پاکستاناہم خبریں

ترقی یا تباہی؟ لاہور اور اسلام آباد میں سڑکوں کی دوڑ، ہریالی کی پسپائی

لاہور اپنی حدود سے کہیں آگے پھیل چکا ہے، اردگرد کے دیہی اور نیم شہری علاقوں کو نگلتا جا رہا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

لاہور میں آج شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں ٹریفک نسبتاً کم انتشار کا شکار ہو۔ شہر بھر میں فلائی اوورز اور انڈر پاسز کا جال بچھ چکا ہے، مگر اس کے باوجود ٹریفک کا مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔ اس انفراسٹرکچر کی قیمت شہر نے اپنی ہریالی کی صورت میں چکائی ہے۔ نہر، جو کبھی لانگ ڈرائیو کے شوقین افراد کے لیے ایک پُرسکون اور دلکش راستہ ہوا کرتی تھی، آج انڈر پاسز کے باوجود شور، دھوئیں اور بدنظمی کا استعارہ بن چکی ہے۔

ایک وقت تھا جب نہر کے ساتھ سفر اس لیے بھی خوشگوار لگتا تھا کہ شہر جوہر ٹاؤن کے قریب ہی ختم ہو جاتا تھا۔ ٹھوکر نیاز بیگ یا اس سے آگے جانا گویا شہر سے باہر نکلنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ آج صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔ لاہور اپنی حدود سے کہیں آگے پھیل چکا ہے، اردگرد کے دیہی اور نیم شہری علاقوں کو نگلتا جا رہا ہے، اور آبادی کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔

چوڑی سڑکیں، زیادہ گاڑیاں

شہری منصوبہ بندی کے ماہرین دہائیوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ سڑکوں کو چوڑا کرنا اور نئے فلائی اوور بنانا ٹریفک کا مستقل حل نہیں۔ اس کے برعکس، بڑی سڑکیں مزید گاڑیوں کو دعوت دیتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ چند برسوں بعد وہی سڑکیں دوبارہ ناکافی ثابت ہوتی ہیں۔ لاہور اس کی واضح مثال ہے، جہاں کبھی کشادہ سمجھی جانے والی شاہراہیں آج مستقل جام کا شکار رہتی ہیں۔

اس عمل میں وہ لاہور، جو کبھی درختوں، باغات اور کھلے مقامات کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، کنکریٹ کے جنگل میں بدل چکا ہے۔ جو لوگ چند سال پہلے شہر چھوڑ چکے ہیں، ان کے لیے اب پرانے راستے پہچاننا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

اسلام آباد: وہی کہانی، نیا شہر

لاہور کی یہ کہانی اب اسلام آباد میں دہرائی جا رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں وفاقی دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے شدید عوامی ردعمل کو جنم دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں سڑکوں کی توسیع، فلائی اوورز اور انڈر پاسز کی تعمیر کے لیے ہریالی کو قربان کیا جا رہا ہے۔

حکام، بشمول سی ڈی اے اور متعلقہ وزارتوں، کا مؤقف ہے کہ صرف کاغذی شہتوت کے درخت کاٹے گئے جو الرجی کا سبب بنتے ہیں، اور ہر کاٹے گئے درخت کے بدلے تین پودے لگائے جائیں گے۔ ناقدین کے مطابق یہ دلیل نہ صرف سائنسی طور پر کمزور ہے بلکہ گمراہ کن بھی ہے، کیونکہ ایک مکمل بالغ درخت کا نعم البدل چند پودے کبھی نہیں ہو سکتے—خصوصاً جب ان پودوں کے زندہ رہنے کی کوئی ضمانت نہ ہو۔

ترقی کا فرسودہ تصور

اصل مسئلہ درختوں کی کٹائی کا طریقہ نہیں بلکہ وہ ذہنیت ہے جس کے تحت ترقی کو صرف سڑکوں، پلوں اور انٹرچینجز سے ناپا جاتا ہے۔ 1990 کی دہائی سے پاکستانی سیاست میں ترقی کا مطلب یہی سمجھا جاتا رہا ہے کہ زیادہ سڑکیں بنائی جائیں، انہیں چوڑا کیا جائے اور شہر کو دبئی یا امریکا کے کسی ماڈل سے مشابہ بنایا جائے۔

دنیا کے کئی بڑے شہر اب اس ماڈل سے پیچھے ہٹ چکے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ، پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے جگہ، اور ہریالی کے تحفظ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ مگر پاکستان میں، سیاست کی طرح شہری منصوبہ بندی بھی ایک پرانے اور ناکام وژن میں پھنسی ہوئی ہے۔

رفتار کی سیاست اور نمائشی منصوبے

اسلام آباد میں تیز رفتار تعمیرات کو اکثر سیاسی برتری سے جوڑا جاتا ہے۔ ’کس کی رفتار زیادہ ہے‘یہ سوال شہری فلاح سے زیادہ اہم بنا دیا گیا ہے۔ یونیورسٹیوں کی زمین ہو یا سبزہ زار، ہر چیز ترقی کی دوڑ میں قربان کی جا سکتی ہے۔ تعلیم، زمین کے حقوق، غریب اور پیدل چلنے والے شہری، اور شہر کا سماجی کردار، سب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔

احتساب کا فقدان، مستقبل کا بحران

ایسے ماحول میں یہ حیرت کی بات نہیں کہ مختلف علاقوں میں درخت بے دریغ کاٹے گئے۔ کہیں نئی ہاؤسنگ سوسائٹی کی سڑک کے لیے، کہیں کسی اور ترقیاتی منصوبے کے نام پر۔ اس بات پر شاذ ہی سوال اٹھایا جاتا ہے کہ لکڑی سے کس نے فائدہ اٹھایا، یا ان منصوبوں سے اصل میں کس کو فائدہ پہنچا۔

احتساب کے کمزور نظام کے باعث فیصلوں کے نتائج کا بوجھ عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ چند سال بعد، جب اسلام آباد کی فضا بھی لاہور کی طرح آلودہ ہو جائے گی اور درجہ حرارت مزید بڑھے گا، تو شاید ایک بار پھر سارا الزام عالمی موسمیاتی تبدیلی پر ڈال دیا جائے گا۔ اس وقت تک، وہ لوگ جو اس کنکریٹ کے پھیلاؤ سے فائدہ اٹھا چکے ہوں گے، ممکن ہے کہیں اور سبز اور محفوظ علاقوں میں منتقل ہو چکے ہوں۔

سوال جو اب بھی باقی ہے

سوال یہ نہیں کہ ترقی ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کس قسم کی ترقی؟ اگر ترقی کا مطلب درختوں کا خاتمہ، بڑھتی آلودگی، اور ناقابلِ رہائش شہر ہیں، تو شاید اب اس تصور پر نظرِ ثانی کا وقت آ چکا ہے—اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button