بین الاقوامیاہم خبریں

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات منسوخ کر دیے، مظاہرین کے لیے مدد کا وعدہ

امریکی صدر کی جانب سے ایران کے ساتھ بات چیت میں یکدم تبدیلی نے بین الاقوامی سطح پر خبروں کی دھوم مچادی ہے

واشنگٹن / تہران:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ متوقع بات چیت اچانک منسوخ کر دی ہے اور ایرانی مظاہرین کے لیے "مدد” فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن اس مدد کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔ ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیا، جہاں انہوں نے ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے اور اپنے اداروں پر قابض ہونے کی اپیل کی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا، "محب وطن ایرانیو، احتجاج جاری رکھو۔ اپنے اداروں پر قبضہ کرو! قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام محفوظ کر لو۔ وہ بڑی قیمت چکائیں گے۔ جب تک مظاہرین کا بے معنی قتل بند نہیں ہوتا، تب تک میں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں۔ مدد راستے میں ہے۔”

اس اعلان کے ساتھ ہی امریکی صدر کی جانب سے ایران کے ساتھ بات چیت میں یکدم تبدیلی نے بین الاقوامی سطح پر خبروں کی دھوم مچادی ہے، کیونکہ یہ اقدام ممکنہ سفارتی راستوں پر ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایران میں مظاہروں کا پس منظر

ایران میں حالیہ حکومت مخالف مظاہرے 28 دسمبر 2025 کو اقتصادی مشکلات اور عوامی غم و غصے کے باعث شروع ہوئے، لیکن جلد ہی یہ وسیع پیمانے پر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر گئے۔ مظاہروں کا دائرہ بڑھتا گیا اور اب یہ ایران کی مذہبی قیادت اور 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے ایک سنگین سیاسی چیلنج بن چکا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، ایران میں مظاہروں کے دوران ہونے والی پر تشدد کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 2,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ امریکی انسانی حقوق کی تنظیم، ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) نے کہا کہ یہ تعداد ایران میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہونے والے کسی بھی احتجاج میں ہونے والی اموات سے کہیں زیادہ ہے۔

HRANA نے مزید کہا کہ حالیہ تشدد نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران پیدا ہونے والے ہلاکت خیز حالات کی یاد تازہ کر دی ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مظاہرین پر تشدد کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں، حالات مزید خراب اور غیر مستحکم ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی ردعمل اور سفارتی اثرات

امریکی صدر کا ایران کے ساتھ مذاکرات منسوخ کرنا عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کے لیے مدد کے وعدے نے ایران میں حکومت کے خلاف مظاہروں کو مزید حوصلہ دیا ہے، جبکہ امریکی حکومت کی واضح پالیسی یا عملی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر اس کی عملی تاثیر محدود ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں انسانی حقوق کی پامالی اور مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں، مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ کی جانب سے دباؤ بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں، لیکن یہ اقدام ایران کے اندرونی سیاسی استحکام اور سپریم لیڈر کے اختیار پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

مظاہرین اور ملکی ردعمل

تہران سمیت دیگر بڑے شہروں میں مظاہرے جاری ہیں اور پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال کے باوجود عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود ہے۔ مظاہرین نے اقتصادی اصلاحات، حکومتی جوابدہی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاجی مظاہروں کو شدت دے دی ہے۔

ایرانی حکومت نے ابھی تک امریکی صدر کے اعلان پر کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا، لیکن ملکی میڈیا میں اس حوالے سے محتاط بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مظاہرین کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لے، تو حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں اور عالمی دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان نے ایران میں سیاسی اور انسانی حقوق کے منظرنامے کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ مظاہرین کے لیے مدد کا وعدہ تو کیا گیا ہے، لیکن عملی اقدامات اور سفارتی حکمت عملی ابھی واضح نہیں۔ عالمی برادری، خاص طور پر انسانی حقوق کی تنظیمیں، ایران میں جاری مظاہروں کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور مستقبل میں امریکی پالیسی اور ایرانی حکومت کے ردعمل سے عالمی تعلقات پر اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button