Jannah Theme License is not validated, Go to the theme options page to validate the license, You need a single license for each domain name.
کالمزحیدر جاوید سید

جاڑے میں گرما گرم سیاسی سرگرمیاں……حیدر جاوید سید

ہمارے ہمزاد فقیر راحموں کا دعویٰ ہے کہ تحریک تحفظ آئین نامی اتحاد کا آنے والے دنوں کی سیاست میں وہی کردار ہوگا جو سال 1977 میں بننے والے سیاسی اتحاد پاکستان قومی اتحاد ( پی این اے ) کا تھا

تحریک تحفظِ آئین پاکستان نامی اتحاد کے رہنما محمود خان اچکزئی اور سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری و چند دیگران پچھلے دودنوں ( یہ سطور لکھتے وقت ) سے لاہور کے سرد موسم کو گرمانے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ تحریک انصاف کے چند بڑے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ہمراہ سندھ یاترا پر ہیں سہیل آفریدی اپنی جماعت کی اعلان کردہ سٹریٹ موومنٹ کیلئے ورکروں کو متحرک اور شہریوں کو موومنٹ میں شرکت کی دعوت کے مشن پر ہیں تحریک تحفظ آئین والے 8 فروری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کرانے کے مشن پر
گزشتہ روز لاہور میں این جی اوز برانڈز سرخوں کی ایک تنظیم حقوق خلق پارٹی نے اپنی متعدد ذیلی تنظیموں سمیت تحریک تحفظ آئین میں شمولیت کا اعلان کیا تو مجھے ماضی کی ایک مزدور کسان پارٹی والے فتحیاب علی خان یاد آگئے ، پنجاب میں ترقی پسندوں کے این جی اوز برانڈ ایک دھڑے کی پارٹی حقوق خلق پارٹی کے سربراہ ہمارے قابل احترام دوست فاروق طارق ہیں عمار علی جان نامی معروف ترقی پسند ان کی جماعت کے سیکرٹری جنرل
عمار علی جان تیسرے فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں ” میں باغی ہوں ” والی مشہور زمانہ نظم کے خالق ڈاکٹر خالد جاوید جان کے صاحبزادے ہیں ڈاکٹر صاحب کی سیاسی وابستگی پیپلز پارٹی سے مسلمہ رہی ان کے صاحبزادے عمار علی جان ترقی پسند خیالات کے حامل پنجاب کے نوجوانوں کے ایک حلقے میں معروف ہیں کچھ عرصہ قبل عمار علی جان نے کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی حمایت کی تھی اب ان کی جماعت انجمن متاثرین عمران خان المعروف تحریک تحفظ آئین میں شامل ہوگئی ہے
ہمارے ہمزاد فقیر راحموں کا دعویٰ ہے کہ تحریک تحفظ آئین نامی اتحاد کا آنے والے دنوں کی سیاست میں وہی کردار ہوگا جو سال 1977 میں بننے والے سیاسی اتحاد پاکستان قومی اتحاد ( پی این اے ) کا تھا ، ہم نے ان سے پوچھا کہ 1977 والے پی این اے نے یو ڈی ایف نامی اتحاد کے بطن سے جنم لیا تھا نیز یہ کہ اس کے پیچھے مقامی اسٹیبلشمنٹ کے ایک دھڑے کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ بھی تھے آگے چل کر سعودی عرب نے بھی اپنا وزن پی این اے کے پلڑے میں ڈال دیا تھا اب کون کس کے پیچھے ہے ؟ جواباً فقیر راحموں نے ہمیں
ایک جرمن این جی او ٹائپ تنظیم کی لمبی کہانی سنائی جو ماضی میں جمہوری آزادیوں لبرل ازم کے پرچار کیلئے مختلف تنظیموں اور میڈیا ہاوسز کو فنڈز فراہم کرتی رہی اور پھر اینٹی ڈرون تحریک میں سرگرم عمل شخصیات اور تنظیموں کو بذریعہ جمائما گولڈ سمتھ روکڑا ( فنڈ ) فراہم کیا کرتی تھی
فقیر راحموں کی کہانی کو کاٹتے ہوئے ہم نے عرض کیا کہ ہم پوچھ یہ رہے ہیں کہ اگر تحریک تحفظ آئین کا مستقبل پی این اے جیسا ہے تو پسِ پردہ قوتوں بارے ہلکا سا اشارہ دیجئے ؟ موصوف تڑخ کر بولے ساری باتیں میں ہی بتادوں گا تو تم خود کیا کرو گے
بہرحال تحریک تحفظ آئین والے یہ سطور لکھے جانے تک لاہور میں ہی موجود ہیں وہ اپنے اس دورہ لاہور کو رابطہ عوام مہم کا حصہ کہہ رہے ہیں جو آٹھ فروری کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کیلئے ہے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر بننے والے اس اتحاد ( تحریک تحفظ آئین ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم کے چیئرمین سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری ہیں بلاول بھٹو کے سابق ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر بھی اس اتحاد کے سرگرم رہنما ہیں مصطفیٰ نواز سے یاد آیا کہ یہ پیپلز پارٹی میں ہوتے تھے تو عمران خان کے حامی انقلابی شیعہ ہمیں ان کے خاندان کے ایک کالعدم مذہبی جماعت سے روابط اور جائیدادوں پر قبضوں کی کہانیاں سنایا کرتے تھے لیکن خیر اب وہ ” کفارہ ” ادا کرچکے اس لئے ہمارے اُنہی دوستوں کو بڑے محبوب ہیں
