پاکستاناہم خبریں

’عالمی منڈیوں تک رسائی‘: پاکستان میں خصوصی بزنس پاسپورٹ کے اجرا کی تجویز، سرمایہ کاری کے فروغ کی نئی حکمتِ عملی

پاکستانی کاروباری شخصیات کو عالمی سطح پر زیادہ مؤثر، بااعتماد اور منظم انداز میں متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوا کے ساتھ

حکومتِ پاکستان نے معروف انٹرپرینیورز اور سرگرم کاروباری شخصیات کے لیے خصوصی بزنس پاسپورٹ کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سفر کو آسان بنانا، عالمی منڈیوں تک رسائی میں سہولت فراہم کرنا اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام کاروباری طبقے کو سہولت دینے اور معیشت کو متحرک کرنے کے لیے حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ بزنس پاسپورٹ کے ذریعے پاکستانی کاروباری شخصیات کو عالمی سطح پر زیادہ مؤثر، بااعتماد اور منظم انداز میں متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ وہ بیرونِ ملک تجارتی مواقع، سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داریوں سے بہتر طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔

عالمی رجحان اور پاسپورٹس کی اقسام

عالمی سطح پر کئی ممالک اپنے شہریوں کو مختلف اقسام کے پاسپورٹس جاری کرتے ہیں، جن میں عام (آرڈینری)، سفارتی، سرکاری اور بعض صورتوں میں خصوصی یا سروس پاسپورٹس شامل ہیں۔ ان پاسپورٹس کے حامل افراد کو میزبان ممالک کے قوانین کے تحت مختلف سہولیات حاصل ہوتی ہیں، جن میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول، فاسٹ ٹریک امیگریشن، خصوصی لین اور بعض اوقات لاؤنج تک رسائی بھی شامل ہوتی ہے۔

پاکستان کے مختلف ایئرپورٹس پر ایئرپورٹ منیجر کے فرائض انجام دینے والے سول ایوی ایشن کے سابق افسر عبید عباسی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عام پاسپورٹ کے مقابلے میں سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کو کئی ممالک میں نمایاں سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق، ’’سفارتی پاسپورٹ کے حامل افراد کو اکثر ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت ملتی ہے، جب کہ امیگریشن کاؤنٹرز پر فاسٹ ٹریک اور خصوصی لین کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری یا آفیشل پاسپورٹس سرکاری امور کے لیے سفر کرنے والے اہلکاروں کو جاری کیے جاتے ہیں، جس سے انہیں بھی امیگریشن اور ویزا کے مراحل میں نسبتاً آسانی ملتی ہے۔ بعض ممالک میں سروس یا خصوصی پاسپورٹس بھی رائج ہیں، جو مخصوص پیشہ ور افراد، بین الاقوامی اداروں سے وابستہ شخصیات یا معاشی طور پر اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کو دیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں بزنس پاسپورٹ: ایک نیا تصور

پاکستان میں اس وقت زیادہ تر شہری عام پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں، جبکہ سفارتی اور سرکاری پاسپورٹس مخصوص حکومتی عہدوں اور ذمہ داریوں سے مشروط ہیں۔ ایسے میں بزنس پاسپورٹ کا تصور ایک نیا اور منفرد قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا ہدف براہِ راست کاروباری طبقہ ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مجوزہ بزنس پاسپورٹ ان کاروباری شخصیات کو جاری کیا جائے گا جو بیرونِ ملک تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمیوں یا عالمی کاروباری روابط میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ جب ایسے افراد کو سفری سہولتیں حاصل ہوں گی تو وہ عالمی کاروباری مواقع سے بہتر فائدہ اٹھا سکیں گے، جس سے نہ صرف ان کے ذاتی کاروبار بلکہ مجموعی طور پر ملکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔

نادرا اور پاسپورٹ آفس کا کردار

اس منصوبے پر نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے کام کر رہی ہے۔ پاسپورٹ آفس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ یہ منصوبہ اس وقت عمل درآمد کے ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے مختلف قانونی، تکنیکی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق اہلیت کے معیار، درخواست کے طریقۂ کار، فراہم کی جانے والی سہولیات اور اجرا کی حتمی تاریخ سے متعلق تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

بزنس کمیونٹی کا ردِعمل

دوسری جانب پاکستانی بزنس کمیونٹی نے اس تجویز کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا ہے۔ پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نمایاں انٹرپرینیورز کے لیے کوئی خصوصی یا ڈیڈیکیٹڈ پاسپورٹ متعارف کراتی ہے تو یہ ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ہوگا۔

انہوں نے کہا، ’’ایک بزنس مین جب بیرونِ ملک سفر کرتا ہے تو وہ صرف اپنے کاروبار کے لیے نہیں بلکہ ملک کی معیشت کے لیے بھی کام کر رہا ہوتا ہے۔ وہ سرمایہ کاری لاتا ہے، تجارتی روابط بناتا ہے اور پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔‘‘

ابراہیم امین کے مطابق اگر بزنس پاسپورٹ کے ساتھ ایئرپورٹس پر فاسٹ ٹریک امیگریشن، علیحدہ کاؤنٹرز اور دیگر عملی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ اقدام محض ایک دستاویز تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو حقیقی معنوں میں فروغ دے گا۔

مستقبل میں دائرہ وسیع کرنے کی تجویز

انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ حکومت مرحلہ وار اس سہولت کا دائرہ وسیع کرے اور مستقبل میں غیر ملکی پیشہ ور افراد، اوورسیز پاکستانیوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ایگزیکٹوز اور فری لانسرز کو بھی اس نوعیت کی سہولت فراہم کی جائے، تاکہ بین الاقوامی سفر آسان ہو اور اس کے مثبت اثرات قومی معیشت پر واضح طور پر سامنے آئیں۔

چیلنجز اور شفافیت کی ضرورت

ماہرین کے مطابق اگر بزنس پاسپورٹ کے منصوبے کو شفاف طریقے سے نافذ کیا گیا اور اس کے لیے واضح، میرٹ پر مبنی معیار مقرر کیا گیا تو یہ پاکستان کے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم تجزیہ کار اس خدشے کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ کسی بھی خصوصی سہولت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مضبوط نگرانی اور احتساب کا مؤثر نظام ناگزیر ہوگا۔

فی الحال حکومت کی جانب سے بزنس پاسپورٹ سے متعلق کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، تاہم حکومتی اشاروں، ادارہ جاتی تیاریوں اور بزنس کمیونٹی کے ردِعمل سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ تجویز مستقبل میں پاکستان کی معاشی پالیسی کا ایک اہم اور نمایاں حصہ بن سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button