ساتھ

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں حالیہ ہفتوں میں پیش آنے والی بجلی کی طویل بندش نے شہریوں اور ماہرین کے درمیان حکومتی انتظامات پر سوالات کو جنم دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک شہری برلن کے میئر کائی ویگنر سے پوچھتے نظر آئے، "یہ اس شہر میں ہو کیا رہا ہے؟”، جو شہریوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور عدم اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برلن کے مضافاتی علاقوں میں تقریباً 45 ہزار گھرانے کئی دنوں تک بجلی سے محروم رہے۔ متاثرین میں بڑی تعداد معمر افراد، معذور شہری اور انتہائی نگہداشت کے محتاج افراد کی تھی، جنہیں ہنگامی حالات میں امداد کے لیے سرکاری اداروں کی بجائے ریڈ کراس جیسی فلاحی تنظیموں پر انحصار کرنا پڑا۔

جرمن میڈیا نے رپورٹ کیا کہ متاثرہ شہریوں نے شکایت کی کہ انہیں صورتحال اور ہنگامی انتظامات کے بارے میں مناسب معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ جنریٹرز کی تعداد ناکافی تھی اور بجلی کی بندش کے دوران مقامی انتظامات کافی مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔

جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا نے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کے لیے جنریٹرز فراہم کیے اور فائر فائٹرز کی ایک ٹیم بھی برلن روانہ کی۔ تاہم وفاقی ایسوسی ایشن برائے تحفظِ اہم انفراسٹرکچر کے نائب چیئرمین ہانز والٹر بوریس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ حکام کی ابتدائی کارروائی کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔

بوریس، جو وِٹن یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ فار اکنامک اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر اور جرمن فوج کے ریزرو افسر بھی رہ چکے ہیں، نے کہا:
"ابتدائی معلومات کی بنیاد پر کون سے فیصلے کیے گئے؟ اس صورتحال کو کیوں فوری طور پر آفت قرار نہیں دیا گیا؟”

ماہرین کے مطابق برلن میں بجلی کی تاروں کی زیادہ تر تعداد زیر زمین بچھائی گئی ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ چونکہ بندش ممکنہ تخریب کاری کے نتیجے میں ہوئی، ابتدائی طور پر صورتحال کی سنگینی واضح ہونی چاہیے تھی۔

جرمنی میں شہری تحفظ اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے وفاقی ادارے کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی فراہمی کا نظام عمومی طور پر محفوظ ہے، لیکن ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کی ذمہ داری مقامی اور ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ جرمن ایسوسی ایشن آف ٹاؤنز اینڈ میونسپلٹیز کے ٹِم فوکس نے کہا کہ عوام کو اپنی مقامی کونسلوں پر اعتماد ہونا چاہیے، اور تقریباً تمام مقامی حکام کے پاس آفات سے نمٹنے کے منصوبے موجود ہیں۔

باویریا کے وزیر داخلہ یوآخِم ہیرمان نے عوام کو یقین دلایا کہ ریاست بحران کی صورت میں بھی بجلی کی فراہمی اور اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔ ہیمبرگ نے بھی گزشتہ اور رواں برس بحرانوں سے نمٹنے کے لیے نیا انتظامی شعبہ قائم کرنے پر تقریباً 25 ملین یورو مختص کیے ہیں۔

مالی وسائل کی کمی اور اداروں کی پیچیدگی آفات سے نمٹنے کے نظام کی مؤثریت کے لیے ایک چیلنج ہے۔ برلن کی فری یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن فوس نے متاثرہ شہریوں کے انٹرویوز کی بنیاد پر بتایا کہ جرمنی میں آفات سے نمٹنے کا نظام متعدد اداروں پر مشتمل اور پیچیدہ ہے، جس کی وجہ سے بعض معاملات میں کارروائی میں تاخیر ہو جاتی ہے۔

فوس نے کہا، "آفات ہمیشہ پیچیدہ صورتحال پیدا کرتی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے لیے تیاری ممکن نہیں۔ طویل مدت میں بجلی کی بندش ناقابلِ اجتناب ہے، اور اگر معلوم ہو کہ ایسا کبھی نہ کبھی ہوگا، تو مناسب منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔”

ماہرین کا کہنا ہے کہ برلن کی موجودہ بجلی کی بندش سے شہریوں میں اہم انفراسٹرکچر کے مؤثر انتظامات پر اعتماد کم ہوا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ خود بھی بہتر تیار رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹِم فوکس کے مطابق، "لوگ اب بہتر تیار رہنا چاہتے ہیں، اور یہ اچھی بات ہے کیونکہ اس سے ہنگامی معلومات کی فراہمی آسان ہو جائے گی۔”

حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرِنڈٹ نے پچھلے سال اعلان کیا تھا کہ 2029 تک آفات سے بچاؤ اور اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے تقریباً 10 ارب یورو خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے باوجود، مالی وسائل اور ادارہ جاتی پیچیدگی اب بھی ہنگامی حالات میں مؤثر ردعمل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button