پاکستاناہم خبریں

پاک بحریہ کے فلوٹیلا کا پورٹ سلطان قابوس، عمان کا دورہ، پاک۔عمان بحری تعاون کے فروغ پر زور

بحرِ عرب اور بحرِ ہند کے اسٹریٹیجک آبی گزرگاہوں میں تعاون نہ صرف دوطرفہ مفادات کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی ناگزیر سمجھا جاتا ہے

مسقط: پاک بحریہ کے فلوٹیلا، جس میں پی این ایس راہ نورڈ، پی این ایس مدگار اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (PMSA) کا جہاز پی ایم ایس ایس کشمیر شامل تھا، نے سلطنتِ عمان کے اہم بحری اڈے پورٹ سلطان قابوس، مسقط کا خیرسگالی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان بحری تعاون کو مزید مضبوط بنانا، پیشہ ورانہ روابط کو فروغ دینا اور خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانا تھا۔

اس فلوٹیلا کی قیادت مشن کمانڈر امیر اقبال نے کی، جبکہ جہازوں کے کمانڈنگ افسران نے دورے کے دوران رائل نیوی آف عمان (RNO) کی اعلیٰ قیادت اور سینئر افسران سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ بحری تعاون، پیشہ ورانہ تبادلہ، تربیتی سرگرمیوں، میری ٹائم سیکیورٹی اور خطے میں ابھرتے ہوئے بحری چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک بحریہ کے فلوٹیلا کا پورٹ سلطان قابوس، عمان کا دورہ، پاک۔عمان بحری تعاون کے فروغ پر زور

پاک بحریہ کے حکام نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور عمان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور دفاعی تعلقات نہایت مضبوط ہیں، اور بحری تعاون ان تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ رائل نیوی آف عمان کی قیادت نے بھی پاک بحریہ کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے دونوں بحری افواج کے درمیان مسلسل رابطے اور مشترکہ سرگرمیوں کو علاقائی امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
دورے کے دوران مختلف پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں جہازوں کے باہمی دورے (Ship Visits)، افسران اور جوانوں کے درمیان کمیونٹی اور پیشہ ورانہ بات چیت، اور تجربات کے تبادلے شامل تھے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد دونوں بحری افواج کے اہلکاروں کے درمیان باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور آپریشنل سمجھ بوجھ کو مزید بہتر بنانا تھا۔
اس دورے کی ایک اہم جھلک رائل نیوی آف عمان کے جہاز KHASAB کے ساتھ مشترکہ بحری مشق PASSEX (Passing Exercise) تھی۔ اس مشق کے دوران سمندری مواصلات، فارمیشن موومنٹس، پیشہ ورانہ ہم آہنگی اور مشترکہ طریقہ کار کی عملی مشق کی گئی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق PASSEX جیسی مشقیں دونوں بحری افواج کی آپریشنل صلاحیتوں کو نکھارنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مشترکہ ردِعمل کو مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

بحری ذرائع کے مطابق پاک بحریہ اور رائل نیوی آف عمان کے درمیان باقاعدہ مصروفیات اس بات کی عکاس ہیں کہ دونوں ممالک خطے میں امن، محفوظ بحری راستوں اور میری ٹائم سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ وژن رکھتے ہیں۔ بحرِ عرب اور بحرِ ہند کے اسٹریٹیجک آبی گزرگاہوں میں تعاون نہ صرف دوطرفہ مفادات کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے خیرسگالی دورے اور مشترکہ مشقیں خطے میں اعتماد سازی، بحری سفارت کاری اور سیکیورٹی تعاون کو فروغ دیتی ہیں۔ پاک بحریہ کا یہ دورہ اس کے اس عزم کا مظہر ہے کہ وہ دوست ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے لیے فعال کردار ادا کرتی رہے گی۔
یہ دورہ خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوا، جس میں دونوں بحری افواج نے مستقبل میں مزید مشترکہ سرگرمیوں، تربیتی تبادلوں اور بحری تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button