یورپتازہ ترین

کیمپ روڈریگز، جنوبی کوریا میں کوریا وائپر 26.1 مشقوں کے دوران شہری تربیت کا انعقاد

ہ کوریا وائپر مشقیں اس بات کا عملی مظاہرہ ہیں کہ امریکی اور کوریائی افواج ایک ٹیم کے طور پر کس قدر مؤثر طریقے سے کام کر سکتی ہیں

کیمپ روڈریگز، جنوبی کوریا:جمہوریہ کوریا (ROK) اور امریکی میرین کور نے مشترکہ عسکری مشقوں کے سلسلے کوریا وائپر 26.1 کے دوران کیمپ روڈریگز میں شہری جنگی تربیت (Urban Training) کو کامیابی سے انجام دیا۔ یہ مشقیں خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں دونوں اتحادی افواج کی آپریشنل تیاری، باہمی ہم آہنگی اور مشترکہ جنگی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے منعقد کی گئیں۔
کوریا وائپر ایک بار بار منعقد ہونے والی مشترکہ عسکری مشقوں کی سیریز ہے، جس کا مقصد جمہوریہ کوریا اور امریکی میرین کور کے درمیان تعلقات، باہمی اعتماد اور پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ان مشقوں کے ذریعے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ دونوں اتحادی ممالک کسی بھی ممکنہ خطرے یا جارحیت کے خلاف ایک متحد قوت کے طور پر فوری اور فیصلہ کن ردِعمل دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
کیمپ روڈریگز میں ہونے والی شہری تربیت کے دوران فوجی اہلکاروں نے گنجان آبادی والے علاقوں میں آپریشنز، عمارتوں کی تلاشی، شہری ماحول میں نقل و حرکت، شہریوں کے تحفظ، اور پیچیدہ جنگی حالات میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کے طریقہ کار کی عملی مشق کی۔ اس تربیت میں جدید حربی تکنیکوں، حقیقی منظرناموں اور مشترکہ منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ دونوں افواج کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مؤثر طور پر کارروائی کر سکیں۔
فوجی حکام کے مطابق شہری جنگی تربیت جدید جنگ کا ایک اہم جزو بن چکی ہے، کیونکہ مستقبل کے تنازعات میں شہری علاقوں کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں کوریا وائپر 26.1 کے دوران اس نوعیت کی مشقوں کا انعقاد دونوں افواج کو نہ صرف تکنیکی مہارت فراہم کرتا ہے بلکہ باہمی رابطے، اعتماد اور مشترکہ حکمتِ عملی کو بھی مستحکم کرتا ہے۔
امریکی میرین کور کے ایک سینئر افسر نے اس موقع پر کہا کہ کوریا وائپر مشقیں اس بات کا عملی مظاہرہ ہیں کہ امریکی اور کوریائی افواج ایک ٹیم کے طور پر کس قدر مؤثر طریقے سے کام کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ مشقیں نہ صرف دفاعی نوعیت کی ہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور باز deterrence کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
جمہوریہ کوریا کی فوجی قیادت نے بھی اس تربیت کو دوطرفہ دفاعی تعاون کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ مشقیں دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے طریقہ کار، حربی صلاحیتوں اور فیصلہ سازی کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہیں، جس سے کسی بھی بحران کی صورت میں مشترکہ ردِعمل زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق کوریا وائپر جیسی مشقیں نہ صرف فوجی تیاریوں کا حصہ ہیں بلکہ یہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہیں کہ جنوبی کوریا اور امریکہ اپنے دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے پُرعزم ہیں۔ ان مشقوں کے ذریعے اتحادی افواج اپنی طاقت، نظم و ضبط اور جدید جنگی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرتی ہیں۔
کوریا وائپر 26.1 مشقیں آئندہ ہفتوں تک جاری رہیں گی، جن میں زمینی، فضائی اور لاجسٹک آپریشنز سمیت مختلف عسکری پہلوؤں پر توجہ دی جائے گی۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ان مشقوں کا حتمی مقصد ایک مضبوط، متحد اور تیار دفاعی قوت کی تشکیل ہے جو خطے میں کسی بھی خطرے کا بروقت اور فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button