
خشک موسم اور کم بارش کے باوجود لاہور کی فضا میں نمایاں بہتری، اے کیو آئی میں مسلسل کمی ریکارڈ
اکتوبر 2025 سے 10 جنوری 2026 کے درمیان لاہور کے مجموعی اے کیو آئی میں 58 پوائنٹس کی بہتری ریکارڈ کی گئی
انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پنجاب حکومت نے پیر کے روز جاری کی گئی ایک تفصیلی تجزیاتی رپورٹ کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ اوسط سے کم بارش اور خشک موسمی حالات کے باوجود 2026 میں لاہور کے ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) میں 2025 کے مقابلے میں نمایاں اور مسلسل بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ بہتری حکومت کی مؤثر پالیسیوں، سخت نگرانی اور ماحولیاتی قوانین کے بلاامتیاز نفاذ کا نتیجہ ہے۔
محکمہ تحفظِ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی پنجاب کی رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2025 سے 10 جنوری 2026 کے درمیان لاہور کے مجموعی اے کیو آئی میں 58 پوائنٹس کی بہتری ریکارڈ کی گئی، جو فضائی آلودگی میں مجموعی کمی اور ماحول میں مثبت تبدیلی کی عکاس ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025-26 کے دوران 102 دنوں میں سے 60 دنوں میں ہوا کا معیار نسبتاً بہتر رہا، جو مجموعی طور پر 20 فیصد بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہ وار بنیادوں پر واضح پیش رفت
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی معیار میں بہتری ماہ وار بنیادوں پر بھی واضح طور پر دیکھی گئی۔ اکتوبر 2025 میں اے کیو آئی میں آٹھ پوائنٹس کی بہتری ریکارڈ کی گئی، جبکہ نومبر 2025 میں نمایاں بہتری سامنے آئی اور اوسط اے کیو آئی نومبر 2024 کے 453 کے مقابلے میں کم ہو کر 261 تک آ گیا، یعنی 192 پوائنٹس کی بڑی کمی۔
دسمبر 2025 میں اگرچہ اوسط اے کیو آئی 247 رہا، جو گزشتہ سال 235 کے مقابلے میں قدرے زیادہ تھا، تاہم اس کے باوجود 14 دن ایسے رہے جنہیں بہتر ہوا کے معیار کے زمرے میں رکھا گیا۔ جنوری 2026 کے ابتدائی 10 دنوں میں بھی مثبت رجحان برقرار رہا، جہاں اوسط اے کیو آئی 192 ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 220 تھا۔ ان دنوں میں سے نو میں سے سات دنوں میں مجموعی طور پر 33 پوائنٹس کی بہتری دیکھی گئی۔
حکومتی اقدامات کا کلیدی کردار
رپورٹ میں فضائی معیار میں بہتری کا سہرا وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اٹھائے گئے سخت اور مؤثر حکومتی اقدامات کو دیا گیا ہے۔ ان اقدامات میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، غیر معیاری ایندھن کے استعمال کی روک تھام، اور صنعتی اخراج پر کڑی نگرانی شامل ہے۔
محکمہ ماحولیات کے مطابق ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی، جدید فیلڈ مانیٹرنگ سسٹمز اور ایک مؤثر جرمانہ و سزا کے نظام نے فضائی آلودگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی قوانین کے سخت نفاذ، مختلف محکموں کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن، اور خصوصی سموگ اسکواڈز کی تعیناتی نے آلودگی کے ہاٹ اسپاٹس پر بروقت کارروائی کو ممکن بنایا۔
جدید ٹیکنالوجی اور ٹریفک کنٹرول
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جدید آلات کے استعمال سے صنعتی اور ٹریفک سے پیدا ہونے والی آلودگی کی نگرانی کو مؤثر بنایا گیا۔ ٹریفک کنٹرول کے خصوصی اقدامات، صنعتی ضابطوں پر سختی سے عملدرآمد، اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف فوری کارروائی نے سموگ کے پھیلاؤ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
خطرناک سموگ دنوں میں نمایاں کمی
محکمہ ماحولیات کے مطابق 2025 کے سموگ سیزن کے دوران “خطرناک” زمرے میں آنے والے دنوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی اقدامات زمینی سطح پر مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
وزیر ماحولیات کا مؤقف
صوبائی وزیر برائے تحفظ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ صحت عامہ کا تحفظ پنجاب حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ہوا کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نہ صرف اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں بلکہ نگرانی کا ایک جدید اور شفاف نظام بھی نافذ کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سموگ اور فضائی آلودگی کے مستقل حل کے لیے طویل المدتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور آنے والے مہینوں میں مزید مؤثر اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔
نتیجہ
ماہرین کے مطابق اگرچہ لاہور کو اب بھی فضائی آلودگی کے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم حالیہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مربوط پالیسی، سخت عملدرآمد اور عوامی تعاون کے ذریعے بہتری ممکن ہے۔ اگر یہ اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو آنے والے برسوں میں لاہور کے فضائی معیار میں مزید نمایاں بہتری متوقع ہے۔







