Jannah Theme License is not validated, Go to the theme options page to validate the license, You need a single license for each domain name.
کاروبارتازہ ترین

معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب کی پی آئی اے کے بعد بلیو اکانومی میں بڑی سرمایہ کاری کی تیاری، سمندری وسائل کو قومی ترقی کا نیا محرک بنانے کا عزم

پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے 1,000 کلومیٹر سے زائد ساحلی پٹی اور بے پناہ سمندری وسائل سے نوازا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ وسائل اب تک مکمل طور پر استعمال نہیں ہو سکے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت اور سرمایہ کار عارف حبیب نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی بحالی کے منصوبے کے بعد بلیو اکانومی میں سرمایہ کاری پر اپنی توجہ مرکوز کر لی ہے، جسے ماہرین ملکی معیشت کے لیے ایک اہم اور دور رس پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق عارف حبیب کی پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کی اعلیٰ انتظامیہ کے ساتھ ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان کے وسیع مگر غیر استعمال شدہ سمندری وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لا کر ملکی ترقی، زرمبادلہ کے حصول اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں پاکستان کی بلیو اکانومی کی موجودہ صورتحال، اس میں درپیش چیلنجز اور مستقبل کے امکانات پر جامع گفتگو کی گئی۔ عارف حبیب نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے 1,000 کلومیٹر سے زائد ساحلی پٹی اور بے پناہ سمندری وسائل سے نوازا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ وسائل اب تک مکمل طور پر استعمال نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق اس وقت بلیو اکانومی کا ملکی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں حصہ محض 0.5 فیصد ہے، جو اس شعبے کی اصل صلاحیت کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر شپنگ، لاجسٹکس، ماہی گیری، شپ بریکنگ، بندرگاہی خدمات اور سمندری سیاحت جیسے شعبوں میں جدید خطوط پر سرمایہ کاری اور اصلاحات کی جائیں تو بلیو اکانومی پاکستان کی معیشت میں انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے مستقبل کے منصوبوں پر بھی بات چیت ہوئی، جس کے تحت PNSC 2030 تک اپنے بحری بیڑے میں نمایاں توسیع کا ارادہ رکھتی ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن موجودہ 10 جہازوں کے بیڑے کو 2030 تک بڑھا کر 54 جہازوں تک لے جانا چاہتی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ یہ توسیع نہ صرف ملکی درآمدات و برآمدات کے لیے شپنگ کے اخراجات میں کمی کا باعث بنے گی بلکہ پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط بحری تجارتی مرکز کے طور پر بھی ابھرنے میں مدد دے گی۔
دوسری جانب عارف حبیب نے پی آئی اے کی بحالی سے متعلق پیش رفت پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے تمام 34 طیارے ستمبر 2026 تک مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے، جبکہ اس وقت قومی ایئرلائن کے صرف 17 طیارے آپریشنل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی بحالی اور توسیع کے لیے طیاروں کی خریداری اور اپ گریڈیشن پر مجموعی طور پر 135 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، جن میں سے 125 ارب روپے براہِ راست نئے انجنوں کی خریداری اور ایئرلائن کی استعداد بڑھانے پر صرف ہوں گے۔
عارف حبیب کے مطابق پی آئی اے کی توسیع اور بہتری کے عمل میں بین الاقوامی معیار کے ماہرین کو شامل کیا جائے گا تاکہ ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی آئی اے میں تمام بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہوں گی، تاکہ ادارے کی کارکردگی میں پائیدار بہتری لائی جا سکے اور ماضی کی غلطیوں سے بچا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری اور بحالی ملک کے وسیع تر اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام نہ صرف سرکاری خسارہ کم کرنے میں مدد دے گا بلکہ قومی معیشت پر بوجھ بننے والے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنا کر مجموعی اقتصادی استحکام میں بھی کردار ادا کرے گا۔
بلیو اکانومی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عارف حبیب نے اس شعبے میں فوری اصلاحات اور طویل المدتی سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی، پالیسی سپورٹ اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے بلیو اکانومی کو ایک مضبوط معاشی ستون بنایا جا سکتا ہے۔ اس شعبے میں ترقی نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں مدد دے گی بلکہ لاکھوں افراد کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق عارف حبیب جیسے بڑے سرمایہ کاروں کی بلیو اکانومی میں دلچسپی اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی معیشت اب روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ نئے اور پائیدار ذرائع آمدن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر مؤثر حکمت عملی اپنائیں تو آنے والے برسوں میں بلیو اکانومی پاکستان کی اقتصادی ترقی کا ایک اہم ستون بن سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button