
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (UNFCCC) سے دستبرداری کے فیصلے نے عالمی کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی موسمیاتی حکمرانی کو ایک سنگین بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف عالمی سطح پر موسمیاتی تعاون کو کمزور کرتا ہے بلکہ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان، کے لیے نئے چیلنجز اور مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ ایک طرف کثیرالجہتی نظام اور موسمیاتی وعدوں کا تحفظ کیا جائے، جبکہ دوسری جانب امریکہ جیسے طاقتور ملک کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات کو بھی برقرار رکھا جائے۔ یہ مخمصہ پاکستان کے ملکی اور بین الاقوامی موسمیاتی ڈھانچے کو نئی شکل دینے کا باعث بن سکتا ہے۔
عالمی تناظر: ایک غیر معمولی خلا
امریکہ اس وقت واحد ملک بن چکا ہے جو مکمل طور پر بین الاقوامی موسمیاتی فریم ورک سے باہر نکل آیا ہے۔ UNFCCC ایک بنیادی معاہدہ ہے جو عالمی موسمیاتی مذاکرات، اخراج میں کمی کے اہداف اور ترقی یافتہ ممالک سے ترقی پذیر دنیا کی جانب موسمیاتی فنانس کے بہاؤ کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ امریکی دستبرداری کا اثر بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC) تک بھی پھیلا ہوا ہے، جو دہائیوں سے موسمیاتی سائنس کا مستند عالمی ادارہ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مستقبل کی سائنسی رپورٹس کے معیار، جامعیت اور ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر زرعی اخراج اور زمین کے استعمال میں تبدیلی جیسے پیچیدہ شعبوں میں۔
یہ اقدام “مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں” (CBDR) کے اصول کو بھی کمزور کرتا ہے، جو 1992 کے ریو ارتھ سمٹ کے بعد سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے موسمیاتی موقف کی اخلاقی بنیاد رہا ہے۔ دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کے سب سے بڑے تاریخی اخراج کنندہ کے طور پر امریکہ پر ایک خصوصی اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، مگر اس فیصلے نے یہ پیغام دیا ہے کہ واشنگٹن عالمی بقا کے مقابلے میں قلیل مدتی سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔
یورپ کا ردعمل اور قیادت کا نیا دعویٰ
یورپی یونین نے اس پیش رفت پر اخلاقی غصے اور عملی عزم کے امتزاج کے ساتھ ردعمل دیا ہے۔ یورپی گرین ڈیل، کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (CBAM) اور 2050 تک خالص صفر اخراج کے اہداف امریکی شمولیت کے بغیر بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔ یورپ اب واضح طور پر موسمیاتی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے اور ایک ایسے عالمی اتحاد کی قیادت کا خواہاں ہے جس میں امریکہ شامل نہ ہو۔
چین کے لیے سنہری موقع
سب سے اہم جغرافیائی سیاسی نتیجہ چین کے لیے پیدا ہونے والا خلا ہے۔ چین پہلے ہی خود کو کثیرالجہتی اور عالمی تعاون کا علمبردار ظاہر کر رہا ہے۔ امریکہ کی دستبرداری نے چین کو اکیسویں صدی کے سب سے بڑے چیلنج، یعنی موسمیاتی تبدیلی، پر قیادت کا دعویٰ کرنے کا غیر معمولی موقع فراہم کیا ہے۔ سابق امریکی موسمیاتی ایلچی جان کیری کے مطابق یہ فیصلہ “چین کے لیے تحفہ” ثابت ہو سکتا ہے۔
چین اس وقت سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز اور الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں کی عالمی سپلائی چین پر حاوی ہے اور قابل تجدید توانائی کی تعیناتی میں صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ UNFCCC کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے چین ترقی پذیر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کر سکتا ہے اور اندازاً 23 ٹریلین ڈالر کی عالمی کلین ٹیکنالوجی مارکیٹ سے بڑے معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے نازک مگر فیصلہ کن لمحہ
پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک پہلے ہی موسمیاتی خطرات کی زد میں ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کے مستقبل کی جھلک دکھا دی تھی، جب ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ زیرِ آب آیا، 33 ملین افراد متاثر ہوئے اور 30 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا۔ پاکستان کے تازہ ترین قومی سطح پر طے شدہ اہداف (NDCs) کے مطابق 2035 تک موسمیاتی اہداف کے حصول کے لیے تقریباً 565 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جن میں بڑی مقدار بین الاقوامی مالی معاونت سے آنی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی دستبرداری کے بعد پاکستان کو سفارتی تنوع، داخلی اصلاحات اور علاقائی تعاون پر مبنی حکمت عملی اپنانا ہو گی۔
ممکنہ حکمت عملی اور مواقع
سب سے پہلے، پاکستان کو اپنی موسمیاتی شراکت داریوں کو متنوع بنانا چاہیے۔ یورپی یونین اور برطانیہ، اگرچہ مالی دباؤ کا شکار ہیں، مگر وہ اب بھی موسمیاتی کارروائی اور بین الاقوامی تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔ تکنیکی معاونت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور موسمیاتی فنانس کے لیے انہیں پاکستان کے اہم شراکت دار بنایا جا سکتا ہے۔ CBAM کو تجارتی خطرے کے بجائے اپنی معیشت کی ڈی کاربنائزیشن کو تیز کرنے کے ایک محرک کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب، یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہو گی کہ امریکہ کے نکلنے سے چین کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) میں پہلے ہی قابل تجدید توانائی کے منصوبے شامل ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق مستقبل میں آف شور سولر اور ونڈ پارکس، ماس ٹرانزٹ سسٹمز اور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں جیسے جدید اور سبز منصوبوں پر توجہ دینا ضروری ہو گی تاکہ توانائی کی خودمختاری کے ساتھ ساتھ موسمیاتی اہداف بھی حاصل کیے جا سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان دانشمندانہ حکمت عملی اپنائے تو یہ بحران ایک موقع میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ نہ صرف عالمی موسمیاتی فن تعمیر میں اپنا کردار مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ اپنی معیشت اور توانائی کے شعبے کو بھی ایک پائیدار اور محفوظ مستقبل کی جانب لے جا سکتا ہے۔