چلیں چھوڑیں ان باتوں کو محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا ہے کہ ہم آئین اور ملک بچانے نکلے ہیں اچکزئی صاحب نے تو کل 26 ویں ترمیم کرنے والوں کو توبہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ قوم سے معافی مانگیں جبکہ راجہ ناصر عباس جعفری کہتے ہیں کہ لوگ حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے تو حالات خراب ہو جائیں گے
راجہ صاحب سے ہی منسوب دو بیانات حالیہ دنوں میں مارکیٹ میں آئے ایک بیان میں انہوں نے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت مخالف تحریک میں شامل ہونے کی بجائے خود کو گھروں تک محدود رکھیں دوسرے بیان میں انہوں نے پاکستانی عوام سے اپیل کی کہ وہ 8 فروری کو باہر نکلیں اور ہر چیز کو تہس نہس کردیں
گزشتہ روز لاہور میں ان سے سیاسی و سوشل میڈیا مارکیٹس میں گردش کرتے ان دو بیانات بارے ایک صحافی نے سوال کیا تو انہوں ایران کے حوالے جواب دیا لیکن پاکستان میں ہر چیز کو تہس نہس کرنے کی بات گول کرگئے بہرطور یہ دونوں بزرگ رہنما بہت پرامید ہیں کہ 8 فروری کو عوام باہر نکلیں گے مینڈیٹ چور حکومت کو "وختہ” ڈال دیں گے
ابتدائی سطور میں عرض کیا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی صوبائی ٹیم اور پی ٹی آئی کے چند بڑوں کے ہمراہ سٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے رابطہ عوام مہم کے حوالے سے صوبہ سندھ کے دورے پر ہیں سہیل آفریدی اور ان کے ساتھیوں کے کراچی پہچنے پر سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے ان کا استقبال کیا تھا سندھی سماج کی اس رواداری پر پیپلز پارٹی کی اتحادی نون لیگ کے بڑبولوں اور سوشل میڈیا مجاہدین نے پیپلز پارٹی کو نہ صرف آڑے ہاتھوں لیا بلکہ اس استقبال کو زرداری کی مفاد پرست سیاست کا حصہ بھی قرار دیا یہی نہیں خود تحریک انصاف کے حامی بعض یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا مجاہدین یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ آصف علی زرداری کائیاں آدمی ہے اسے پتہ ہے کہ مستقبل تحریک انصاف کا ہے لہذا سندھ میں اپنے بچوں کے سیاسی مستقبل کو محفوظ رکھنے کیلئے اس نے سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم کو خوش آمدید کہلوایا
دوسری جانب ایک ڈیڑھ دن کے خوشگوار ماحول کے بعد سہیل آفریدی نے حیدرآباد میں دو اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کو زرداری سے آزاد کرانے کا اعلان کردیا
فقیرراحموں کہتے ہیں کہ یہ اعلان حیدرآباد کے اس دوسرے اجتماع میں کیا گیا جسمیں حیدرآباد اور کوٹری میں مقیم پختون برادریوں کے لوگ شریک ہوئے مقامی لوگ دوتین فیصد تھے
اڈیالہ جیل میں قید سہیل آفریدی کے مرشد و قائد عمران احمد خان نیازی نے بھی 2011 اور 2012 کے علاوہ بھی متعدد مواقع پر سندھ کو زرداری رجیم سے آزاد کروانے کا اعلان کیا تھا اب سہیل آفریدی اعلان کررہے ہیں لیکن وہ اس تلخ حقیقت کو نظر انداز کررہے ہیں کہ کراچی اور حیدرآباد میں ان کے استقبالی ہجوموں میں نوے پچانوے فیصد ان شہروں میں مقیم پختون برادریوں کے لوگ ہی شریک ہوئے
یہ سطور تحریر کرتے وقت خبر ملی ہے کہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ کراچی میں منعقد ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے میں بھر پور شرکت کریں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جاری دعووں کی حقیقت یہ سطور لکھے جانے کے چند گھنٹوں بعد کُھل جائے گی جب باغ جناح کراچی میں تحریک انصاف کا جلسہ منعقد ہوگا
حرف آخر یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سہیل آفریدی کی سوموار کی سپہر ہونے والی ملاقات منسوخ ہوگئی ہے تحریک انصاف کے ذرائع نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ملاقات سید مراد علی شاہ کی مصروفیات کے باعث منسوخ کی گئی ہے جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کے ہمنوا دعویٰ کررہے ہیں کہ ملاقات راولپنڈی کے حکم پر منسوخ کی گئی اس حوالے سے ہمارے سوال پر فقیر راحموں کا کہنا ہے کہ
چُپ کر دڑ وٹ جا عشقے دا نہ کھول خلاصہ

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button