
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
ورلڈ لبرٹی فنانشل یو ایس اے کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے، جس کی قیادت معروف عالمی فنٹیک فرم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مسٹر زچری وٹ کوف کر رہے تھے، پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، NI (M) HJ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کو پاکستان کے ابھرتے ہوئے معاشی اور مالیاتی منظرنامے میں بین الاقوامی نجی سرمایہ کاری گروپوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا واضح مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستان میں فِن ٹیک سیکٹر کی ترقی، ڈیجیٹل فنانس، مالیاتی شمولیت اور کراس بارڈر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت، نوجوان آبادی اور اصلاحاتی اقدامات کو سرمایہ کاری کے لیے پرکشش قرار دیا۔
پاکستان کی اقتصادی صلاحیت پر عالمی اعتماد
مسٹر زچری وٹ کوف نے گفتگو کے دوران پاکستان میں موجود بے پناہ اقتصادی امکانات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کو مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل فنانس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فنٹیک کے شعبے میں پاکستان کی صلاحیت عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل پاکستان کے ساتھ طویل المدتی تعاون کا خواہاں ہے، جس کا مقصد مالیاتی شمولیت کو بڑھانا، جدید ڈیجیٹل فنانس سلوشنز متعارف کرانا اور سرحد پار مالی لین دین کو مزید مؤثر اور محفوظ بنانا ہے۔
معاشی استحکام اور سرمایہ کار دوست ماحول
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وفد کے خیالات کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں معاشی استحکام، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور قومی ترقی کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبے کی ذمہ دارانہ شراکت ملکی معیشت کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اصلاحات، شفافیت اور پالیسیوں کے تسلسل کے ذریعے ایک ایسا ماحول تشکیل دے رہا ہے جہاں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار بلا خوف و خطر سرمایہ کاری کر سکیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل فنانس جیسے شعبے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
فنٹیک اور قومی ترقی
ملاقات کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ فنٹیک اور ڈیجیٹل فنانس نہ صرف مالیاتی نظام کو جدید بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ عوامی سطح پر بینکاری سہولیات تک رسائی کو بھی آسان بنائیں گے۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں اور کراس بارڈر فنانس کے فروغ سے ترسیلات زر، تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی فنٹیک اداروں کی جانب سے پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کا معاشی اور ڈیجیٹل مستقبل درست سمت میں گامزن ہے۔ اس طرح کی ملاقاتیں نہ صرف سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دیتی ہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں عالمی اعتماد کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔
مستقبل کی سمت
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس امید کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون اور مسلسل مکالمے کے ذریعے پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور عالمی مالیاتی نیٹ ورکس کے ساتھ روابط کو وسعت دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کو خطے میں ڈیجیٹل فنانس اور فنٹیک کا ایک اہم مرکز بنانے کی جانب ایک مثبت قدم سمجھی جا رہی ہے۔




