
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں ایک جانب بھارتی فوج نے پاکستان پر ڈرونز کے ذریعے سرحد پار مداخلت کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، وہیں دوسری جانب پاکستان نے نہ صرف ان الزامات پر خاموشی اختیار کی ہے بلکہ پاک افغان سرحد سے متعلق پھیلائے جانے والے گمراہ کن پروپیگنڈے کو بھی سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی یہ صورتحال سیکیورٹی اور سفارتی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اپندر دویویدی نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے علاقوں میں متعدد ڈرونز داخل ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مبینہ واقعات پر پاکستان آرمی کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے اور بھارت نے واضح الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ اس قسم کی سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔
جنرل اپندر دویویدی کے مطابق دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان منگل 13 جنوری کو ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس دوران بھارت نے پاکستان کے سامنے اپنا مؤقف دوٹوک انداز میں رکھا۔ انہوں نے یہ بات آرمی ڈے (15 جنوری) سے قبل نئی دہلی میں منعقدہ اپنی سالانہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ تازہ ترین واقعہ اتوار 11 جنوری کو پیش آیا، جب پانچ ڈرونز بھارت کے زیر انتظام جموں کے سرحدی علاقے میں داخل ہوئے۔ ان کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران کم از کم آٹھ ڈرونز بھارتی فضائی حدود میں دیکھے گئے، جن کے بارے میں بھارتی فوج کا خیال ہے کہ وہ پاکستان سے پرواز کر کے آئے تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بھارتی فوج کے ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ گزشتہ جمعے کے روز ایک ڈرون کے ذریعے بھارتی حدود میں مبینہ طور پر اسلحہ گرایا گیا۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز عسکری نوعیت کے تھے اور ممکنہ طور پر ان کا مقصد بھارتی فوج کے ردعمل، سرحدی نگرانی کے نظام اور سیکیورٹی تیاریوں کو جانچنا تھا۔
جنرل دویویدی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان ڈرونز کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سرحد پر کہاں سیکیورٹی میں کمزوریاں موجود ہیں، تاکہ مستقبل میں ان راستوں کو استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کو داخل کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا،
“ہم نے پاکستان کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ یہ مداخلت ناقابل قبول ہے اور اسے فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔ یہ پیغام پاکستان تک پہنچا دیا گیا ہے۔”
بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں بھی ان ڈرونز کو فوجی نوعیت کا قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس معاملے پر پاکستان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک ہیں اور ماضی میں کئی جنگوں اور فوجی تصادموں کا سامنا کر چکے ہیں۔ گزشتہ برس مئی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان چار روز تک شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں فضائی حملے شامل تھے۔ یہ کشیدگی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہندو سیاحوں پر ہونے والے ایک حملے کے بعد پیدا ہوئی تھی، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، تاہم اسلام آباد نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔
دوسری جانب اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے پاک افغان بین الاقوامی سرحد سے متعلق پھیلائے جانے والے گمراہ کن اور منفی پروپیگنڈے کو سختی سے رد کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحد ہے اور اسے اسی حیثیت سے سمجھنا اور تسلیم کرنا چاہیے۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ بعض عناصر دانستہ طور پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ریاستی مؤقف کو مشکوک بنانے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے سہیل آفریدی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ ان افراد میں شامل ہیں جو اب تک اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے قاصر ہیں کہ بین الاقوامی سرحدوں کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح، مضبوط اور غیر مبہم ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور بہتر ہمسائیگی کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں، غیر مصدقہ خبروں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غلط معلومات پر یقین کرنے کے بجائے مستند اور ذمہ دار ذرائع سے آنے والی اطلاعات پر اعتماد کریں۔
موجودہ حالات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر نازک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، ڈرونز سے متعلق الزامات اور سرحدی بیانات پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے لیے سفارتی ذرائع اور رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنا نہایت اہم ہے، کیونکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا اشتعال انگیزی خطے کے امن کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔



