
سید عاطف ندیم-پاکستان، وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (GDI) اور بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) کی حمایت یافتہ پروپیگنڈا اکاؤنٹس ایک بار پھر پاکستان اور ایران کے تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے جعلی اور گمراہ کن خبریں پھیلا رہے ہیں۔ حکومتی اور سفارتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اس منفی مہم کا مقصد خطے میں بداعتمادی پیدا کرنا اور دو برادر اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا ہے، جو کسی صورت کامیاب نہیں ہوگا۔
ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ پلیٹ فارمز پر جان بوجھ کر ایسے بیانیے گھڑے جا رہے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ ان خبروں میں پاکستان اور ایران کے تعلقات کو کشیدہ دکھانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور سفارتی رشتے مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔
پاکستان اور ایران: برادر ہمسایہ اسلامی ممالک
حکومتی مؤقف میں دوٹوک انداز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور ایران دو برادر ہمسایہ اسلامی ممالک ہیں اور دونوں کے تعلقات باہمی احترام، خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں پر مبنی ہیں۔ پاکستان ہمیشہ ایران کے ساتھ قریبی، دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں رہا ہے اور مستقبل میں بھی اس پالیسی پر قائم رہے گا۔
ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان ایران میں درپیش مسائل کے پرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی نہ صرف حمایت کرتا ہے بلکہ آئندہ بھی تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور تعاون کو واحد حل سمجھتا ہے۔
پروپیگنڈا مہم کے مقاصد
سفارتی ماہرین کے مطابق افغان GDI اور بھارتی را سے منسلک عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی یہ مہم کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی ان نیٹ ورکس نے پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو سبوتاژ کرنے کے لیے جھوٹی خبریں اور من گھڑت تجزیے پھیلائے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پروپیگنڈے کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا، پاکستان کو سفارتی محاذ پر تنہا دکھانا اور اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا ہے۔ تاہم، پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط، سفارتی رابطے اور مسلسل بات چیت ان سازشوں کو ناکام بنا رہی ہے۔
پاکستان کا ذمہ دارانہ اور اصولی کردار
حکام کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ علاقائی امن و استحکام کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ چاہے افغانستان کی صورتحال ہو، مشرق وسطیٰ کے تنازعات ہوں یا ہمسایہ ممالک کے باہمی معاملات، پاکستان نے ہر فورم پر بات چیت اور پرامن حل کی حمایت کی ہے۔
پاکستانی قیادت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ خطے کے مسائل کا حل تصادم میں نہیں بلکہ تعاون، اعتماد سازی اور سفارت کاری میں مضمر ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات بھی اسی وژن کا حصہ ہیں، جہاں دونوں ممالک باہمی احترام کے ساتھ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عوام سے اپیل
حکومتی ذرائع نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ خبروں اور پروپیگنڈا مواد سے ہوشیار رہیں اور صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مضبوط ہیں اور رہیں گے، اور کسی بھی منفی مہم کو دونوں ممالک کے برادرانہ رشتوں پر اثر انداز ہونے نہیں دیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون خطے کے امن کے لیے نہایت اہم ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دشمن عناصر اسے نشانہ بنانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔






